
علامتی تصویر / اے آئی
ہندوستان ہر سال 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ مناتا ہے، مگر یہ دن محض ایک قومی تہوار یا سرکاری تقریب تک محدود نہیں۔ یہ تاریخ اس اجتماعی فیصلے کی علامت ہے جس کے تحت ہندوستان نے خود کو آئین کے ذریعے چلانے کا عہد کیا۔ آزادی کے بعد کسی بھی قوم کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ اقتدار کی بنیاد کیا ہوگی، حقوق کی ضمانت کون دے گا اور ریاست کی طاقت کو کس طرح حدود میں رکھا جائے گا۔ یومِ جمہوریہ اسی سوال کا عملی جواب ہے، جو آئین کی شکل میں سامنے آیا۔
Published: undefined
15 اگست 1947 کو ہندوستان نے برطانوی راج سے آزادی ضرور حاصل کر لی تھی، مگر اس وقت ملک کے پاس اپنا مستقل آئینی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔ انتظامی نظام بڑی حد تک انہی قوانین پر چل رہا تھا جو نوآبادیاتی دور میں نافذ تھے۔ آزادی نے سیاسی غلامی کا خاتمہ کیا، لیکن ایک منصفانہ، خودمختار اور جمہوری نظام کے قیام کے لیے ایک ایسے دستاویز کی ضرورت تھی جو ہر شہری کو برابری، آزادی اور انصاف کی ضمانت دے سکے۔ یہی ضرورت آئین کی تشکیل کا بنیادی محرک بنی۔
اسی پس منظر میں 29 اگست 1947 کو آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک ڈرافٹنگ کمیٹی قائم کی گئی، جس کی ذمہ داری ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو سونپی گئی۔ ان کے ساتھ ممتاز قانونی ماہرین اور سیاسی رہنما شامل تھے، جنہوں نے ہندوستان کے سماجی، مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع کو سامنے رکھتے ہوئے آئین کی بنیاد رکھی۔ 4 نومبر 1947 کو آئین کا ابتدائی مسودہ دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد تقریباً دو سال تک ہر شق پر تفصیلی غور و خوض ہوا، طویل بحثیں ہوئیں اور مختلف ترامیم کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ آئین صرف اکثریت کی آواز نہ بنے بلکہ ہر طبقے کے حقوق کا تحفظ کرے۔
Published: undefined
بالآخر 24 جنوری 1950 کو آئین کو حتمی منظوری دی گئی اور 26 جنوری 1950 کو اسے پورے ملک میں نافذ کر دیا گیا۔ اسی دن ہندوستان نے خود کو ایک خودمختار، جمہوری اور آئینی جمہوریہ قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب اقتدار کا سرچشمہ کوئی فرد، خاندان یا بیرونی قوت نہیں بلکہ خود آئین ہوگا، اور قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہوں گے۔
26 جنوری کی تاریخ محض انتظامی سہولت کے طور پر منتخب نہیں کی گئی تھی۔ اس کے پیچھے ایک گہرا تاریخی پس منظر ہے۔ 26 جنوری 1930 کو ہندوستانی قومی کانگریس نے مکمل آزادی یعنی ’پورن سوراج‘ کا اعلان کیا تھا اور اسی دن پہلی بار ملک بھر میں آزادی کے عزم کا عوامی سطح پر اظہار کیا گیا۔ آئین کے نفاذ کے لیے اسی تاریخ کا انتخاب دراصل اس تاریخی جدوجہد اور اس عہد کی توثیق تھا جو قوم نے 20 برس پہلے کیا تھا۔
Published: undefined
یومِ جمہوریہ پر دہلی کے کرتویہ پتھ پر ہونے والی پریڈ محض طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ قومی وحدت کی علامت ہے۔ ریاستوں کی جھانکیاں ہندوستان کی ثقافتی رنگا رنگی کو پیش کرتی ہیں، جبکہ مسلح افواج کی شرکت ملک کے دفاعی عزم اور نظم و ضبط کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس دن صدرِ جمہوریہ قومی پرچم لہراتے ہیں، کیونکہ وہ آئینی طور پر ریاست کے سربراہ ہوتے ہیں اور آئین ہی ان کے عہدے کی بنیاد ہے۔
اکثر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ 15 اگست اور 26 جنوری میں بنیادی فرق کیا ہے۔ آزادی کا دن جدوجہد، قربانیوں اور غلامی کے خاتمے کی یاد دلاتا ہے، جبکہ یومِ جمہوریہ اس آزادی کو آئینی شکل دینے اور جمہوری قدروں کے تحفظ کی علامت ہے۔ ایک دن ہمیں ماضی کی قربانیوں سے جوڑتا ہے، دوسرا ہمیں حال اور مستقبل کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔
Published: undefined
یوں یومِ جمہوریہ محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک اجتماعی وعدہ ہے کہ ہندوستان آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے تحت آگے بڑھے گا۔ یہ دن ہر شہری کو یاد دلاتا ہے کہ حقوق کے ساتھ فرائض بھی لازم ہیں، اور جمہوریت کی مضبوطی اسی وقت ممکن ہے جب آئین کی روح کو عملی زندگی میں زندہ رکھا جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined