فکر و خیالات

پونے سے اٹھتی نسوانی مزاحمت کی آواز...میناکشی نٹراجن

پونے میں طالبات کی مزاحمتی آواز کو ساوتری بائی پھولے، فاطمہ بی بی، گاندھی اور دیگر نسوانی جدوجہد کی روایت سے جوڑتے ہوئے مضمون میں بتایا گیا ہے کہ سیاست کو پدرشاہی نہیں، نسوان دوست بنانا ہوگا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

پونے میں نسوانی مزاحمت کا آغاز ہوا ہے۔ ان طالبات کی آواز کی بازگشت اب بھی فضا میں گونج رہی ہے۔ اس خوش آئند شروعات نے بہت سے خیالات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔

پونے وہ سرزمین ہے جہاں عورت کی آزادی کا پہلا بگل بجا تھا۔ ساوتری بائی پھولے اور فاطمہ بی بی نے مہاتما جیوتی با پھولے کی تحریک اور رہنمائی میں لڑکیوں کی تعلیم کی بنیاد رکھی۔ ہم اکثر رانی لکشمی بائی کو یاد کرتے ہیں، لیکن ان سے بہت پہلے تعلیم کے ذریعے آزادی کی جدوجہد کے لیے ساوتری بائی اور فاطمہ بی بی نے کمر کس لی تھی۔ البتہ تلوار 1857 میں چمکی، قلم اس سے بہت پہلے چمکنے لگا تھا۔ اسی پونے میں ان قلم کے ذریعے آزادی کی جدوجہد کرنے والی خواتین پر گوبر پھینکا گیا تھا۔ آج طالبات کی آواز کے پس منظر میں مسکراتی ہوئی ساوتری بائی اور فاطمہ بی بی کی کھنک بھی سنائی دیتی ہے۔ وہ یقیناً مطمئن ہوں گی کہ ان کی لڑائی ایک اہم مرحلے تک پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی معمولی بات نہیں کہ اس ملک کے دو ایسے مرد، جنہیں ’مہاتما‘ کہہ کر نوازا گیا، عورت دوست اور نسوانی مزاحمت کے حامی تھے۔ ان کی نسوان دوستی محض ذاتی زندگی کا معمول نہیں، بلکہ ان کی سیاست کا حصہ تھی۔ انہوں نے یہ طے کیا کہ سیاست میں آنے والی عورت کو مرد بننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سیاست کو خود عورت دوست بننا ہوگا، کیونکہ ہر نجی زندگی بھی سیاسی ہوتی ہے۔

جاگیردارانہ نظام میں عورت کو اقتدار میں داخلہ صرف اسی وقت ملتا تھا جب درباری سیاست اسے اجازت دیتی تھی، اور وہ بھی پدرشاہی کے ایک وسیلے کے طور پر۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ عورت کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اسے زبردستی ’سپر وومن‘ بننا پڑتا ہے۔ صرف سیاست ہی نہیں، ہر شعبۂ زندگی کا ڈھانچہ اس قدر مردانہ ہے کہ عورتیں بھی مصنوعی مردانگی کا لبادہ اوڑھنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

اس کے لیے پیمانے بھی مردوں پر مبنی معاشرہ ہی طے کرتا ہے۔ ’اچھی‘ عورت کہلانے کے لیے اسے مردوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ غلطی نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کی معمولی لغزش کو بھی اس کی کمزوری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں مہاتما جیوتی با پھولے نے عورتوں کی تعلیم کی پُرزور پہل کے ذریعے معاشرے کی ساخت کو بدلنے کی کوشش کی۔ باپو نے پوری سیاست کو عورت دوست بنانے کی کوشش کی۔ کپڑا بننا، سلنا، پرونا اور کاتنا عورتوں کے کام تصور کیے جاتے تھے۔ ہر کام پر صنفی شناخت کی مہر لگا دی گئی تھی۔ ایسے میں چرخے نے سوت کاتنے کو مزاحمت کے ایک عمل میں تبدیل کر دیا۔ یہ صرف برطانوی سامراجی اقتدار کو چیلنج نہیں تھا، بلکہ پدرشاہی کو بھی چیلنج تھا۔

باپو نے اپنی زندگی کو نسوانی اصولوں کے مطابق جیا۔ ذات پات پر مبنی معاشرتی ڈھانچے میں عورت کبھی ’دویج‘ نہیں ہوتی۔ وہ اپنے بچوں کا میل صاف کرتی ہے۔ صابرمتی اور سیواگرام میں ہر شخص کے لیے یہ کام کرنا ضروری قرار دیا گیا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود امتیاز کا شکار طبقہ دوسروں کے ساتھ ہونے والے امتیاز کو دیکھنے سے قاصر رہتا ہے۔ بالادست طبقے کی خواتین بھی میلا صاف کرنے والی برادری کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ یہ امتیاز بھی پدرشاہی سے الگ نہیں تھا۔

کستُوربا کو اس حقیقت کا احساس باپو نے دلایا، لیکن خود کستُوربا نے بھی انہیں ستیہ گرہ کا سبق سکھایا۔ محض کنٹرول یا اختیار کے ذریعے کبھی تبدیلی نہیں آتی؛ تبدیلی تعلق اور شمولیت سے پیدا ہوتی ہے۔ باپو کے اندر چھپے اس مردانہ تکبر اور پدرشاہی کو کستُوربا نے ہی چیلنج کیا۔ باپو خود تسلیم کرتے تھے کہ کستُوربا نے انہیں ستیہ گرہ کی راہ دکھائی۔ ستیہ گرہ میں دوسروں کو قابو میں رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

باپو کی اسی عورت دوست پہل نے لاکھوں خواتین کے لیے ستیہ گرہ میں شامل ہونے کا راستہ کھولا۔ جب ہر گھر میں استعمال ہونے والے نمک نے سامراجی اقتدار کی بنیادیں ہلا دیں تو یہ عورت کی سیاسی شرکت کا بھی اعلان تھا۔

تقریباً نصف صدی بعد، گزشتہ ہفتے پونے میں ایک مرکزی دھارے کے سیاست دان نے ایک بار پھر سیاست کو عورت دوست بنانے کا اعلان کیا۔ ویسے بھارت جوڑو یاترا کے دوران خواتین کے تئیں جس طرح احترام اور حساسیت کا مظاہرہ دکھائی دیا، وہ کسی سیاست دان میں کم ہی نظر آتا ہے۔ ورنہ کس سیاست دان کے پاس عورت کے دکھ کو بانٹنے کے لیے کندھا ہے؟ ’چھپن انچ کے سینے‘ میں اتنی جگہ کہاں کہ وہ عورت کے درد کی خبر لے سکے۔

ہندوستانی سیاست میں ایک عورت دوست شخصیت کا ابھرنا خوش آئند ہے۔ ماضی میں بھی خواتین کو بااختیار بنانے کے کئی اقدامات ہوئے ہیں۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم نے روایتی سوچ کو کھلا چیلنج دیا اور متعدد مردانہ اداروں کو صنفی امتیاز سے آزاد کیا۔ پوری ذمہ داری سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کے اردگرد کام کرنے اور ان سے گفتگو کرنے والی خواتین خود کو محفوظ محسوس کرتی رہی ہوں گی۔ تصویریں موجود ہیں؛ اب کوئی بیمار ذہن اور کُند فکر شخص ان سے جو مطلب نکالنا چاہے، نکالے۔

ملک کے پہلے وزیر اعظم کا اپنی بیٹی کے ساتھ ملک اور زندگی کے موضوعات پر کی جانے والی محبت بھری خط و کتابت بھی عوام کے سامنے ہے۔ انہی کے دور حکومت میں خواتین کے جائیداد کے حق، ہندو خواتین کے طلاق اور دوبارہ شادی کے حقوق کو متعین کرنے والا ہندو کوڈ بل منظور ہوا، جو آئین ساز بابا صاحب امبیڈکر کی اہم کاوش تھی۔ یہ وہی دور تھا جب خواتین کی قیادت نے عورتوں کے حقوق اور انصاف کے حوالے سے ایک شاندار دہائی کی بنیاد رکھی۔ اسی زمانے میں متعدد نسوانی تحریکیں بھی پروان چڑھیں۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کہ سیاسی اور انتظامی نظام ان کے لیے سازگار تھا۔

متھرا نامی ایک نابالغ آدیواسی لڑکی کے ساتھ پولیس کی جانب سے جنسی زیادتی کے بعد اٹھنے والی آواز نے ملک میں عصمت دری کے قانون میں دوبارہ ترمیم کی راہ ہموار کی۔ جہیز مخالف قانون، مساوی کام کے لیے مساوی اجرت اور ایسے ہی کئی قانونی حقوق قائم کیے گئے۔ مقامی بلدیاتی اداروں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنے کی تجویز بھی حساس سیاست ہی کا نتیجہ تھی۔ یہ سیاست کے عورت دوست ہونے کا مضبوط ثبوت تھا۔

نوے کی دہائی میں ہی کام کی جگہوں پر خواتین کے تحفظ کی لڑائی شروع ہوئی۔ بھنوری دیوی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد وشاکھا نامی تنظیم کی جانب سے لڑی گئی طویل قانونی جنگ کے نتیجے میں کام کی جگہوں پر خواتین کے تحفظ کے لیے اہم اصول وضع ہوئے۔ بھنوری دیوی راجستھان حکومت کے چائلڈ میرج کے خاتمے کے پروگرام سے وابستہ تھیں۔ بااثر سماجی گروہ نے انہیں سبق سکھانے کے لیے اجتماعی عصمت دری کی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی دور میں آج مرکز میں برسراقتدار جماعت سے وابستہ بعض علاقائی رہنما مبینہ طور پر عصمت دری کے ملزمان کی حمایت میں کھڑے نظر آئے۔

عورت دوست سیاست ہی نے بعد میں خواتین کی خود کفالت کو ’سیلف ہیلپ گروپ‘ کی شکل میں ادارہ جاتی حیثیت دی۔ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم بھی خواتین کو گاؤں ہی میں روزگار فراہم کرنے کے بڑے مقصد سے جڑی ہوئی تھی۔ گھریلو تشدد کو محض خاندانی معاملے کے دائرے سے باہر نکالا گیا۔ یہ بھی ایک سیاسی قدم تھا۔ عورت کو مارا نہیں جاسکتا۔ اگر اسے مارا جاتا ہے تو معاشرہ اور قانون اس سے منہ نہیں موڑ سکتے۔

یہی وراثت پونے میں ایک نئے مرحلے تک پہنچی۔ جب ایک رہنما نے اپنے کردار اور اپنے گرد بنے سیاسی تاثر کے ذریعے عورت کو ایسا محسوس کرایا جیسے وہ اپنے میکے میں ہو۔ بلاشبہ وہاں جدید طالبات تھیں، بے خوف اور بے باک اظہارِ رائے تھا۔ لیکن اس روز گھر میں موبائل فون پر پروگرام کی براہِ راست نشریات سننے والی ایک گاؤں کی بھابی، بہن یا بیٹی نے نم آنکھوں سے کہا کہ جو کچھ ہم اپنے میکے میں بھی کہتے ہوئے جھجھکتے ہیں، وہ سب یہاں کھل کر کہا جا رہا ہے۔ اب ہمیں معلوم ہے کہ کوئی ہمیں سنے گا۔ بغیر کسی پیشگی فیصلے کے ہمیں تسلی دے گا۔ اس کے پاس ہمارے لیے ایک محفوظ سایہ ہوگا۔

مزاحمت میں نسوانیت کے قدموں کی آہٹ پائل کی جھنکار کی طرح خوشگوار ہے۔ امید ہے کہ یہ آواز مزید بلند ہوگی، یہ مزاحمت مزید پھیلے گی اور عورت دوست سیاست کا یہ سفر مزید پُررونق ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔