فکر و خیالات

جب وارن ہیسٹنگز عورت کا بھیس بدل کر بنارس سے بھاگا...کرشن پرتاپ سنگھ

1781 میں بنارس کے راجا چیت سنگھ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف بغاوت کی تو وارن ہیسٹنگز کو شکست کھا کر عورت کا بھیس بدل کر بھاگنا پڑا۔ 1799 میں وِزیر علی نے بھی بنارس میں انگریزوں کو للکارا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

اتر پردیش کا ضلع بلیا تاریخ میں ’باغی بلیا‘ کے نام سے مشہور ہے۔ وجہ یہ ہے کہ 1942 کی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے دوران وہاں کے لوگوں نے انگریز حکومت کے خلاف زبردست مزاحمت کی اور مجاہدِ آزادی چِتّو پانڈے کی قیادت میں متوازی حکومت قائم کر لی تھی۔ لیکن تاریخ کے صفحات میں بنارس، یعنی موجودہ وارانسی، کو اس حوالے سے وہ مقام کم ہی ملتا ہے، حالاں کہ اس نے 1857 کی پہلی جنگِ آزادی سے بھی 76 برس پہلے، 16 اگست 1781 کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف ایسی بغاوت کی تھی کہ اس وقت کے گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز کو جان بچا کر بھاگنا پڑا تھا۔

بنارس کے راجا چیت سنگھ کی قیادت میں ہونے والی اس بغاوت نے انگریز اقتدار کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی کہ ہیسٹنگز کو ہندوستانی عورت کا بھیس بدل کر پردہ دار پالکی میں بیٹھنا پڑا اور میدان چھوڑ کر چُنار کے قلعے کی طرف فرار ہونا پڑا۔ بنارس نے 18 برس بعد، 1799 میں، ایک بار پھر انگریز اقتدار کو سخت چیلنج دیا۔

اس بغاوت کی زمین 1770 کی دہائی میں تیار ہونا شروع ہوئی، جب چیت سنگھ اپنے والد بلونت سنگھ کے بعد بنارس کے راجہ بنے۔ اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کا اقتدار تیزی سے مضبوط ہو رہا تھا۔ 22-23 اکتوبر 1764 کی جنگِ بکسر میں مغل بادشاہ اور نوابوں کی مشترکہ طاقت کو شکست دینے کے بعد کمپنی کا رعب قائم ہو چکا تھا، جبکہ اودھ کے نواب شجاع الدولہ بھی مسلسل دباؤ میں تھے۔

1775 میں کمپنی نے چیت سنگھ پر دباؤ ڈال کر ’بنارس کی دوسری معاہدہ‘ کروایا، جس کے تحت انہیں ہر سال کمپنی کو ساڑھے بائیس لاکھ روپے ادا کرنے تھے۔

لیکن شجاع الدولہ کی وفات اور آصف الدولہ کے تخت نشین ہوتے ہی کمپنی نے اپنی مالی طلب بڑھانا شروع کردی۔ 1775 میں شروع ہونے والی پہلی کمپنی-مراٹھا جنگ کو بنیاد بنا کر وارن ہیسٹنگز نے چیت سنگھ سے اضافی رقم مانگنی شروع کی۔ اس کا مؤقف تھا کہ جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ مقامی حکمرانوں کو بھی اٹھانا چاہیے۔

1778 میں ہیسٹنگز نے چیت سنگھ سے مزید پانچ لاکھ روپے مانگے اور پانچ دن میں رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں کارروائی کی دھمکی دی۔ چیت سنگھ نے کسی طرح رقم ادا کردی۔ اگلے برس پھر پانچ لاکھ روپے طلب کیے گئے اور عدم ادائیگی پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔

1780 میں بھی پانچ لاکھ روپے مانگے گئے۔ چیت سنگھ نے ذاتی طور پر دو لاکھ روپے بھیجے اور رحم کی درخواست کی، لیکن ہیسٹنگز نے یہ رقم لینے کے باوجود جرمانے سمیت مزید پانچ لاکھ روپے وصول کیے۔ اس کے بعد ایک ہزار گھڑ سوار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چیت سنگھ نے پانچ سو گھڑ سوار اور پانچ سو پیادے فراہم کیے، مگر پھر بھی ان پر بھاری جرمانہ عائد کردیا گیا۔ یہ مسلسل دباؤ بالآخر بغاوت کا سبب بن گیا۔

اگست 1781 میں ہیسٹنگز کلکتہ سے چار کمپنیوں کی فوج لے کر خود بنارس پہنچا اور گولا دینا ناتھ کے قریب واقع مادھو داس ساتیا کے باغ میں پڑاؤ ڈالا۔ اس نے چیت سنگھ کو باغی قرار دے کر 16 اگست کو ان کے محل ہی میں نظر بند کرا دیا۔

لیکن خبر پھیلتے ہی حالات بدل گئے۔ چیت سنگھ کے سپاہیوں نے حملہ کرکے انہیں گھیرے کھڑے انگریز فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ ہیسٹنگز کے ساتھ آئے کئی انگریز افسر بھی مارے گئے۔ بنارس کے عام باشندے بھی دستیاب ہتھیار لے کر اس مزاحمت میں شامل ہوگئے۔ شہر کی تنگ گلیاں بھی اس خونریز تصادم کی گواہ بنیں۔

ہیسٹنگز کے پڑاؤ کا بھی محاصرہ شروع ہوگیا۔ حملہ آور دوبارہ حملے کی تیاری کر رہے تھے اور ہیسٹنگز کو اندازہ ہوگیا کہ اب اس کی اپنی جان خطرے میں ہے۔

وہ اپنے مارے گئے اور زخمی فوجیوں کے ساتھ بڑی مقدار میں سامان اور رسد چھوڑ کر چُنار کے قلعے کی طرف نکل گیا۔ روایت ہے کہ اس نے ہندوستانی عورت کا بھیس اختیار کیا اور پردے والی پالکی میں بیٹھ گیا۔ پالکی اس بہانے منگوائی گئی کہ ’بی بی جی‘ درشن کے لیے وندھیاچل جا رہی ہیں۔

ہیسٹنگز کے بنارس چھوڑتے ہی شہر میں افواہیں پھیل گئیں۔ ایک افواہ یہ بھی تھی کہ اسے قتل کردیا گیا ہے اور چیت سنگھ کے قلعے کے دروازے پر اس کا سر اور دایاں ہاتھ لٹک رہا ہے۔ اسی دوران چیت سنگھ دوبارہ اپنے تخت پر بیٹھ گئے۔

بنارس کی بغاوت کا اثر اودھ کے دوسرے شہروں اور دیہات تک پہنچا۔ کئی ہندوستانی سپاہیوں نے اپنی چوکیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور مقامی راجاؤں اور زمینداروں نے بھی انگریز اقتدار کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا۔

ہیسٹنگز نے چُنار کے قلعے میں بیٹھ کر صورتِ حال کا جائزہ لیا اور موقع ملتے ہی کئی گنا بڑی فوج کے ساتھ دوبارہ بنارس پر حملہ کردیا۔ چیت سنگھ کی فوج نے ابتدا میں مزاحمت کی، لیکن حالات بگڑنے پر انہیں قلعے سے نکال کر ایک فوجی دستے کے ساتھ کشتی کے ذریعے الہ آباد بھیج دیا گیا۔ وہ الہ آباد اور ریوا کے راستے گوالیار پہنچے، جہاں مہادجی سندھیا نے انہیں پناہ دی۔ اس کے بعد وہ کبھی بنارس واپس نہ آسکے۔

ہیسٹنگز جب چیت سنگھ کے قلعے میں داخل ہوا تو اسے توقع کے مطابق خزانہ نہیں ملا۔ کہا جاتا ہے کہ چیت سنگھ کی فوج پہلے ہی خزانہ لوٹ کر لے جا چکی تھی۔ آخرکار اس نے چیت سنگھ کے کم سن بھانجے کو اپنی شرائط پر بنارس کا راجا مقرر کردیا۔

ہیسٹنگز کو شبہ تھا کہ چیت سنگھ کو فیض آباد میں مقیم اودھ کی دونوں بیگموں، یعنی بہو بیگم اور نواب بیگم، کی حمایت حاصل تھی۔ دونوں بھی کمپنی کی مسلسل مالی طلب سے پریشان تھیں۔

ہیسٹنگز نے کمپنی کو بھیجی گئی اپنی رپورٹ میں ان پر چیت سنگھ کی کھلی حمایت کا الزام عائد کیا اور ان کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ بہو بیگم کی متعدد زمینیں اور جاگیریں ضبط کی گئیں، جنہیں بعد میں طویل قانونی جدوجہد کے بعد واپس کرنا پڑا۔

28 جنوری 1782 کو ہیسٹنگز نے آصف الدولہ کے ساتھ مل کر فیض آباد میں بہو بیگم کے محل کا فوجی محاصرہ بھی کروایا اور لوٹ مار ہوئی۔ بعد میں برطانوی پارلیمنٹ میں ہیسٹنگز کی ان کارروائیوں کی مذمت بھی کی گئی، لیکن جن لوگوں نے یہ اذیتیں جھیلیں، ان کے لیے اس مذمت کا عملی فائدہ بہت کم تھا۔

بنارس کو اگلی بار انگریزوں کے خلاف مزاحمت کا موقع صرف 18 برس بعد ملا۔ 1799 میں اودھ کے پانچویں نواب وِزیر علی خان نے بنارس میں انگریز اقتدار کو للکارا۔ انہیں نواب آصف الدولہ کے انتقال کے بعد تخت پر بٹھایا گیا تھا، لیکن چند ہی ماہ بعد انگریزوں نے انہیں دھوکے اور بداعتمادی کے الزامات لگا کر معزول کردیا اور بنارس بھیج دیا۔

انگریزوں نے ان کے جانشینی کے حق کو بھی متنازع بنایا اور ان کے چچا سعادت علی خان کی مدد سے انہیں اقتدار سے ہٹا دیا۔ وِزیر علی نے تخت سنبھالتے ہی انگریز نواز وزیروں کا اثر کم کرنے اور اودھ کی خودمختاری بحال کرنے کی کوشش کی تھی۔ گورنر جنرل جان شور جب لکھنؤ آئے تو وِزیر علی نے انہیں بھی خاطر خواہ اہمیت نہیں دی۔ انگریزوں کو یہ رویہ سخت ناگوار گزرا اور بالآخر انہیں معزول کردیا گیا۔

وِزیر علی نے ڈیڑھ لاکھ روپے سالانہ پنشن اور بنارس کے رام نگر میں نظر بندی قبول کرلی، لیکن کمپنی اور ان کے چچا دونوں کو خدشہ تھا کہ وہ دوبارہ بغاوت کرسکتے ہیں۔ چنانچہ انہیں بنارس سے کلکتہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ وِزیر علی کے لیے آخری چنگاری ثابت ہوا۔

14 جنوری 1799 کو وہ اپنے ساتھیوں عزت علی اور وارث علی کے ہمراہ بنارس میں انگریز کمانڈر جارج فریڈرک چیری کے ’منٹ ہاؤس‘ پہنچے۔ ان کے ساتھ موجود مسلح دستے نے حملہ کردیا۔ چیری کے علاوہ کیپٹن کان وے، رابرٹ گراہم، کیپٹن گریگ ایونز اور سات انگریز سپاہی بھی مارے گئے۔

اس کے بعد دستے نے ندیسر میں مجسٹریٹ ایم ڈیوِس کے گھر کا رخ کیا۔ وہاں بھی کئی سنتری مارے گئے، تاہم انگریز فوج کی جوابی کارروائی کے بعد وِزیر علی کے ساتھیوں کو پسپا ہونا پڑا اور بالآخر 21 جنوری کو وہ بنارس سے نکل گئے۔

وِزیر علی نے اپنی زندگی کے آخری 17 برس انگریزوں کی قید میں گزارے۔ قید ہی میں ان کا انتقال ہوا اور کمپنی نے ان کے آخری رسوم پر بھی معمولی رقم خرچ کی، حالاں کہ ان کے والد آصف الدولہ نے 1794 میں ان کی شادی کے جشن پر اس زمانے کے 30 لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔

وِزیر علی کی داستان بھی چیت سنگھ کی طرح تاریخ کے ساتھ ایک عجیب ناانصافی کی مثال ہے۔ 1856 میں واجد علی شاہ کی معزولی اور جلاوطنی کے اگلے ہی سال 1857 کی جنگِ آزادی میں باغیوں نے آخری نواب کے کم سن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھا کر اودھ میں انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی۔

لیکن اس بڑی مزاحمت سے کئی دہائیاں پہلے چیت سنگھ اور وِزیر علی بنارس میں انگریز اقتدار کو براہِ راست چیلنج کرچکے تھے۔ چیت سنگھ کی بغاوت نے وارن ہیسٹنگز کو جان بچانے کے لیے بھیس بدل کر فرار ہونے پر مجبور کیا تھا، جبکہ وِزیر علی نے 1799 میں بنارس میں انگریز افسران کے خلاف مسلح کارروائی کی۔

اس لیے بنارس کی تاریخ کو صرف مذہبی اور تہذیبی عظمت کی داستان سمجھنا کافی نہیں۔ اس شہر کی گلیوں میں استعماری اقتدار کے خلاف مزاحمت کی ایک ایسی تاریخ بھی پوشیدہ ہے جو 1857 سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔