
فیفا ورلڈ کپ 2026، تصویر سوشل میڈیا بشکریہ @FIFAWorldCup
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ’راؤنڈ آف-16‘ میں ارجنٹائنا اور مصر کے درمیان کھیلا گیا مقابلہ صرف ارجنٹائنا کی 3-2 سے تاریخی واپسی کے لیے ہی نہیں، بلکہ ریفری اور ’ویڈیو اسسٹنٹ ریفری‘ (وی اے آر) کے فیصلوں کے باعث بھی موضوع بحث بن گیا۔ مصر جو 78ویں منٹ تک 2-0 سے آگے تھا، شکست کے بعد کھل کر ریفرنگ پر سوال اٹھانے لگا۔ کوچ حسام حسن نے میچ کے بعد الزام عائد کیا کہ ریفری اور وی اے آر ٹیم نے پورے میچ میں ارجنٹائنا کے حق میں امتیازی رویہ اختیار کیا۔ آئیے ذیل میں سمجھتے ہیں کہ آخر کن 2 فیصلوں کو لے کر تنازعہ کھڑا ہوا۔
پہلا بڑا تناعہ اس وقت پیش آیا جب مصر 1-0 سے آگے تھا۔ مصطفیٰ زیکو نے شاندار کاؤنٹر اٹیک کے بعد گول داغ کر ٹیم کو 2-0 کی برتری دلا دی۔ لیکن وی اے آر نے ریفری فرینکوئس لیٹیکسیئر کو مانیٹر پر بلایا۔ ری پلے دیکھنے کے بعد ریفری نے گول کو منسوخ کر دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ گول بننے سے پہلے مصر کے مڈفیلڈر مروان عطیہ نے لیسانڈرو مارٹنیز کی جرسی کھینچی اور ان کے جوتے پر پاؤں رکھا تھا۔ یہیں سے تنازعہ شروع ہوا، یہ فاؤل مصر کے اپنے ہاف میں ہوا تھا، جبکہ اس وقت ارجنٹائنا اٹیک کر رہا تھا۔ مصر نے وہیں سے گیند چھینی اور تقریباً پورے میدان (قریب 100 گز) کی دوڑ لگا کر گول کر دیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ وی اے آر نے تقریباً 10 سیکنڈ پہلے پیش آئے واقعہ تک جا کر گول منسوخ کیا، جو ضرورت سے زیادہ پیچھے لوٹنا تھا۔ حالانکہ زیکو نے کچھ منٹ بعد پھر گول کر ٹیم کو 2-0 کی برتری دلا دی، لیکن فٹبال ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پہلا گول بھی برقرار رہتا تو اسکور 3-0 ہو سکتا تھا اور ارجنٹائنا کی واپسی تقریباً ناممکن ہو جاتی۔
دوسرا اور سب سے بڑا تنازعہ ارجنٹائنا کے تیسرے گول سے قبل ہوا۔ مصر نے پنالٹی کی 2 اپیلیں کیں۔ ایک واقعہ میں محمد صلاح پر جولین الواریز کے چیلنج کو لے سوال اٹھے، جبکہ دوسرے میں جرسی کھینچنے کی شکایت کی گئی۔ ریفری نے دونوں مواقع پر کھیل جاری رکھا اور وی اے آر نے بھی مداخلت نہیں کی۔ اسی فیصلے نے مصر کے کھلاڑیوں اور کوچ کو سب سے زیادہ ناراض کیا۔ ناقدین کی دلیل تھی کہ جب وی اے آر مصر کے گول کو منسوخ کرنے کے لیے 100 گز پیچھے تک جا سکتا ہے تو پھر ارجنٹائنا کے باکس میں جرسی کھینچنے جیسے واقعہ کا اسی سنجیدگی سے جائزہ کیوں نہیں لیا گیا؟ اسی مبینہ تضاد کو لے کر سب سے زیادہ سوال اٹھے۔
کئی سابق کھلاڑیوں اور ماہرین نے وی اے آر کے فیصلے پر سوال اٹھائے، لیکن کچھ ریفرنگ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں متنازعہ فیصلے تکنیکی طور پر درست تھے۔ ان کے مطابق میک ایلسٹر اور حمدی فتحی کے درمیان جرسی پکڑنے کا معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا کہ پنالٹی دی جائے۔ ساتھ ہی اس وقت گیند دونوں کھلاڑیوں کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں تھا۔ حالانکہ اس پر کچھ شائقین کی رائے الگ ہے اور ان کا ماننا ہے کہ حمدی اس وقت اٹیک پر تھے اور تب جرسی پکڑ کر گرانے سے گیند ان کے قبضے سے نکل گیا۔ لیکن ریفری نے اس پر توجہ تک نہیں دی۔
اسی طرح نیکو گونزالیز اور محمد صلاح کے معاملے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ارجنٹائنا کے کھلاڑی نے پہلے گیند پر کنٹرول حاصل کیا تھا اور اس کے بعد ہوا رابطہ قوانین کے مطابق قابل سزا نہیں تھا۔ اس لیے وی اے آر کی مداخلت کی ضرورت نہیں تھی۔ حالانکہ اس پر بھی مختلف آرا ہیں، کیونکہ ارجنٹائنی کھلاڑی گیند پر کنٹرول نہیں کر پایا تھا اور صلاح سے دور جاتے وقت اس نے اپنا پیر صلاح کے پیر پر مارا تھا۔ صلاح بھی گیند سے زیادہ دور نہیں تھے اور وہ جیسے ہی پیچھے مڑے انہیں گرا دیا گیا۔ باکس کے اندر عام طور پر اسے فاؤل مانا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ میچ کے دوران مصر کو کئی فیصلے اپنے خلاف جاتے ہوئے محسوس ہوئے۔ کھلاڑیوں کو لگا کہ ارجنٹائنا کے کچھ فاؤل پر کارڈ نہیں دکھائے گئے اور کئی 50-50 فیصلے بھی موجودہ عالمی چمپئن کے حق میں گئے۔ جب انجری ٹائم میں اینزو فرنانڈیز نے فاتحانہ گول کیا تو مصر کے خیمے کا غصہ پھوٹ پڑا۔ کوچ حسام حسن نے پریس کانفرنس میں یہاں تک کہا کہ ان کی ٹیم کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور وی اے آر نے ایک جیسے معاملات میں الگ الگ معیار اپنائے۔
مصر اور ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ وی اے آر نے مسلسل ارجنٹائنا کو فائدہ پہنچایا۔ جبکہ ریفرنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ متنازعہ دونوں بڑے فیصلے فیفا کے قوانین کے دائرے میں درست تھے۔ یعنی بحث کا مرکز یہ نہیں ہے کہ وی اے آر موجود تھا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہر اہم واقعہ پر ایک جیسی سنجیدگی اور ایک جیسے معیار اپنائے گئے؟ یہی سوال اس مقابلے کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سب سے مشہور تنازعات میں شامل کر چکا ہے۔ کیونکہ یہی چیزیں مصر کے ساتھ بھی ہوئی تھیں۔ ارجنٹائنا کے کھلاڑیوں نے کبھی ہاتھ جان بوجھ کر مصر کے کھلاڑیوں کے منہ پر مارے، کبھی جان بوجھ کر پیر مارا، لیکن ریفری نے نہ تو فاؤل دیا اور نہ ہی کوئی کارڈ دکھایا۔ لیکن جب لگا کہ میچ ارجنٹائنا کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے تو ریفری کے امتیازی سلوک نے ماحول کو مزید گرما دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر قومی آواز / وپن