فکر و خیالات

’ناری وندن‘ کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے کی تھی کوشش...یوگیندر یادو

حکومت جانتی تھی کہ ایسی ترمیم پارلیمنٹ میں 2 تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی اس طرح کی تقسیم کرنے والی تجویز لانے کے پیچھے حکومت کا کیا ارادہ تھا؟

<div class="paragraphs"><p>پارلیمنٹ</p></div>

پارلیمنٹ

 

لیجیے کئی دنوں کے تجسس کے بعد بالآخر پردہ اٹھ ہی گیا۔ گزشتہ کئی دنوں سے ہمیں بتایا جا رہا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کوئی انقلابی قدم اٹھایا جانے والا ہے۔ اس نیک کام میں کہیں تاخیر نہ ہو جائے، اس لیے 4 ریاستوں کے انتخابات کے درمیان پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا گیا۔ ناقدین کا خیال تھا کہ ’دال میں کچھ کالا ہے اور معاملہ ’کہیں پہ نگاہیں، کہیں پہ نشانہ‘ والا ہے۔ اور وہی ہوا، ’ناری وندن‘ کے نقاب کے پیچھے دراصل یہ پارلیمنٹ کی ہئیت بدلنے کا کھیل تھا تاکہ بی جے پی کو اگلا انتخاب جیتنے میں دشواری نہ ہو۔ یہ انتخابی جمہوریت کے جغرافیائی اور سیاسی ڈھانچے کو بدلنے کے ایک بڑے کھیل کا حصہ تھا۔

Published: undefined

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے محض 36 گھنٹے قبل، اس میں پیش کیے جانے والے آئینی (131 ویں ترمیم) بل کا مسودہ منظر عام پر کیسے آ گیا تھا؟ سوال یہ ہے کہ اگر یہ بل خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کوئی انقلابی قدم تھا، تو اسے عوام اور خواتین سے اتنا چھپا کر رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ ظاہر ہے کہ اس آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار تھی، جو حکومت کے پاس نہیں تھی۔ اس لیے یہ اپوزیشن کی حمایت کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا تھا۔ خود وزیر اعظم نے اپوزیشن سے اس کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ تو پھر اس کا مسودہ اپوزیشن لیڈروں کو بھی وقت پر کیوں نہیں دیا گیا تھا؟ اپوزیشن نے بار بار مطالبہ کیا کہ تھا حکومت اس معاملے پر کل جماعتی اجلاس بلا کر اتفاق رائے پیدا کرے۔ اسے کیوں نہیں مانا گیا تھا؟ اور ایسی کیا آفت آ گئی تھی کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بنگال اور تمل ناڈو کی انتخابی مہم کے درمیان، ووٹنگ سے صرف ایک ہفتہ پہلے بلایا گیا تھا؟

Published: undefined

بل کا مسودہ پہلے ہی منظر عام پر آنے کے بعد یہ راز کسی حد تک کھل گیا تھا۔ جیسا کہ خدشہ تھا، یہ مجوزہ آئینی ترمیم خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے بارے میں نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی نئی تشکیل کے بارے میں تھی۔ خواتین کے ریزرویشن کے حوالے سے صرف اتنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 334 (اے) میں ترمیم کر کے خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کرنے کی خاطر نئی مردم شماری کے اعداد و شمار کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس ترمیم کے مطابق اب 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں خواتین کو ریزرویشن دیا جا سکتا تھا۔ مگر اسے انقلابی قدم ماننے سے پہلے یاد کیجیے کہ خواتین ریزرویشن میں مردم شماری اور حلقہ بندی کی رکاوٹ آئی کہاں سے تھی؟ سچ تو یہ ہے کہ 2023 میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دینے والی ترمیم لاتے وقت مودی حکومت نے بلاوجہ یہ شرط ڈال دی تھی کہ یہ تبھی نافذ ہوگا جب نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندی ہوگی۔ یعنی خواتین ریزرویشن کو 10 سال کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے مطالبہ کیا تھا کہ اس شرط کو ختم کیا جائے اور ریزرویشن کو 2024 کے انتخاب سے ہی نافذ کیا جائے، مگر حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔ اب وہی حکومت اسی مطالبے کو 5 سال بعد نافذ کر کے انقلابی تبدیلی کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتی تھی۔

Published: undefined

آئینی ترمیم کا یہ بل بنیادی طور پر لوک سبھا اور اسمبلیوں کی نئی تشکیل کے بارے میں تھا۔ پہلی نظر میں یہ تجویز لوک سبھا کے اراکین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو موجودہ 547 (اصل تعداد 543 ہے) سے بڑھا کر 815 کرنے کی تھی۔ اس توسیع کے حق میں مضبوط دلائل ہو سکتے تھے، کیونکہ لوک سبھا کے حلقوں میں ووٹرس کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ نشستوں کی تعداد ڈیڑھ گنا بڑھانے سے ہر حلقے میں ووٹرس کی تعداد کم ہو جاتی، جو کہ جمہوریت کے لیے اچھا تھا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں تھا۔ اس بل کی سب سے بڑی اور خطرناک تبدیلی یہ تھی کہ گزشتہ 50 سالوں سے لوک سبھا کی نشستوں میں ریاستوں کے حصے میں رد و بدل پر لگی روک ہٹا لی جاتی۔ فی الحال آئین کے آرٹیکل 82 میں یہ گنجائش ہے کہ ریاستوں کو 1971 کی مردم شماری کے تناسب سے نشستیں ملیں گی۔ اس روک کی مدت 2026 میں ختم ہو رہی ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے وزیراعظم اور بی جے پی کے تمام لیڈر بار بار کہہ رہے تھے کہ لوک سبھا کی کل تعداد میں اضافہ ہوگا، لیکن ریاستوں کے تناسب کو جوں کا توں رکھا جائے گا۔ یعنی اگر لوک سبھا کی کل تعداد ڈیڑھ گنا ہوگی تو اتر پردیش کی نشستیں 80 سے بڑھ کر 140 ہو جائیں گی، اور ساتھ ہی کیرالہ کی نشستیں 20 سے بڑھ کر 30 ہو جائیں گی۔ غیر ہندی زبان بولنے والی ریاستیں فکر نہ کریں، ایسا بھروسہ دلایا جا رہا تھا۔

Published: undefined

لیکن آئینی ترمیم کا مسودہ اس وعدے کو نظر انداز کرتا تھا۔ اس ترمیم میں تجویز تھی کہ آرٹیکل 55، 81، 82، 170 اور 332 میں ترمیم کر کے 1971 کی مردم شماری والی شرط ختم کر دی جائے۔ لیکن موجودہ تناسب کو برقرار رکھنے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ ایسا ہوتے ہی آرٹیکل 82 کے مطابق آبادی کے لحاظ سے نشستوں کی تقسیم لازمی ہو جاتی۔ اگر نئی حد بندی 2011 کے اعداد و شمار کے مطابق ہوتی اور لوک سبھا کی نشستیں ڈیڑھ گنا بڑھ جاتیں، تو کیرالہ کی نشستیں 20 سے بڑھ کر صرف 23 ہوتیں، جبکہ اتر پردیش کی نشستیں 80 سے بڑھ کر 132 ہو جاتیں۔ تناسب کے اعتبار سے کیرالہ، تمل ناڈو، آندھرا پردیش، کرناٹک، تلنگانہ، اوڈیشہ، بنگال اور پنجاب کو نقصان ہوتا، جبکہ ہندی بولنے والی ریاستوں کو فائدہ پہنچتا۔ اس سے ہندی اور غیر ہندی ریاستوں کے درمیان نازک وفاقی توازن بگڑ جاتا۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ نے اس کے خلاف جو انتباہ دیا تھا، اس پر غور نہ کرنا قومی یکجہتی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا تھا۔

Published: undefined

یہی نہیں، اگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی تو لوک سبھا میں ریاست وار نشستوں کی تقسیم کا طریقہ کار آئین کے بجائے پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے ذریعے طے ہوتا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ تقسیم کس مردم شماری کی بنیاد پر ہوتی، یہ فیصلہ کرتے وقت حکومت کو اپوزیشن کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ آئندہ اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں رہتی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت اس آئینی ترمیم کے ساتھ حد بندی کے قانون کا ایک بل بھی لاتی۔ اس کے مطابق نئی حد بندی 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہوتی۔ لیکن حکومت جب چاہتی پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت سے اسے تبدیل کر سکتی تھی، اور چاہتی تو اسے 2027 کی مردم شماری کے مطابق بھی کر سکتی تھی۔

Published: undefined

حکومت جانتی تھی کہ ایسی ترمیم پارلیمنٹ میں 2 تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی اس طرح کی تقسیم کرنے والی تجویز لانے کے پیچھے حکومت کا کیا ارادہ تھا؟

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined