
علامتی تصویر / اے آئی
رات کے سناٹے میں جب انسان آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتا ہے تو اس کے دل میں ایک عجیب کیفیت جنم لیتی ہے۔ بے شمار ستارے، خاموش چاند، کہکشاؤں کی وسعت اور اس لامتناہی خلا میں معلق زمین — یہ سب دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ دل بے اختیار سوال کرتا ہے: آخر یہ سب کیسے وجود میں آیا؟ کیا یہ محض ایک حادثہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی عظیم عقل، حکمت اور قدرت کارفرما ہے؟
یہ سوال اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود انسان۔ مگر دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جوں جوں سائنس نے کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا، توں توں خدا کے وجود کے دلائل اور زیادہ واضح ہوتے گئے۔ آج جدید سائنس کائنات کے آغاز اور اس کی حیرت انگیز ترتیب کے ذریعے انسان کو ایک ایسے دروازے تک لے آئی ہے جہاں عقل، فطرت اور مشاہدہ ایک ہی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں: اس کائنات کا ایک خالق ضرور ہے۔
Published: undefined
ایک زمانہ تھا جب یہ تصور عام تھا کہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہے۔ مگر بیسویں صدی میں سائنس نے اس خیال کو یکسر بدل دیا۔ جدید فلکیات نے ثابت کیا کہ کائنات ہمیشہ سے قائم نہیں بلکہ اس کا ایک آغاز ہوا۔ سائنس دانوں کے مطابق تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ایک عظیم واقعہ پیش آیا جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اسی لمحے وقت نے جنم لیا، خلا پیدا ہوا، مادہ وجود میں آیا اور کائنات کا سفر شروع ہوا۔
یہ حقیقت بذاتِ خود حیران کن ہے۔ اگر کائنات کا آغاز ہوا تو پھر لازماً اس کا کوئی آغاز کرنے والا بھی ہوگا۔ عقل کا بنیادی اصول ہے کہ ہر وجود میں آنے والی چیز کسی سبب کی محتاج ہوتی ہے۔ ایک کتاب مصنف کے بغیر نہیں لکھی جاسکتی، ایک عمارت معمار کے بغیر کھڑی نہیں ہوسکتی، ایک کمپیوٹر پروگرام خود بخود نہیں بن سکتا۔ اگر چھوٹی چھوٹی چیزوں کے پیچھے عقل اور ارادہ ضروری ہے تو پھر یہ عظیم کائنات بغیر کسی خالق کے کیسے وجود میں آسکتی ہے؟
Published: undefined
بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاید کائنات خود بخود وجود میں آگئی۔ مگر ’خود بخود‘ ایک لفظ تو ہوسکتا ہے، وضاحت نہیں۔ ’کچھ نہیں‘ سے ’کچھ‘ پیدا نہیں ہو سکتا۔ اگر کبھی واقعی مطلق ’کچھ نہیں‘ تھا تو پھر آج یہ کائنات کیوں موجود ہے؟ سائنس خود اس سوال کا مکمل جواب دینے سے قاصر ہے۔ وہ صرف یہ بتاتی ہے کہ کائنات کیسے پھیلی، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ اس پھیلاؤ کا اصل سبب کیا تھا۔
یہاں عقل انسان کا ہاتھ پکڑ کر ایک لازمی نتیجے تک پہنچاتی ہے: کائنات کا سبب خود کائنات سے ماورا ہونا چاہیے۔ وہ وقت اور جگہ کا پابند نہیں ہوسکتا کیونکہ وقت اور جگہ خود اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ وہ مادّی نہیں ہو سکتا کیونکہ مادہ اسی کے بعد وجود میں آیا۔ وہ بے انتہا طاقتور، لازوال اور شعور رکھنے والی ہستی ہونی چاہیے۔ یہی وہ صفات ہیں جنہیں انسان ’خدا‘ کے نام سے جانتا ہے۔
لیکن کائنات کا صرف آغاز ہی خدا کے وجود کا ثبوت نہیں، بلکہ اس کے اندر پائی جانے والی حیران کن ترتیب اور توازن اس حقیقت کو اور زیادہ واضح کر دیتے ہیں۔
Published: undefined
ذرا زمین کے نظام پر غور کیجیے۔ زمین سورج سے ایک ایسے فاصلے پر موجود ہے جہاں زندگی ممکن ہے۔ اگر یہ ذرا سی قریب ہوتی تو ہر چیز جل جاتی، اور اگر تھوڑی سی دور ہوتی تو برف میں تبدیل ہو جاتی۔ زمین کی رفتار، اس کا جھکاؤ، فضا میں آکسیجن کا تناسب، پانی کی موجودگی — سب کچھ اس قدر متوازن ہے کہ معمولی سی تبدیلی بھی زندگی کو ناممکن بنا دیتی۔
صرف زمین ہی نہیں، پوری کائنات ایک حیرت انگیز ’فائن ٹیوننگ‘ کا شاہکار ہے۔ کششِ ثقل کی قوت، روشنی کی رفتار، ایٹم کے اندر موجود بنیادی طاقتیں — یہ سب اس قدر درست مقدار میں موجود ہیں کہ اگر ان میں معمولی سا فرق بھی آ جائے تو ستارے وجود میں نہ آئیں، کہکشائیں نہ بنیں، کاربن پیدا نہ ہو اور زندگی ممکن نہ رہے۔
سائنس دانوں نے اس حقیقت کو مانا ہے کہ کائنات کی بنیادی کانسٹنٹس حیران کن حد تک متوازن ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ توازن کیوں ہے؟ اگر کائنات اندھی طاقتوں اور حادثات کا نتیجہ ہوتی تو اس میں اتنی حیرت انگیز ترتیب کیوں پائی جاتی؟
Published: undefined
اتفاق ہمیشہ بے ترتیبی پیدا کرتا ہے، نظم نہیں۔
اگر کسی صحرا میں آپ کو ایک خوبصورت محل مل جائے تو آپ فوراً سمجھ جائیں گے کہ اسے کسی ماہر معمار نے تعمیر کیا ہے۔ کوئی بھی عقل مند شخص یہ نہیں مانے گا کہ ہوا، بارش اور زلزلوں نے مل کر خود بخود ایک محل بنا دیا۔ تو پھر یہ پوری کائنات، جو کسی محل سے کھربوں گنا زیادہ پیچیدہ اور منظم ہے، اسے بغیر کسی ذہین خالق کے کیسے مان لیا جائے؟
بعض لوگ ملٹی ورس کا نظریہ پیش کرتے ہیں کہ شاید بے شمار کائناتیں ہیں اور ہماری کائنات محض اتفاقاً زندگی کے لیے موزوں نکل آئی۔ مگر یہ نظریہ خود ایک مفروضہ ہے جس کا کوئی قطعی مشاہداتی ثبوت موجود نہیں۔ اور اگر بے شمار کائناتیں بھی ہوں تب بھی سوال باقی رہتا ہے کہ ان سب کو پیدا کرنے والا نظام کہاں سے آیا؟ قوانینِ فطرت کس نے بنائے؟ ترتیب کس نے قائم کی؟
Published: undefined
انسان کا اپنا وجود بھی خدا کی نشانی ہے۔ انسانی دماغ، دل، آنکھ، ڈی این اے اور شعور — یہ سب ایسے حیرت انگیز نظام ہیں جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ایک چھوٹے سے خلیے میں پوری زندگی کا نقشہ محفوظ ہے۔ دل دن رات لاکھوں بار دھڑکتا ہے مگر کبھی خود سے تھکتا نہیں۔ آنکھ لاکھوں رنگ پہچانتی ہے، دماغ یادداشت محفوظ رکھتا ہے، انسان محبت محسوس کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، سوچتا ہے۔
کیا یہ سب محض اندھے مادّی عمل کا نتیجہ ہوسکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر بھی خدا کی پہچان رکھی گئی ہے۔ جب زندگی کے تمام سہارے ٹوٹ جاتے ہیں تو انسان بے اختیار کسی اعلیٰ طاقت کو پکارتا ہے۔ یہ پکار اس بات کی علامت ہے کہ انسان کی روح اپنے خالق کو پہچانتی ہے۔
قرآن مجید بار بار انسان کو کائنات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کا بدلنا، سورج اور چاند کی گردش — یہ سب نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ گویا ایمان اندھی تقلید نہیں بلکہ غور و فکر کا نتیجہ ہے۔
Published: undefined
آج انسان چاند تک پہنچ چکا ہے، مریخ کی تصویریں کھینچ رہا ہے، کہکشاؤں کو دیکھ رہا ہے، مگر جتنا وہ کائنات کو سمجھتا جا رہا ہے، اتنا ہی اس پر یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ یہ سب ایک عظیم حکمت کا مظہر ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ، ہر ستارہ اور ہر سانس ایک خاموش گواہی ہے کہ اس پوری تخلیق کے پیچھے ایک قادر، حکیم اور علیم خالق موجود ہے۔
شاید اسی لیے جب انسان تنہائی میں رات کے آسمان کو دیکھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ ستارے صرف چمک نہیں رہے، بلکہ ایک سچائی سنا رہے ہیں — یہ کائنات اتفاق نہیں، ایک عظیم خالق کا شاہکار ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined