کرکٹ

میں پہلے ہی ہندوستان کے لیے کھیل چکا ہوں، اب مجھے کچھ اور حاصل نہیں کرنا: بھونیشور کمار

36 سالہ بھونیشور کمار نے ہندوستانی جرسی میں اپنا آخری بین الاقوامی میچ نومبر 2022 میں کھیلا تھا۔ وہ اپنے انٹرنیشنل کیریئر میں اب تک 21 ٹیسٹ، 121 ونڈے اور 87 ٹی-20 انٹرنیشنل میچ کھیل چکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>بھونیشور کمار، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

بھونیشور کمار، تصویر/آئی اے این ایس

 

ہندوستان کے تجربہ کار تیز گیند باز بھونیشور کمار نے کہا کہ قومی ٹیم میں واپسی اب ان کا اصل مقصد نہیں ہے۔ تیز گیند باز نے کہا کہ انہوں نے ہندوستانی ٹیم سے باہر کی زندگی کو اپنا لیا ہے اور اب وہ صرف کھیل کے تئیں اپنے جنون کی وجہ سے کھیل رہے ہیں۔ 36 سالہ بھونیشور نے ہندوستانی جرسی میں اپنا آخری انٹرنیشنل میچ نومبر 2022 میں کھیلا تھا۔ وہ اپنے انٹرنیشنل کیریئر میں اب تک 21 ٹیسٹ، 121 ونڈے اور 87 ٹی-20 انٹرنیشنل میچ کھیل چکے ہیں۔ دائیں ہاتھ کے اس تیز گیند باز نے کہا کہ ملک کی نمائندگی کرنے کا اپنا خواب پورا کرنے کے بعد، انہیں اب خود کو ثابت کرنے کا کوئی دباؤ محسوس نہیں ہوتا۔

رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے پوڈ کاسٹ ایپی سوڈ میں بات کرتے ہوئے بھونیشور نے کہا کہ ’’میں آئی پی ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ اس لیے کھیل رہا ہوں، کیونکہ مجھے کھیل سے محبت ہے۔ جب آپ نوجوان ہوتے ہیں اور ہندوستان کے لیے کھیلتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ آپ کو کھیل سے محبت ہے۔ سچ کہوں تو جو چیز آپ کے کنٹرول میں ہے اس پر توجہ دیں اور زیادہ نہ سوچیں۔ کیریئر کے اس موڑ پر اب میں محسوس کر رہا ہوں کہ کھیل کو اس کے تئیں جنون کی وجہ سے بھی کھیلا جاتا ہے۔‘‘

تجربہ کار ہندوستانی تیز گیند باز نے مزید کہا کہ ’’میں پہلے ہی ہندوستان کے لیے کھیل چکا ہوں۔ اب مجھے کچھ اور حاصل نہیں کرنا ہے۔ اگر مجھے ایک اور موقع ملتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہوگی، لیکن میں وہ تجربہ حاصل کر چکا ہوں۔ میں ابھی جو کچھ بھی کر رہا ہوں وہ کھیل کے لیے میری محبت کی وجہ سے ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ مجھے ڈسپلن میں رہنا ہے۔ میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتا ہوں، میں یو پی ٹی-20 لیگ کھیلتا ہوں۔ میں اس بات کو یقینی بناتا ہوں کہ میں کھیل سے جڑے رہنے کے لیے کافی کرکٹ کھیلوں، اور ساتھ ہی خود کو تازہ دم رکھنے کے لیے مناسب بریک بھی دوں۔‘‘

بین الاقوامی کرکٹ سے دور اپنی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بھونیشور کمار نے کہا کہ وہ بغیر کسی پچھتاوے یا تلخی کے آگے بڑھنے کا سہرا اپنے خاندانی ماحول کو دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں مکمل طور پر مطمئن ہوں، اور اس کا سہرا اپنے خاندان کو دیتا ہوں۔ ہمارے گھر میں کبھی کرکٹ کی بات نہیں ہوتی۔ ہم کبھی یہ گفتگو نہیں کرتے کہ میں ہندوستانی ٹیم میں واپسی کروں گا یا نہیں، مجھے کیوں نہیں منتخب کیا گیا، یا آخر کیا غلط ہوا۔ اس رویے نے میری بہت مدد کی، اور مجھے کسی بات کا کوئی پچھتاوا نہیں۔ جب آپ کسی ٹیم کے اہم رکن ہوتے ہیں تو ہر کوئی کہتا ہے کہ ٹیم سب سے پہلے ہے، لیکن جب آپ ٹیم کا حصہ نہیں رہتے تو فطری طور پر یہ احساس آتا ہے کہ شاید مجھے اب بھی وہاں ہونا چاہیے تھا۔‘‘

بھونیشور کمار نے یہ بھی کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ تبدیلی کھیل کا حصہ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ نسلیں بدلتی رہتی ہیں۔ میں ایسا تجربہ کرنے والا پہلا کھلاڑی نہیں ہوں اور یقیناً آخری بھی نہیں ہوں گا۔ یہ کھیل کا حصہ ہے۔ فیملی اس میں بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ میں جہاں ہوں، وہاں خوش ہوں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔