کرکٹ

وسیم جعفر نے سلیکٹر کے عہدے کے لیے درخواست دی، منتخب ہونے پر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ بن سکتے ہیں!

اگر جعفر سلیکٹر منتخب ہوتے ہیں تو چیف سلیکٹر بھی بن سکتے ہیں، کیونکہ انہیں موجودہ سلیکشن کمیٹی میں شامل پرگیان اوجھا، شیو سندر داس، آر پی سنگھ اور اجے راترا سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کا تجربہ حاصل ہے۔

<div class="paragraphs"><p>وسیم جعفر، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

وسیم جعفر، تصویر/آئی اے این ایس

 

اجیت اگرکر کی مدت کار ختم ہونے کے بعد بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) میں سلیکٹر کا ایک عہدہ خالی ہے۔ بی سی سی آئی نے اس عہدے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم کے سابق سلامی بلے باز وسیم جعفر نے سینئر قومی سلیکٹر کے عہدے کے لیے درخواست دی ہے۔ وسیم جعفر نے خود مغربی زون سے سینئر قومی سلیکٹر کے عہدے کے لیے درخواست دینے کی تصدیق کی ہے۔

سلیکٹر کے عہدے کے لیے بی سی سی آئی کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق درخواست گزار کو کم از کم 7 ٹیسٹ میچ یا 30 فرسٹ کلاس میچ یا 10 ونڈے اور 20 فرسٹ کلاس میچ کھیلنے کا تجربہ ہونا چاہیے۔ دوسری جانب چیف سلیکٹر اس شخص کو بنایا جاتا ہے جسے تمام سلیکٹرز میں ہندستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کا تجربہ حاصل ہو۔ اگر وسیم جعفر سلیکٹر منتخب ہوتے ہیں تو وہ چیف سلیکٹر بھی بن سکتے ہیں۔ جعفر کو موجودہ سلیکشن کمیٹی میں شامل پرگیان اوجھا، شیو سندر داس، رودر پرتاپ سنگھ اور اجے راترا سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کا تجربہ حاصل ہے۔

موجودہ سلیکشن کمیٹی میں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کا تجربہ پرگیان اوجھا کے پاس ہے۔ پرگیان نے ہندوستان کے لیے 24 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، اسی وجہ سے انہیں عبوری چیئرمین بنایا گیا ہے۔ اگر اشوک ملہوترا اور جتن پرانجپے پر مشتمل کرکٹ ایڈوائزری کمیٹی (سی اے سی) جعفر کو منتخب کرتی ہے تو وہ سلیکشن کمیٹی کے سربراہ بن سکتے ہیں۔ 48 سالہ وسیم جعفر نے 2000 سے 2008 کے درمیان ہندوستانی ٹیم کے لیے 31 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 5 سنچریوں کی مدد سے 1944 رن بنائے۔ اس دوران ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے خلاف ان کی ڈبل سنچریاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ 2 ونڈے میچ بھی کھیل چکے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ وسیم جعفر ڈومیسٹک کرکٹ کا ایک بڑا نام رہے ہیں۔ ممبئی کے لیے زیادہ تر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والے وسیم جعفر نے کچھ عرصہ ودربھ کی ٹیم کے لیے بھی کھیلا۔ وہ رنجی ٹرافی کی تاریخ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے رنجی ٹرافی میں سب سے زیادہ سنچریاں بھی بنائی ہیں۔ 260 فرسٹ کلاس میچوں میں جعفر نے 50 سے زیادہ کی اوسط سے 19410 رن بنائے ہیں۔ اس دوران ان کے بلے سے 57 سنچریاں نکلیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔