کرکٹ

ہندوستانی کرکٹر ایشان کشن نے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کیوں کہا؟

ایشان کشن نے افغان ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب بھی ہم ان کے خلاف کھیلتے ہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ وکٹیں لینے اور اعلیٰ ترین سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے کتنے بے تاب ہوتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

ہندوستانی ٹیم نے افغانستان کے خلاف 3 میچوں کی ٹی-20 سیریز میں 0-2 کی ناقابل تسخیر سبقت حاصل کر لی ہے اور آج تیسرا ٹی-20 مقابلہ کھیلا جانا ہے۔ اس مقابلہ سے قبل افغانستان نے ہندوستانی ٹیم کے لیے عشائیہ کا انعقاد کیا جس میں سبھی کھلاڑی نہایت خوشگوار ماحول میں اپنے تجربات سامنے رکھتے نظر آئے۔ افغانستان کرکٹ نے 16 ستمبر کی شب منعقد ہوئی اس محفل کو ’کوہِ ظفر‘ نام دیا تھا۔ اس محفل میں بی سی سی آئی کے اہم عہدیداران اور کئی ہندوستانی کھلاڑی موجود تھے۔

اس محفل میں کئی مواقع ایسے آئے جب لوگ ہنسنے پر مجبور ہو گئے، لیکن ایک لمحہ ایسا تھا جس نے سبھی کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔ دراصل ایک سوال کا جواب دینے سے پہلے ایشان کشن نے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کہا، جس نے سبھی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی اور ہال میں قہقہہ گونج اٹھا۔ ایشان سے سوال پوچھا گیا تھا کہ ’’افغانستان کے کھلاڑیوں کے جوش و جنون میں آپ کو سب سے زیادہ کیا متاثر کرتا ہے؟‘‘ جواب میں انھوں نے مذاقیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ’’فرسٹلی (سب سے پہلے) بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘۔ ایشان کی زبان سے بسم اللہ سنتے ہی ان کے قریب بیٹھے شریئس ایر اور ابھیشیک شرما کے ساتھ ساتھ افغان کھلاڑی بھی ہنسے بغیر نہیں رہ سکے۔

یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کرکٹ میچ کے بعد انعامات تقسیم کی جانے والی تقریب میں جب بھی افغان کھلاڑیوں کا انٹرویو لیا جاتا ہے تو وہ ’فرسٹلی بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ یا ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ کہتے ہیں، اور پھر اپنا جواب پیش کرتے ہیں۔ غالباً یہی بات ایشان کشن کے ذہن میں تھی، اس لیے جب ان سے افغان کھلاڑیوں کے ساتھ ان کے تجربات پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو افغان کھلاڑیوں کے ہی اسٹائل میں ابتدا انھوں نے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ سے کی۔ بعد ازاں انھوں نے افغان کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’افغانستان کے خلاف کھیلنا ہمیشہ خوشگوار ہوتا ہے، کیونکہ ہم میں سے بہت سے کھلاڑی آئی پی ایل میں بھی ان کے ساتھ کھیل چکے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کتنے شاندار انسان ہیں۔ ان سے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔‘‘

ایشان کشن نے افغان کھلاڑیوں کے ساتھ اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’خاص طور سے میں نے ’ممبئی انڈینز‘ میں نبی بھائی (محمد نبی) کے ساتھ کھیلا ہے اور انہوں نے بیٹنگ سیشن کے دوران میری بہت مدد کی۔ وہ اکثر منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے بارے میں اپنی رائے دیتے تھے۔ خاص طور پر مختلف گیند بازوں کا سامنا کرتے وقت کس طرح کی حکمت عملی اختیار کی جائے، اس بارے میں وہ اہم باتیں بتاتے تھے۔‘‘ ایشان کشن نے یہ بھی کہا کہ ’’افغانستان کی ٹیم کی سب سے متاثر کن خوبیوں میں سے ایک ان کی جیت کی بھوک اور عزم ہے۔ جب بھی ہم ان کے خلاف کھیلتے ہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ وکٹیں لینے اور اعلیٰ ترین سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے کتنے بے تاب ہوتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔