فائل تصویر آئی اے این ایس
فیفا عالمی کپ سے قبل امریکہ میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ عراق کے اسٹار اسٹرائیکر ایمن حسین کو امریکا پہنچنے پر ڈٹین کیا اور ایئرپورٹ پر تقریباً سات گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ حسین، عراق کے سب سے اہم کھلاڑیوں میں سے ایک اور ان کے گول نے ملک کی فیفا عالمی کپ میں جگہ حاصل کی، بالآخر ہفتے کی صبح شکاگو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈٹین کئے جانے کے بعد امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔
دریں اثناء عراق کی قومی ٹیم کے فوٹوگرافر طلال صلاح کو 10 گھنٹے سے زائد پوچھ تاچھ کے بعد داخلے سے روک دیا گیا۔نیوز پورٹل ’آج تک ‘ پر شائع خبر کے مطابق عراقی اولمپک کمیٹی کے ایک اہلکار اور قومی فٹ بال ٹیم کے قریبی رابطے میں رہنے والے نے بتایا کہ طویل پوچھ گچھ کے دوران حسین کے فون کی بھی جانچ کی گئی۔ اہلکار نے کہا، "قومی ٹیم کے فوٹوگرافر طلال صلاح کو 10 گھنٹے سے زائد عرصے تک کی گئی، ان کے فون کو بھی اسی طرح کی جانچ پڑتال کا نشانہ بنایا گیا، اور بالآخر انہیں امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا"۔
اس واقعے کے حوالے سے عراقی فٹ بال ایسوسی ایشن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بھی حراست کی اطلاعات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس سال فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ عراق چار دہائیوں میں پہلی بار عالمی کپ میں شرکت کر رہا ہے۔ ٹیم کی کپتانی 30 سالہ حسین کریں گے، ان کے ساتھ ایپسوچ ٹاؤن کے فارورڈ علی الحمادی اور نوجوان کھلاڑی علی جاسم اور یوسف امین شامل ہیں۔ ان کے گروپ میں فرانس، سینیگال اور ناروے شامل ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔