فکر و خیالات

کتابوں سے کیوں ڈرتی ہے پولیس؟...پارتھ ایم این

جنتر منتر پر تخلیقی احتجاج کے دوران طلبہ کی شروع کی گئی موبائل لائبریری ایک قابلِ تقلید پہل تھی، جسے پولیس نے کئی بار بند کرانے کی کوشش کی۔ کتابیں، خاص طور پر مزاحمتی ادب، احتجاج کا حصہ بن گئیں

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>

Getty Images

 
Hindustan Times

ایک ماہ کے اندر پولیس نے اس لائبریری کو تین مرتبہ بند کرانے کی کوشش کی، لیکن وہ ہر بار واپس لوٹ گئی۔ نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کے جنتر منتر پر دھرنے کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف) نے وہاں ایک لائبریری شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد بالکل واضح تھا۔

اے آئی ایس ایف کے قومی صدر وراج دیوانگ نے بتایا، ’’مظاہرین کے لیے جنتر منتر اگلے چند دنوں تک ان کا گھر بننے والا تھا۔ دن بھر نعرے لگتے ہیں، تقریریں سنی جاتی ہیں، لیکن اس کے بعد کافی وقت بچ جاتا ہے۔ ایسے وقت میں کتابیں بہترین ساتھی ہوتی ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ مظاہرین اور طلبہ ادب پڑھیں اور اپنی سماجی و سیاسی شعور کو مزید تقویت دیں۔‘‘

طلبہ کارکن ایک لکڑی کی میز لے کر آئے، جس پر سرخ کپڑا بچھایا گیا تھا۔ اس پر لکھا تھا— ’پردھان مست فال‘ یعنی ’پردھان کو عہدہ چھوڑنا ہوگا۔‘ روزانہ لائبریری سنبھالنے والے 20 سالہ طالب علم کارکن موہت نے بتایا، ’’پہلے دن ہمارے پاس چھترپتی شیواجی مہاراج، بھگت سنگھ اور بابا صاحب امبیڈکر پر کتابیں تھیں۔ انقلابی ادب کے بغیر کوئی تحریک ویسی ہی ہے جیسے نظریے کے بغیر کوئی رہنما۔ ادب ہی مظاہرین کو مزاحمت اور بغاوت کا راستہ دکھاتا ہے۔‘‘

اس کے علاوہ لائبریری میں پریم چند کی تخلیقات، بچوں کا ادب اور سائنس دانوں کی خودنوشتیں بھی موجود تھیں۔ موہت نے کہا، ’’ہمارے معاشرے میں سائنسی سوچ مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے، اس لیے ہم نے سوچا کہ اس موضوع سے متعلق کتابیں بھی یہاں ہونی چاہئیں۔‘‘

لیکن اے آئی ایس ایف کی جانب سے لائبریری شروع کرتے ہی دہلی پولیس کے افسران نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ غیر قانونی ہے۔ دیوانگ نے بتایا، ’’ہم نے ان سے کہا کہ یہ ایک کھلی لائبریری ہے، اس کا کوئی تجارتی پہلو نہیں ہے۔ تھوڑی بحث کے بعد پولیس واپس چلی گئی۔‘‘ لیکن یہ آخری موقع نہیں تھا جب پولیس نے لائبریری کو نشانہ بنایا۔

اگلے 10 سے 12 دنوں میں دھرنے کی جگہ آنے والے حامی مسلسل کتابیں عطیہ کرتے رہے۔ کتابوں کا ذخیرہ بڑھتا گیا اور اس کے برابر میں رکھا رجسٹر بھی نئی اندراجات سے بھرنے لگا۔ لیکن 2 جولائی کو پولیس ایک بار پھر وہاں پہنچ گئی۔ اس بار اس کا کہنا تھا کہ ’’اس سے بھگدڑ مچ سکتی ہے اور لوگوں کو اس سے پریشانی ہو رہی ہے۔‘‘ دیوانگ نے یاد کرتے ہوئے کہا، ’’لیکن مظاہرین فوراً جمع ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔‘‘

وشال (20)، جو موہت کی طرح صرف اپنا پہلا نام استعمال کرتے ہیں، اس وقت لائبریری کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’پولیس کو اس سے مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ لائبریری لوگوں کے لیے ہے۔ ہم نے اسے ہٹانے سے صاف انکار کر دیا۔‘‘ تاہم، اس مرتبہ بحث کے بعد دہلی پولیس پیچھے ہٹنے والی نہیں تھی۔ ایک پولیس افسر نے تحقیر آمیز لہجے میں وشال سے کہا، ’’بہت لیڈر بن رہے ہو‘‘، اور اسے حراست میں لے لیا۔ وشال کے ساتھی بٹو کو بھی اس لیے کالر سے پکڑ کر گھسیٹا گیا کیونکہ وہ اپنے موبائل فون سے پوری کارروائی ریکارڈ کر رہا تھا۔

دیوانگ نے کہا، ’’پولیس نے بھگت سنگھ، شیواجی مہاراج اور بابا صاحب امبیڈکر کی کتابوں کی توہین کی ہے۔ ہمارے قومی ہیروز کی توہین کرنے کے لیے انہیں معافی مانگنی چاہیے۔‘‘ ان کتابوں میں ’شیواجی کون تھے؟‘ بھی شامل تھی، جو گووند پنسارے کی مراٹھی کتاب کا ہندی ترجمہ ہے۔ گووند پنسارے کو ہندوتوا نواز شدت پسندوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ’بھگت سنگھ بمقابلہ آر ایس ایس‘ بھی وہاں موجود تھی، جس میں انقلابی رہنما بھگت سنگھ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریاتی اختلافات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی مرتبہ تحریریں بھی لائبریری کا حصہ تھیں۔

موہت نے کہا، ’’ہمارا یقین ہے کہ اگر ایک بھی شخص ایسی کوئی کتاب پڑھ لے، تو وہ اس کے بارے میں دس اور لوگوں کو بتائے گا۔ تبدیلی اسی طرح آہستہ آہستہ، قدم بہ قدم آتی ہے۔‘‘ لیکن وشال اور بٹو کا کہنا ہے کہ حراست میں لینے، گالیاں دینے اور مارپیٹ کرنے کے بعد پولیس نے انہیں ایک طویل عدالتی مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی بھی دی۔ بعد میں جب اے آئی ایس ایف کے ان کے ساتھی تھانے پہنچے اور ان کی حراست کے خلاف زوردار احتجاج کیا، تب جا کر دونوں کو رہا کیا گیا۔ شال نے کہا، ’’مجھے پولیس سے خوف نہیں لگا تھا۔ مجھے خوف اس بات کا تھا کہ کہیں میرے والدین کو اس کا پتہ نہ چل جائے۔‘‘

احتجاج کے دوران طلبہ، حامیوں اور خیرخواہوں کی جانب سے مسلسل کتابیں عطیہ کیے جانے کے باعث لائبریری کا ذخیرہ مسلسل بڑھتا گیا۔ وشال کا تعلق راجستھان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ ان کے والد کسان ہیں اور والدہ گھریلو خاتون۔ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ ان کا بیٹا طلبہ تحریک سے وابستہ ہے۔ وشال نے کہا، ’’اگر انہیں پتہ چل گیا تو شاید وہ مجھے دہلی میں رہنے ہی نہ دیں۔‘‘

اس کے باوجود جب وہ دوبارہ احتجاجی مقام پر لوٹے تو سب سے پہلے انہوں نے لائبریری کو دوبارہ ترتیب دیا۔ اے آئی ایس ایف نے کتابیں پھر جمع کیں اور لائبریری دوبارہ شروع ہو گئی۔ اگلے چند دنوں میں رجسٹر میں 1,500 نئی اندراجات ہو چکی تھیں۔

20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی نے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) اور اے آئی ایس ایف جیسی طلبہ تنظیموں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ تک پُرامن مارچ کی اپیل کی۔ اس سے پہلے مسلسل 25 دنوں تک لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک اور طلبہ کارکن نہا بورا، منیش کمار اور امین امیتوج جنتر منتر پر اسی مطالبے کو لے کر بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے تھے۔ انہوں نے امتحانات اور سرکاری بھرتیوں میں جواب دہی اور شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ہزاروں افراد—جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی—بھاری پولیس اور سکیورٹی انتظامات کے درمیان جنتر منتر کی سڑکوں پر امنڈ آئے۔ دن چڑھنے کے ساتھ نعروں کی گونج کی جگہ آنسو گیس کے گولوں کی سسکاریاں اور پُرامن مظاہرین پر کیے گئے لاٹھی چارج کی چیخ و پکار نے لے لی۔ متعدد افراد کے سر بری طرح پھٹ گئے اور ان سے خون بہنے لگا۔ نوجوان خواتین کے کپڑے تک پھاڑ دیے گئے۔ نابالغ طلبہ کو بھی نہیں بخشا گیا۔ کم از کم تین طلبہ پر پیلٹ گن سے فائر کیا گیا—ایسی گن جو کشمیر میں متعدد لوگوں کی آنکھوں کی بینائی چھین لینے کے لیے بدنام رہی ہے۔

اس پوری کارروائی میں لائبریری بھی مکمل طور پر تہس نہس کر دی گئی۔ وشال نے بتایا، ’’پولیس نے میز اور کتابیں اٹھا کر پھینک دیں۔ اوپر لگا ترپال پھاڑ دیا گیا۔ ہم نے اسے پوسٹروں اور بینروں سے سجایا تھا، وہ بھی تباہ کر دیئے گئے۔ وہاں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہاں کبھی کوئی لائبریری تھی۔‘‘

لیکن تمام زخموں، تباہی اور اس بے رحمانہ جبر کے باوجود مظاہرین دوبارہ جنتر منتر لوٹے اور انہوں نے ایک بار پھر اس جگہ پر اپنا قبضہ جما لیا۔ اسی رات وشال دوبارہ اسی مقام پر میز پر کتابیں سجانے میں مصروف تھے۔ اس بار کتابوں کی تعداد پہلے جتنی نہیں تھی، لیکن ان کا یہ عمل اپنے آپ میں مزاحمت کا ایک بیان تھا۔ انہوں نے اس رات کہا، ’’جب تک مظاہرین یہاں رہیں گے، یہ لائبریری بھی یہیں رہے گی۔‘‘ اور آخرکار ایسا ہی ہوا۔

پانچ دن بعد، 25 جولائی کو بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے درمیان دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد طلبہ کارکنوں اور مظاہرین نے اسے اپنی فتح قرار دیا اور جشن بھی منایا۔ اے آئی ایس ایف کے کارکنوں نے خاموشی سے لائبریری سمیٹ لی اور بچی ہوئی کتابیں اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیں۔

دیوانگ نے آخر میں سوال کیا، ’’آخر کتابوں سے کوئی کیوں ڈرے گا؟ کتابوں سے ڈرنا بزدلی کی علامت ہے۔‘‘

ماخذ: ruralindiaonline.org

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔