
تصویر اے آئی
حکومت نے اپنی پوری طاقت لگا کر ہمیں جنتر منتر جانے سے روک دیا تھا۔ اس واقعے کے ایک دو دن بعد ہی میری بہن نے مجھے ’چلو جنتر منتر‘ نام کا ایک ویڈیو گیم بھیجا، جس میں جنتر منتر تک پہنچنے کا چیلنج تھا۔
جب آپ خود سڑکوں پر پورا دن وہ سب کچھ جھیل چکے ہوں تو پولیس کی ناکہ بندی توڑنے کا یہ ڈیجیٹل تجربہ خاصا دلچسپ اور مزاحیہ بن جاتا ہے۔ حکومت سڑکوں پر خاردار تاریں بچھا سکتی ہے، پولیس کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ دے سکتی ہے، راجدھانی کو چھاؤنی میں تبدیل کر سکتی ہے اور اپنے بنیادی جمہوری حقوق کے لیے نکلنے والے شہریوں کو مجرموں کی طرح کھدیڑ سکتی ہے۔ لیکن چند ہی دنوں میں کوئی اسی ناکہ بندی پر مبنی ویڈیو گیم تیار کر دیتا ہے۔ یوں آپ اپنی میز پر بیٹھ کر وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جسے زمینی سطح پر روکنے کے لیے حکومت نے اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی۔
حکومت باڑ، لاٹھیوں، پولیس کے قافلوں اور وردیوں کے ذریعے طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ اقتدار سے ٹکرانا ایک خوف ناک تجربہ ہے اور بغاوت کی ہمت کرنے والوں کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ لیکن مزاح اور طنز اقتدار کے اس کھوکھلے رعب پر ایسی کاری ضرب لگاتے ہیں کہ طاقت کا پورا تماشا بکھر کر رہ جاتا ہے۔
روسی فلسفی اور ادبی نقاد میخائل باختین نے ’کارنیوال‘ کے تصور کو ایک نیا مفہوم دیا تھا۔ اس سے مراد ایسے لمحات ہیں جب ہنسی، خوشی اور بے ساختہ اظہار اقتدار کے قائم کردہ نظام کو الٹ کر رکھ دیتے ہیں، طاقت وروں کو ان کے بلند مقام سے نیچے لے آتے ہیں اور عام لوگوں کو ایسی دنیا کا احساس دلاتے ہیں جہاں وہ کھل کر اقتدار کا مذاق اڑا سکتے ہیں۔
ان احتجاجی مظاہروں کے نعروں میں بھی اقتدار کی زبان کو اسی طرح الٹنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف بنائے گئے پوسٹروں پر لکھا تھا، ’دو بھائی، دونوں بن پڑھائی‘۔ اسی طرح چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے مبینہ سرپرستوں کے خلاف اکتوبر کے مظاہروں میں یہ نعرہ گونجا: ’ایک کچوری، دو چائے، گیانیش کمار بائے بائے‘۔
یہ نعرے اقتدار کے روایتی اور گھسے پٹے طریقوں کو سڑکوں کی چٹ پٹی نوک جھونک میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ تھانے میں بند ہونے کے لیے تیار رہنے یا پولیس کی لاٹھیاں کھانے کے لیے دہلی کا رخ کرنے سے متعلق سوشل میڈیا ریلز میں بھی یہی انداز دکھائی دیتا ہے۔ اس طنز کی اصل طاقت اس بے بسی کو آخری سچ ماننے سے انکار میں ہے جسے نوجوان کسی بھی قیمت پر قبول کرنے کو تیار نہیں۔
ایک لطیفہ لوہے کی رکاوٹوں کو نہیں توڑ سکتا اور نہ ہی کوئی ویڈیو گیم درج مقدمات یا گرفتاریوں کو ختم کر سکتا ہے۔ لیکن جب تک یہ بے خوف، کھلنڈرا اور تخلیقی مزاج زندہ ہے، رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کے لیے اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہونا آسان نہیں ہوگا۔
سیاسیات کے ماہر جیمز سی اسکاٹ نے اپنی کتابوں ’ویپنز آف دی ویک‘ اور ’ڈومینیشن اینڈ دی آرٹس آف ریزسٹنس‘ میں ان چھوٹے اور روزمرہ کے طریقوں کا مطالعہ کیا جن کے ذریعے دبے کچلے طبقات اپنی مخالفت اور ناراضی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ایسی مزاحمت ہوتی ہے جو حکمرانوں کی براہ راست نگرانی سے بچتے ہوئے پروان چڑھتی ہے۔ اسکاٹ نے مزاحمت کی اس پوشیدہ شکل کو ’ہڈن ٹرانسکرپٹ‘ کا نام دیا تھا۔
آج اس فرق کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ ان مظاہروں میں ہونے والی مزاحمت اب ذرا بھی پوشیدہ نہیں رہی۔ مثال کے طور پر سلمان خان کے مشہور جملے ’سونم، اٹس ڈن برو‘ کی بدلی ہوئی شکل ہی دیکھ لیجیے۔ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے ہاتھوں میں پہنچ کر یہی جملہ اکتوبر کے مظاہروں میں ’گیانیش، اٹس ڈن برو‘ کے تیکھے نعرے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد ویڈیو گیمز کی باری آتی ہے۔ ’چلو جنتر منتر‘ کے علاوہ ’بھاگ نیہا بھاگ‘، ’ڈیجیٹل ڈھپلی‘ اور ’ڈیجی ترنگا‘ جیسے گیمز بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں آپ اپنی اسکرین پر ترنگا لہرا سکتے ہیں، وہ بھی گرفتاری کے خوف کے بغیر۔ یہ صورت حال اپنے آپ میں ایک سوال کھڑا کرتی ہے کہ آخر ملک کی راجدھانی میں قومی پرچم لہرانا اور اپنے جمہوری حقوق کا اظہار کرنا بھی تنازعے کا موضوع کیوں بنتا جا رہا ہے؟
سیاسی تحریکوں میں تفریح، خوشی اور بے ساختہ اظہار کے کردار کے بارے میں پائے جانے والے شکوک سے ایما گولڈمین بھی واقف تھیں۔ اپنی خودنوشت ’لیونگ مائی لائف‘ میں انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک محفل میں کھل کر رقص کرنے پر ان کے ایک ساتھی تحریک کار نے انہیں ڈانٹا تھا۔ اس ساتھی کے خیال میں انقلابیوں کو زیادہ سنجیدہ اور باوقار دکھائی دینا چاہیے تھا۔
لیکن ایما گولڈمین کا نقطۂ نظر مختلف تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ آزادی کی جدوجہد کرنے والی کوئی تحریک ان لوگوں سے زندگی کی خوشی اور جینے کا لطف چھیننے کی شرط نہیں رکھ سکتی جو اسے اپنے خون پسینے سے سینچ رہے ہوں۔ آخر ہم ایسی آزادی کے لیے کیوں لڑیں جس کی قیمت زندگی کے احساس اور اس کی مسرت سے محرومی کی صورت میں ادا کرنا پڑے؟
میری نسل کے اس بے باک رویے کو محض نوجوانوں کی شوخی قرار دینا یا میمز کے ذریعے بات کرنے اور موبائل فون کی اسکرین سے دنیا دیکھنے والوں کی سنک سمجھنا دراصل فکری کاہلی ہے۔ یہ رویے کی سطحی تشریح ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ سنجیدگی اور مزاح ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔ ہم خوف زدہ بھی ہیں اور مزاح کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ہم تھکے ہوئے ضرور ہیں، لیکن اس سے کہیں زیادہ تخلیقی ہیں۔ اور ہم اتنی جلدی میدان چھوڑنے والے نہیں ہیں۔
جب میں نے ’چلو جنتر منتر‘ کھیلا تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ مجھے اس لیے دلچسپ لگا کہ اس نے ایک تلخ تجربے کی شدت کم کر دی تھی یا اس لیے کہ اس نے مجھے یاد دلایا کہ وہ تجربہ اب ان لوگوں کے مکمل اختیار میں نہیں رہا جو اسے لاٹھی کے زور پر قابو کرنا چاہتے تھے۔
وہ دن توہین آمیز بھی تھا اور مضحکہ خیز بھی۔ لیکن ایک بار پھر، اس مرتبہ اپنی اسکرین کے پکسلز کے ذریعے، میں نے اس بے ہودگی کا سامنا اپنی شرائط پر کیا۔ میں آج بھی جنتر منتر پہنچنا چاہتی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ دیر سویر وہاں ضرور پہنچوں گی۔ تب تک ہم اسی بے پروا اور آزاد مزاج کے ساتھ یہ کھیل کھیلتے رہیں گے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو کبھی کسی سیاسی جماعت کے پیروکار نہیں رہے، جنہوں نے خود کو کبھی کسی تحریک کا علم بردار نہیں سمجھا اور جنہوں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ انہیں اپنے دن قومی پرچم لہرانے یا سڑکوں پر پُرامن انداز میں چلنے جیسے بنیادی حقوق کے لیے حکومت سے الجھتے ہوئے گزارنے پڑیں گے۔
ہم ایک دوسرے تک پہنچنے کے راستے تلاش کرتے رہیں گے، چاہے حکومت ہمیں جن پتھ کی سڑک پر ایک ساتھ کھڑے ہونے سے روکنے کی کوشش کرتی رہے۔ حکمران چاہیں تو ان لوگوں کے ارادوں کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو خوف کے باوجود میدان چھوڑنے کو تیار نہیں۔ یا پھر وہ ان سے نفرت کرنے کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ ان نوجوانوں کا کیا کریں گے جو اس لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں کہ ملک کی رگوں میں کچھ ایسا زہر سرایت کر چکا ہے جس کے خلاف وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ کھڑے ہونے پر مجبور ہیں؟
یہ وہ لوگ ہیں جو لاٹھی چارج روکنے کے لیے ’جن گن من‘ گانے لگتے ہیں، ڈنڈوں کے جواب میں بانسری کی دھن چھیڑ دیتے ہیں اور اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھلکھلاتے ہیں۔ کیونکہ انہیں تھانوں میں بند کیا جا سکتا ہے، ان پر مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں اور ان کی نقل و حرکت محدود کی جا سکتی ہے، لیکن ان کی روح کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی انقلاب میں تھرکنے اور رقص کرنے کی سب سے بڑی خوب صورتی یہی ہے۔ حکمران ہماری زندگیوں پر چاہے جتنا اختیار جتائیں، ہم اپنی زندگی اپنی ہی شرائط پر جئیں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔