ہربھجن سنگھ اور شری سنت، تصویر سوشل میڈیا
آئی پی ایل (انڈین پریمیر لیگ) کی تاریخ میں کئی تنازعات ہوئے ہیں، لیکن 2008 میں ہوئے پہلے سیزن میں ہربھجن سنگھ کے ذریعہ شری سنت کو تھپڑ مارے جانے کا واقعہ ہر کرکٹ شیدائی کی یادوں میں محفوظ رہے۔ اکثر اس بارے میں کرکٹ ماہرین بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ہربھجن سنگھ نے تو کئی مواقع پر اپنی اس حرکت کے لیے معافی بھی مانگی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہربھجن سنگھ نے جب شری سنت کو تھپڑ مارا تھا، تو اُس واقعہ کی ویڈیو فوٹیج اب تک سامنے نہیں آئی تھی۔ شری سَنت کی روتے ہوئے تصویریں اور ویڈیوز سامنے ضرور آئی تھیں، لیکن تھپڑ کی ویڈیو دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔ اب وہ ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔
Published: undefined
سابق آئی پی ایل کمشنر للت مودی نے وہ ویڈیو جاری کر دی ہے جس میں ہربھجن سنگھ شری سنت کو تھپڑ مارتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ دراصل آسٹریلیا کے سابق کپتان مائیکل کلارک نے للت مودی کے ساتھ ایک پاڈکاسٹ کیا ہے۔ للت مودی نے ’بیونڈ 23 کرکٹ‘ پاڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ہربھجن سنگھ نے شری سنت کو تھپڑ مارا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میچ ختم ہو چکا تھا، یہاں تک کہ کیمرے بھی بند تھے۔ حالانکہ میرا سیکورٹی کیمرہ چل رہا تھا۔ اسی دوران جو کچھ بھی ہوا اس کی ویڈیو بن گئی۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’دونوں ٹیموں (ممبئی اور پنجاب) کے کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ اتنی دیر میں ہربھجن بڑھتے ہوئے شری سنت کے پاس پہنچے اور انھیں الٹے ہاتھ کا تھپڑ لگا دیا۔ شری سَنت کو پہلے کچھ سیکنڈ تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا۔ بعد میں ہربھجن پھر ان کے پاس گئے، لیکن دونوں کے بیچ میں عرفان پٹھان اور مہیلا جئے وردھنے آ گئے۔ میں نے یہ ویڈیو گزشتہ 17 سالوں سے میں شیئر نہیں کی تھی۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اس تھپڑ واقعہ کے بعد ہربھجن سنگھ کو پورے آئی پی ایل سیزن میں کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ان پر 5 یک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلنے پر بھی پابندی لگائی گئی تھی۔ ہربھجن کو آج تک اس تھپڑ واقعہ پر پچھتاوا ہے۔ ہربھجن سنگھ کئی بار بڑے اسٹیج پر اپنی غلطی کا اعتراف کر چکے ہیں۔ انھیں شری سنت کی بیٹی کی کہی ہوئی ایک بات آج بھی پریشان کرتی ہے۔ سابق تیز گیندباز کی بیٹی نے ہربھجن سنگھ سے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی، آپ نے میرے پاپا کو مارا تھا۔‘‘ جب بچی نے یہ جملہ کہا تو ہربھجن کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined