کرکٹ

عالمی کپ 2023: انتہائی دلچسپ مقابلے میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 1 وکٹ سے ہرایا

پاکستانی کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور جنوبی افریقہ کے سامنے 271 رنوں کا ہدف رکھا، جواب میں افریقی ٹیم نے 47.2 اوورس میں 9 وکٹ کے نقصان پر ضروری 271 رن بنا لیے۔

<div class="paragraphs"><p>جنوبی افریقہ کے کھلاڑی، تصویر @ICC</p></div>

جنوبی افریقہ کے کھلاڑی، تصویر @ICC

 

عالمی کپ 2023 میں آج پہلا انتہائی قریبی مقابلہ دیکھنے کو ملا جب جنوبی افریقہ نے پاکستان کو 1 وکٹ سے شکست دے دی۔ 91 رن بنانے والے ایڈن مارکرم کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستانی گیندبازوں نے جنوبی افریقہ کے نچلے آرڈر کے بلے بازوں پر زبردست دباؤ بنایا، لیکن جیت حاصل نہیں کر سکے۔ حالانکہ ایک وقت ایسا ضرور آیا جب حارث رؤف کی گیند پر تبریز شمسی کے لیے ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی گئی تھی اور امپائر نے ناٹ آؤٹ قرار دیا۔ اس آخری وکٹ کو حاصل کرنے کے لیے پاکستانی کپتان بابر اعظم نے ڈی آر ایس لیا جس میں پتہ چلا کہ گیند وکٹ پر ضرور لگتی لیکن وہ ’امپائرس کال‘ تھا۔ یعنی امپائر نے اگر شمسی کو آؤٹ کیا ہوتا تو پاکستان جیت حاصل کر لیتی۔ لیکن اس کے بعد شمسی اور کیشو مہاراج نے سنبھل کر کھیلتے ہوئے پاکستان کے ذریعہ دیے گئے 271 رن کے ہدف کو حاصل کر لیا۔

آج ٹاس پاکستانی کپتان بابر اعظم نے جیتا تھا اور پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ شروعات اچھی نہیں رہی کیونکہ دونوں ہی سلامی بلے باز (عبداللہ شفیق 9 رن، امام الحق 12 رن) جلدی پویلین لوٹ گئے، لیکن کپتان بابر اعظم (50 رن)، محمد رضوان (31 رن)، افتخار احمد (21 رن)، سعود شکیل (52 رن)، شاداب خان (43 رن) اور محمد نواز (24 رن) نے چھوٹی لیکن اہم پاریاں کھیل کر ٹیم کو کسی طرح 270 رنوں تک پہنچایا۔ پوری ٹیم 46.4 اوورس میں ہی آؤٹ ہو گئی، ورنہ مزید کچھ رن بنانے کا موقع تھا۔ آخر کے بلے بازوں نے مایوس کیا جو جنوبی افریقی گیندبازوں کے سامنے زیادہ دیر ٹھہر کر نہیں کھیل سکے۔ آخر کی 20 گیندیں اگر پاکستانی بلے باز کھیل لیتے اور 15-10 رن بنا لیتے تو میچ کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔

بہرحال، جنوبی افریقہ کی جانب سے گیندبازوں میں تبریز شمسی نے کمال کی گیندبازی کی۔ انھوں نے 10 اوورس میں 60 رن ضرور دیے، لیکن افتخار احمد، بابر اعظم اور سعود شکیل سمیت 4 اہم وکٹ حاصل کیے۔ 3 وکٹ مارکو جانسن کو ملے جنھوں نے 9 اوورس میں 43 رن دیے۔ 7 اوورس میں 42 رن دے کر 2 وکٹ گیرالڈ کویٹزی نے اور 7.4 اوورس میں 45 رن دے کر 1 وکٹ لنگی اینگیڈی نے لیے۔

جنوبی افریقہ نے جب 271 رنوں کے ہدف کا پیچھا کرنا شروع کیا تو سبھی امید کر رہے تھے کہ آسان جیت حاصل ہوگی۔ کوئنٹن ڈیکوک نے تیز شروعات بھی دی، لیکن وہ 12 گیندوں پر 24 رن بنا کر شاہین آفریدی کا شکار ہو گئے۔ کپتان تیمبا بووما (28 رن) اور راسی وَنڈر ڈوسین (21 رن) بھی کوئی بڑی اننگ نہیں کھیل سکے جس سے تھوڑا دباؤ بننا شروع ہوا۔ لیکن ایڈن مارکرم نے پاکستان کے تیز اور اسپن دونوں ہی گیندبازوں کے سامنے بے خوف انداز میں کھیلنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں رنوں کی رفتار کم نہیں ہوئی۔ ایک طرف وہ پاکستان کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑے رہے اور دوسری طرف ہنرک کلاسین (12 رن)، ڈیوڈ ملر (29 رن) اور مارکو جانسن (20 رن) چھوٹی چھوٹی اننگ کھیل کر پویلین لوٹ گئے۔ پھر اسامہ میر کی ایک گیند کو بڑا شاٹ لگانے کی کوشش میں ایڈن مارکرم (93 گیندوں پر 91 رن) بابر اعظم کو کیچ دے بیٹھے اور پھر یہیں سے مقابلہ دلچسپ ہو گیا۔

جب مارکرم آؤٹ ہوئے تو اس وقت ٹیم کا اسکور 40.2 اوورس میں 7 وکٹ کے نقصان پر 250 رن تھا۔ یعنی 58 گیندوں پر محض 23 رنوں کی ضرورت تھی، لیکن نچلے بلے باز دباؤ میں بکھرتے ہوئے دکھائی دیے۔ گیرالڈ کویٹزی 10 رن اور لنگی اینگیڈی 4 رن بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ آخر میں کیشو مہاراج اور تبریز شمسی نے سنبھل کر کھیلتے ہوئے ٹیم کو 1 وکٹ سے جیت دلا دی۔ پاکستان کے لیے ایک مشکل یہ بھی کھڑی ہو گئی تھی کہ 47 اوورس مکمل ہونے تک ہی سبھی تیز گیندبازوں کے اوورس ختم ہو گئے تھے۔ مجبوراً 48واں اوور پھینکنے کے لیے محمد نواز کو گیند تھمایا گیا اور ان کی دوسری ہی گیند پر کیشو مہاراج نے چوکا لگا کر جنوبی افریقہ کو جیت دلا دی۔ یہ جیت جنوبی افریقہ نے 16 گیندیں باقی رہتے ہوئے حاصل کر لیں۔ تبریز شمسی نے جہاں 6 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 4 رن اور کیشو مہاراج نے 21 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 21 رن بنائے۔

پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے 10 اوورس میں 45 رن دے کر 3 وکٹ، حارث رؤف نے 10 اوورس میں 62 رن دے کر 2 وکٹ، محمد وسیم نے 10 اوورس میں 50 رن دے کر 2 وکٹ اور اسامہ میر نے 8 اوورس میں 45 رن دے کر 2 وکٹ حاصل کیے۔ افتخار احمد نے 3 اوورس میں 23 رن خرچ کیے اور محمد نواز نے 6.2 اوورس میں 40 رن دیے، یہ دونوں گیندباز وکٹ سے محروم رہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔