
تصویر اے آئی
فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے کا آغاز ہوتے ہی ایک تلخ حقیقت ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گئی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے براعظم ایشیا، جہاں عالمی آبادی کا تقریباً 60 فیصد رہتا ہے، کی نمائندگی کرنے والی نو ٹیموں میں سے صرف دو، جاپان اور آسٹریلیا، آخری 32 ٹیموں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔ یہ نتیجہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ اگرچہ ایشیا کو توسیع یافتہ 48 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ میں ریکارڈ 8 اور نصف کوالیفائنگ مقامات ملے، لیکن عالمی سطح پر اس کی مسابقتی صلاحیت اب بھی محدود دکھائی دیتی ہے۔
اس بار ایران، عراق، اردن، قطر، سعودی عرب، جنوبی کوریا اور ازبکستان جیسے ممالک گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ان میں سے بیشتر ٹیموں کے لیے ورلڈ کپ میں جگہ بنانا ہی ایک بڑی کامیابی تھی، لیکن نتائج کے اعتبار سے وہ عالمی معیار کا مقابلہ پیش نہ کر سکیں۔
Published: undefined
جاپان اس کے برعکس گزشتہ کئی برسوں سے عالمی فٹبال میں اپنی الگ شناخت قائم کر چکا ہے۔ وہ مسلسل پانچویں مرتبہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچا ہے، جو ایشیائی فٹبال کے لیے ایک غیرمعمولی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ تیز رفتار کھیل، منظم حکمت عملی اور یورپی لیگوں میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کی بڑی تعداد نے جاپان کو دنیا کی مضبوط ٹیموں کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔ اب اس کا مقابلہ پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل سے ہوگا، اور برازیل بھی جاپان کو کسی آسان حریف کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔
اسی طرح آسٹریلیا نے بھی مسلسل دوسری مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا کر اپنی ترقی کا ثبوت دیا ہے۔ اگرچہ آسٹریلیا جغرافیائی اعتبار سے ایشیا کا حصہ نہیں، لیکن ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کا رکن ہونے کے باعث وہ ایشیا کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کا اگلا مقابلہ مصر سے ہوگا۔
Published: undefined
تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ایشیا کی مجموعی کارکردگی اس سے بہتر نہیں ہو سکتی تھی؟ خاص طور پر اس وقت جب افریقہ کی 10 میں سے 9 ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب رہیں۔ افریقی ٹیموں کی یہ شاندار پیش رفت اس فرق کو مزید نمایاں کرتی ہے جو دونوں براعظموں کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔
جنوبی کوریا کی ناکامی خاص طور پر حیران کن رہی۔ 2002 کے ورلڈ کپ میں جاپان کے ساتھ مشترکہ میزبان رہنے والی اور سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی یہ ٹیم مسلسل گیارہویں مرتبہ ورلڈ کپ میں شریک ہوئی تھی۔ اس کے باوجود گروپ مرحلے میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک صفر سے غیرمتوقع شکست نے اس کی مہم کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس میچ میں کپتان سون ہیونگ من کو آرام دینے کا فیصلہ بعد میں ایک بڑی حکمت عملی کی غلطی ثابت ہوا، اور ٹیم اس دھچکے سے سنبھل نہ سکی۔
Published: undefined
ایران کی کہانی اس سے مختلف مگر نہایت دردناک رہی۔ میدان کے باہر مشکلات کے باوجود ایرانی ٹیم نے غیرمعمولی عزم کا مظاہرہ کیا۔ امریکی ویزا پابندیوں کے باعث انہیں ہر میچ سے پہلے اور بعد میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سفر کرنا پڑا۔ ایران فٹبال فیڈریشن کے کئی سینئر عہدیداروں اور معاون عملے کو ویزا بھی نہیں مل سکا۔
ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ایران کے نیوزی لینڈ، نیدرلینڈز اور مصر کے خلاف تینوں میچ برابری پر ختم ہوئے اور گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہا۔ مصر کے خلاف آخری میچ میں وی اے آر کے متنازع فیصلے کے ذریعے ایران کا ایک گول آف سائیڈ قرار دے دیا گیا، جس نے اس کی امیدوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے باوجود ایران بہترین تیسرے نمبر کی ٹیموں میں شامل ہو کر اگلے مرحلے تک پہنچنے کی امید لگائے بیٹھا تھا، لیکن الجزائر اور آسٹریا کے درمیان 3-3 سے ڈرا نے اس کے تمام امکانات ختم کر دیے۔
Published: undefined
ایرانی کپتان مہدی طارمی کی مایوسی ان کے الفاظ میں صاف جھلکتی تھی۔ مصر کے خلاف میچ کے بعد انہوں نے کہا، "یہ ایک تباہ کن ورلڈ کپ تھا، مکمل تباہ کن۔" ان کا ردعمل صرف نتائج کی وجہ سے نہیں بلکہ ان غیرمعمولی مشکلات کا اظہار بھی تھا جن کا سامنا کسی بھی عالمی ٹورنامنٹ میں شاید ہی کسی اور ٹیم کو کرنا پڑا ہو۔
ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے لیے بھی یہ نتائج مایوس کن ہیں۔ 2023 کے ایشین کپ کے چاروں سیمی فائنلسٹ اس مرتبہ گروپ مرحلے سے ہی باہر ہو گئے۔ اے ایف سی کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم آل خلیفہ نے اگرچہ سرکاری بیان میں مثبت انداز اختیار کیا، لیکن انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ ایشیائی فٹبال کو عالمی معیار تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت کام کرنا ہوگا۔
Published: undefined
ان کے مطابق، ’’مارے دو نمائندوں کا اگلے مرحلے میں پہنچنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی مقابلہ کس قدر سخت ہو چکا ہے۔ ہماری ٹیمیں ضرور ترقی کر رہی ہیں اور بھرپور جذبہ دکھا رہی ہیں، لیکن دنیا کی بہترین ٹیموں سے فاصلہ اب بھی برقرار ہے اور اسے کم کرنے کے لیے مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔‘‘
اصل سوال یہی ہے کہ یہ فاصلہ کیسے کم ہوگا؟ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ بیشتر ایشیائی ممالک میں مضبوط اور پیشہ ورانہ ڈومیسٹک لیگوں کا فقدان ہے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو اعلیٰ معیار کی مسابقت میسر نہیں آتی، جبکہ یورپ یا جنوبی امریکہ کی بڑی لیگوں میں کھیلنے والے ایشیائی فٹبالرز کی تعداد بھی محدود ہے۔
Published: undefined
اس کے برعکس افریقی ممالک کے متعدد کھلاڑی یورپ کے بڑے کلبوں سے وابستہ ہیں۔ انہیں اعلیٰ کوچنگ، سخت مقابلوں اور عالمی معیار کے ماحول میں کھیلنے کا تجربہ حاصل ہوتا ہے، جس کا فائدہ قومی ٹیموں کو بھی ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افریقی ٹیموں کا اعتماد، جسمانی فٹنس اور حکمت عملی مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔
ایشیا کے لیے جاپان ایک کامیاب ماڈل کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں نوجوانوں کی تربیت، جدید کوچنگ، مضبوط لیگ ڈھانچہ اور یورپی فٹبال سے مسلسل رابطے نے ٹیم کو عالمی سطح پر قابل احترام بنا دیا ہے۔ آسٹریلیا نے بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے اپنی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
Published: undefined
اب پورے ایشیا کی نظریں جاپان اور آسٹریلیا پر ہوں گی کہ وہ ناک آؤٹ مرحلے میں براعظم کا پرچم بلند رکھ سکیں۔ تاہم اس سے بھی زیادہ اہم ذمہ داری ایشیائی فٹبال کے منتظمین پر عائد ہوتی ہے، جنہیں محض ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے پر اکتفا کرنے کے بجائے عالمی معیار کی مسابقت کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔ اگر مضبوط مقامی لیگیں، نوجوان ٹیلنٹ کی بہتر تربیت اور عالمی سطح کے فٹبال نظام سے مؤثر روابط قائم نہ کیے گئے تو ایشیا کے لیے ورلڈ کپ میں حقیقی کامیابی کا خواب ابھی مزید انتظار کا متقاضی رہے گا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined