
ویسٹ انڈیز کرکٹ
2 مرتبہ یک روزہ عالمی کپ چمپئن، 2 مرتبہ ٹی-20 عالمی کپ چمپئن اور ایک مرتبہ چمپئنز ٹرافی جیتنے والی ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کو ’عالمی کپ 2027‘ کی اپنی مہم میں ایک بڑا جھٹکا لگا ہے۔ مجموعی طور پر 5 آئی سی سی ٹرافیاں اپنے نام کرنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نامیبیا کی میزبانی میں ہونے والے عالمی کپ کے لیے براہ راست کوالیفکیشن کا ٹکٹ نہیں ملا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب ویسٹ انڈیز براہ راست انٹری سے محروم ہوئی ہے۔
آئی سی سی کے ضوابط کے مطابق 30 ستمبر کی کٹ آف تاریخ تک آئی سی سی یک روزہ رینکنگ میں سرفہرست 8 ٹیموں کو عالمی کپ میں براہ راست داخلہ ملنا طے تھا، جس میں جنوبی افریقہ اور زمبابوے شامل نہیں ہیں، کیونکہ وہ میزبان ہونے کے ناطے پہلے ہی اپنی جگہ پکی کر چکے ہیں۔ وہیں، اب آئرلینڈ کے خلاف شاندار جیت کے ساتھ افغانستان نے اس فہرست میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ افغانستان دفاعی چمپئن آسٹریلیا، ہندوستان، نیوزی لینڈ، پاکستان، سری لنکا، انگلینڈ، بنگلہ دیش، جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے ساتھ براہ راست مین ٹورنامنٹ کا حصہ بنے گا۔
آئی سی سی یک روزہ رینکنگ میں 10ویں مقام پر موجود ویسٹ انڈیز کے پاس کٹ آف تاریخ سے پہلے ہندوستان کے خلاف 2 یک روزہ میچ کھیلنے کا موقع ہے۔ اگر کیریبین ٹیم یہ دونوں میچ جیت بھی لیتی ہے، تب بھی اس کی رینکنگ ٹاپ-8 میں آنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز کو 2027 عالمی کپ میں جگہ بنانے کے لیے آئندہ سال فروری میں منعقد ہونے والے عالمی کپ کوالیفائر کے مشکل مرحلے سے گزرنا ہوگا۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم 2023 یک روزہ عالمی کپ کے لیے بھی براہ راست کوالیفائی نہیں کر پائی تھی اور اسے کوالیفائر میچ کھیلنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس وقت سپر سکس مرحلے میں پانچویں مقام پر رہنے کے سبب ٹیم عالمی کپ سے باہر ہو گئی تھی، جو اس کی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا۔ اسی کے سبب وہ 2025 چمپئنز ٹرافی کا حصہ بھی نہیں بن سکی تھی۔ وہیں، فروری 2027 میں ہونے والے کوالیفائر ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 10 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ آئی سی سی یک روزہ رینکنگ میں سب سے نیچے رہنے والے 2 فل ممبر ممالک یعنی ویسٹ انڈیز اور آئرلینڈ اس میں شامل ہوں گے۔ کرکٹ عالمی کپ لیگ-2 کی سرفہرست 4 ٹیمیں اور عالمی کپ کوالیفائر پلے آف سے آنے والی سرفہرست 4 ٹیمیں بھی اس کا حصہ ہوں گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔