فکر و خیالات

کام، قرض اور قصے...میناکشی امبیڈکر

اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے مہاجر خاندان قرض، کم اجرت، غیر یقینی ادائیگی اور بنیادی سہولتوں کی کمی میں زندگی گزارتے ہیں۔ خواتین اور بچے بھی محنت کرتے ہیں، مگر ان کا کام اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

رجنی کُرّے نے صرف 12 سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ اینٹ بھٹّے پر کام شروع کیا تھا۔ ان کے شوہر راجیش کُرے بھی 12 برس کے تھے جب پہلی بار ان کے ہاتھوں نے گیلی مٹی کو اینٹ کی شکل دی۔ آج ان کی 11 سالہ بیٹی راگنی بھی اپنے والدین کے ساتھ روزانہ تقریباً 150 اینٹیں بناتی ہے۔

گاندھی نگر ضلع کے اورساد گاؤں کے قریب ملنے والی رجنی اپنے روزمرہ کے کام کے بارے میں یوں بتاتی ہیں، ’’ہم صبح تین چار بجے اٹھ کر کام شروع کر دیتے ہیں۔ سردی میں مسلسل کام کرتے کرتے ہمارے ہاتھ سن ہو جاتے ہیں۔‘‘

پورے ہندوستان میں اینٹ سازی کا کام تقریباً مکمل طور پر انسانی محنت پر منحصر ہے۔ مزدور دن بھر اینٹیں ڈھالتے، ڈھوتے اور انہیں خشک کرنے کے لیے ترتیب سے لگاتے رہتے ہیں۔ قرض کا ایسا عذاب ہے کہ خاندان اکثر نہ چاہتے ہوئے بھی بچوں کو بھٹّوں پر کام میں لگا دیتے ہیں اور کم عمری میں شروع ہونے والا یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ قرض سے بندھی یہ مزدوری ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔

چھتیس گڑھ کے جانجگیر-چامپا کی رہنے والی 28 سالہ رجنی 2025 کے آخر میں اپنے شوہر اور چار بچوں، تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ گاندھی نگر پہنچی تھیں۔ ہر سال ہونے والی اس ہجرت کے بارے میں وہ کہتی ہیں، ’’ہم اکتوبر نومبر کے آس پاس یہاں آتے ہیں، پانچ چھ ماہ رہتے ہیں اور اپریل کے پہلے ہفتے تک گاؤں واپس لوٹ جاتے ہیں۔ زیادہ گرمی میں اینٹیں بنتے ہی چٹخ جاتی ہیں، اس لیے شدید گرمی میں کام نہیں ہو پاتا۔‘‘

چھتیس گڑھ میں خاندان کے پاس تھوڑی سی زمین ہے، جہاں وہ برسات کے موسم میں دھان اگاتے ہیں، لیکن اس سے ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ رجنی کے مطابق ان کے شوہر راجیش گاؤں میں پینٹنگ کا کام کرتے ہیں، مگر باقاعدہ کام نہیں ملتا۔ اس لیے خاندان ہر سال وہاں جاتا ہے جہاں کام اور اجرت نسبتاً بہتر ہو۔

کئی ماہ کی اس ہجرت میں مزدور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے آتے ہیں، کیونکہ گاؤں میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ عام طور پر کام کا موسم شروع ہونے سے پہلے ٹھیکیدار خاندان کو کچھ پیشگی رقم دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ خاندان اس بھٹے سے اس وقت تک بندھا رہتا ہے جب تک پیشگی رقم واپس نہ ہو جائے۔ رجنی کہتی ہیں، ’’اینٹیں تو بنتی رہتی ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ میرے شوہر نے ٹھیکیدار سے کتنی پیشگی رقم لی ہے۔‘‘ یہ بات اس پورے نظام میں موجود گہرے طاقت کے عدم توازن کو ظاہر کرتی ہے۔

موسم ختم ہونے پر ٹھیکیدار اور راجیش بیٹھ کر حتمی حساب کرتے ہیں۔ اس میں پیشگی رقم اور خرچی، یعنی ہفتہ وار دی جانے والی رقم، کاٹ لی جاتی ہے۔ ادائیگی کی کوئی مقررہ رقم نہیں ہوتی؛ یہ تیار کی گئی اینٹوں کی تعداد، کام کے موسم کی مدت اور دیگر کٹوتیوں پر منحصر ہوتی ہے۔

رجنی بتاتی ہیں، ’’ہمیں ہر جمعہ خرچی ملتی ہے۔ یہ اجرت نہیں بلکہ روزمرہ اخراجات کے لیے دی جانے والی پیشگی رقم ہے، جسے بعد میں حتمی ادائیگی میں ایڈجسٹ کر لیا جاتا ہے۔‘‘ انہیں ہر ہفتے تقریباً 2,000 سے 2,500 روپے ملتے ہیں۔ چاول، آٹا، دال اور جلانے کی لکڑی خریدنے کے بعد بہت کم رقم بچتی ہے۔ زیادہ تر دنوں میں آلو یا دال کے ساتھ روٹی کھانی پڑتی ہے۔ دودھ آسانی سے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے چائے بھی بغیر دودھ کے پینی پڑتی ہے اور بچوں کو بھی کبھی کبھار ہی ناشتہ یا پھل مل پاتے ہیں۔

گجرات حکومت کی کم از کم اجرت کے مطابق اینٹ بھٹے کے مزدوروں کو فی اینٹ 0.87 روپے، یعنی ایک ہزار اینٹوں کے لیے 871 روپے ملنے چاہئیں۔ تاہم احمد آباد میں واقع اینٹ بھٹہ مزدور یونین کے نمائندوں کے مطابق حقیقت میں مزدوروں کو اکثر اس سے کہیں کم ادائیگی ہوتی ہے۔

پورا نظام زبانی ہے اور کوئی تحریری ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔ اس لیے مزدور اکثر یہ بھی نہیں جان پاتے کہ انہوں نے کتنی کمائی کی یا ان پر پیشگی رقم کا کتنا قرض باقی ہے۔ یوں وہ قرض اور غیر یقینی کے ایسے چکر میں پھنسے رہتے ہیں جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

اس سال بے موسم بارش اور شدید گرمی کے باعث بھٹے کا کام طویل عرصے تک جاری نہیں رہ سکا۔ تقریباً 6 ماہ کی سخت محنت کے بعد خاندان کے بینک اکاؤنٹ میں صرف 50 سے 60 ہزار روپے آئے۔

اڈالج قصبے سے گاندھی نگر جانے والی سڑک کے کنارے اینٹ بھٹّوں کا ایک بڑا سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ صرف اڈالج میں تقریباً 50 بڑے چمنی والے بھٹے ہیں۔ ہر بھٹے پر تقریباً 40 یا اس سے زیادہ جوڑیاں، یعنی دو دو مزدوروں کی ٹیمیں، روزانہ 12 سے 14 گھنٹے کام کرتی ہیں۔

راجیش کُرے کے مطابق زیادہ تر مزدور چھتیس گڑھ، اتر پردیش اور دوسری ریاستوں سے آتے ہیں۔ پورا خاندان موسم کے لیے ہجرت کرتا ہے، کیونکہ اینٹ سازی کا کام خاندان کے تمام افراد کی محنت پر منحصر ہوتا ہے۔

پتھائی، یعنی کچی اینٹوں کو سانچے میں ڈھالنے کا کام عموماً اکتوبر کے آخر میں شروع ہوتا ہے اور اپریل کے وسط تک چلتا ہے۔ اپریل کے دوسرے ہفتے کے بعد شدید گرمی میں دھوپ سے کچی اینٹیں چٹخنے لگتی ہیں، جس سے پیداوار مشکل ہو جاتی ہے۔ دھوپ میں خشک کی گئی اینٹوں کو چمنی میں پکانے کا عمل جون کے وسط تک جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد گجرات میں مانسون شروع ہو جاتا ہے اور بھٹّوں کا کام تقریباً رک جاتا ہے۔

رجنی جس بھٹے پر کام کرتی ہیں وہاں روزانہ 40 سے 50 جوڑیاں 50 ہزار سے 80 ہزار تک کچی اینٹیں تیار کرتی ہیں۔ وہ کئی برس سے گجرات اور اتر پردیش کے بھٹّوں پر کام کر رہی ہیں اور اسے ’بہت بڑا بھٹہ‘ قرار دیتی ہیں۔

کچھ برس قبل جب ان کی ساس بیمار ہوئیں تو علاج کے لیے خاندان نے بھٹے کے مالک سے پیشگی رقم لی تھی۔ قرض چکانے کے لیے رجنی کے دیور، ان کی بیویاں اور راجیش کے ماموں کا خاندان بھی اورساد کے قریب واقع بھٹّوں پر کام کرنے پہنچا۔ بیماری، شادی بیاہ، گھریلو اخراجات اور گاؤں میں روزگار کی کمی بہت سے مہاجر خاندانوں کو اسی قرض کے چکر میں دھکیل دیتی ہے۔

اتنے گھنٹے کام کرنے کے باوجود رجنی کو اپنی اجرت کبھی براہ راست نہیں ملتی۔ ملک بھر میں مہاجر خواتین مزدوروں کے ساتھ یہ عام صورت حال ہے۔ بھٹّے کے مالکان کے رجسٹروں میں کسی عورت کا نام درج نہیں ہوتا۔ ادائیگی مردوں کو کی جاتی ہے اور پیشگی رقم بھی مرد ہی لیتے ہیں۔ یوں خواتین کی محنت کو پوشیدہ بنا دیا جاتا ہے اور ان کے بنیادی مسائل بھی نظر انداز رہتے ہیں۔

رجنی کہتی ہیں، ’’یہاں نہانے کی کوئی جگہ نہیں۔ ہم پانی کی ٹنکی کے پاس کپڑے دھوتے اور کھلے میں نہاتے ہیں۔ بیت الخلا بھی نہیں، اس لیے کھیتوں میں جانا پڑتا ہے۔‘‘ماہواری کے دوران بھی وہ کام کرتی رہتی ہیں۔ آرام یا کپڑے دھونے کے لیے مناسب جگہ تک دستیاب نہیں۔

کام کی جگہوں پر خواتین کو بیماری یا زچگی کے دوران بھی مناسب آرام اور دیکھ بھال شاذ ہی ملتی ہے۔ اوڈیشہ کے اینٹ بھٹوں پر 400 مہاجر خواتین مزدوروں پر 2023 میں کیے گئے ایک مطالعے میں 44 فیصد خواتین نے کام سے متعلق صحت کے مسائل اور ایک تہائی نے جنسی و تولیدی صحت سے متعلق مشکلات کی اطلاع دی۔ کئی خواتین کمزور، غذائی قلت اور خون کی کمی کا شکار پائی گئیں۔

حلیمہ حسین (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) ہر سال اپنے خاندان کے ساتھ اتر پردیش سے گجرات اینٹ بھٹّوں پر کام کرنے آتی ہیں۔ 28 سالہ حلیمہ اپنے شوہر کے ساتھ اینٹیں لادنے اور اتارنے کے علاوہ چار بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں، جن میں ایک سال سے کم عمر بچہ بھی ہے۔ 2025 کی سردیوں میں بچہ بار بار بیمار پڑا اور اسے کئی مرتبہ اسپتال لے جانا پڑا۔ بعد میں ان کی حاملہ دیورانی گاندھی نگر میں بچے کی پیدائش کے لیے آئیں تو حلیمہ کو ان کی دیکھ بھال بھی کرنا پڑی۔

اجرت کے ساتھ دیکھ بھال کی یہ ذمہ داریاں خواتین پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں۔ اس غیر مرئی محنت کو ’کام‘ نہیں سمجھا جاتا، حالاں کہ یہ خواتین کے دن کا بڑا حصہ لے لیتی ہے۔ ٹائم یوز سروے 2024 کے مطابق خواتین روزانہ تقریباً 5 گھنٹے بلا معاوضہ گھریلو خدمات میں صرف کرتی ہیں، جبکہ مرد صرف 88 منٹ دیتے ہیں۔ خواتین روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ نگہداشت کے کاموں میں بھی لگاتی ہیں، جو مردوں کے وقت سے تقریباً دوگنا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نگہداشت کی ذمہ داری اب بھی بنیادی طور پر خواتین ہی کے حصے میں آتی ہے۔

رجنی چاہتی ہیں کہ ان کی 11 سالہ بیٹی راگنی اسکول جائے، مگر اسکول بہت دور ہے اور تعلیم گجراتی زبان میں ہوتی ہے، جو خاندان نہیں سمجھتا۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم اسے اکیلے نہیں بھیج سکتے اور ہر روز کام چھوڑنا بھی ممکن نہیں۔‘‘ راگنی کو ریلز بنانا، موسیقی سننا اور ناچنا پسند ہے، لیکن دن کا زیادہ تر وقت وہ بھٹے پر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال یا والدین کے ساتھ اینٹیں بنانے میں گزارتی ہے۔

رجنی کہتی ہیں، ’’اگر ہم کام نہیں کریں گے تو قرض کیسے چکائیں گے؟‘‘ وہ اپنے 9 سالہ بیٹے راج ویر کو بھی پڑھانا چاہتی ہیں، اگرچہ وہ فی الحال پڑھنا نہیں چاہتا۔ رجنی کا کہنا ہے کہ گاؤں واپس پہنچ کر وہ اسے اسکول میں داخل کرائیں گی اور راگنی کی تعلیم بھی جاری رکھنے کی کوشش کریں گی۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہم پڑھ نہیں سکے، لیکن چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے پڑھیں اور مزدور نہ بنیں۔‘‘

حلیمہ کی 60 برس سے زیادہ عمر کی ساس بھی بھٹے پر بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو کاموں میں خاندان کی مدد کرتی ہیں۔ سردیوں میں جب درجہ حرارت بہت گر جاتا ہے اور باہر سونا ممکن نہیں رہتا، تو 9 افراد پر مشتمل پورا خاندان پلاسٹک کی چادروں سے ڈھکی ایک ہی جھونپڑی میں سمٹ کر رہتا ہے۔ حلیمہ کی ساس کے مطابق، ’’مالک نے ہمیں دوسری جھونپڑی بنانے کے لیے خاطر خواہ اینٹیں تک نہیں دیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔