
علامتی تصویر اے آئی
بہار کے الیکشن کمیشن کی جانب سے 25 جون 2025 کو جاری کی گئی پریس ریلیز میں ’میپنگ‘ کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ البتہ ’فیملی گروپنگ‘ کی اصطلاح ضرور استعمال کی گئی ہے، جس کا مطلب انتخابی فہرست میں ایک ہی خاندان کے افراد کے ناموں کو ترتیب وار درج کرنا ہے۔ لیکن اسی عمل کے دوران ہر ووٹر سے 2003 کی ووٹر فہرست سے متعلق معلومات طلب کی گئیں۔ یہی فیملی گروپنگ بعد میں دوسرے مرحلے میں شامل 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کی بنیاد بن گئی اور اسے ’میپنگ‘ کا نام دیا گیا۔
بعد میں پیدا ہونے والے یا جن کا نام 2002-03 کی ووٹر فہرست میں موجود نہیں تھا، ان سے ان کے رشتہ داروں کے بارے میں معلومات طلب کی گئیں۔ یعنی زور اس بات پر تھا کہ ہر ووٹر کو کسی نہ کسی پرانے انتخابی ریکارڈ سے جوڑا جائے۔ لیکن ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کا حصہ بننے والی دہلی میں صورت حال یہ ہے کہ لوگوں نے فارم بھی بھرے، میپنگ سے متعلق مطلوبہ معلومات بھی فراہم کیں، اس کے باوجود ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے غائب ہیں۔
اوکھلا اسمبلی حلقے کی ووٹر منتشا افروز اپنے والدین اور دو بہنوں کے ساتھ شاہین باغ میں رہتی ہیں۔ وہیں پیدا ہوئی ہیں اور دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ہیں۔ والدین سے متعلق تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے باوجود ان کا نام ڈرافٹ فہرست میں شامل نہیں ہے۔ انہیں اے ایس ڈی ڈی فہرست میں ’مستقل طور پر منتقل‘ یعنی ’پرمانینٹلی شفٹڈ‘ قرار دیا گیا ہے۔ بوتھ لیول افسر (بی ایل او) نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس نے اپنا کام مکمل کر دیا، اس کے بعد جو ہوا، وہ کمیشن کے بڑے افسران جانیں۔‘‘ پانچ افراد پر مشتمل یہ خاندان اس پورے عمل کے دوران تین مختلف بی ایل اوز کے درمیان گھومتا رہا۔
پٹپڑ گنج کی 24 سالہ کاجل کا نام بھی ’پرمانینٹلی شفٹڈ‘ قرار دے کر فہرست سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے فارم آن لائن بھرا تھا اور 2025 کے اسمبلی انتخابات میں ووٹ بھی ڈالا تھا۔ ان کے پاس پرانا ای پی آئی سی کارڈ بھی موجود ہے۔ اینیومریشن فارم میں انہوں نے اپنی والدہ کا حصہ نمبر، ترتیب نمبر اور ای پی آئی سی نمبر تک درج کیا، لیکن اس کے باوجود ان کا نام غائب ہے۔ ان کی والدہ کا نام البتہ ڈرافٹ فہرست میں موجود ہے، حالانکہ دونوں ایک ہی پتے پر رہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کمیشن کی ’فیملی گروپنگ‘ کی حقیقت آخر کیا ہے؟
8 ستمبر کو نئی دہلی کے پریس کلب میں ووٹر ادھیکار منچ کی پریس کانفرنس میں ایسے درجنوں متاثرہ افراد سامنے آئے۔ گریٹر کیلاش کے جگدمبا کیمپ کی جھگیوں میں گزشتہ 40 برس سے رہنے والی پشپا دیوی کو ’پرمانینٹلی شفٹڈ‘ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے 2025 کے انتخابات میں ووٹ بھی ڈالا تھا، لیکن ان کے نام کا اینیومریشن فارم ہی جاری نہیں ہوا۔ اسی کیمپ کی 71 سالہ ویرما دیوی کو مردہ قرار دے دیا گیا۔
مایور وہار کے یمنا کھادر علاقے کی پونم کو فارم تو مل گیا، لیکن اسے واپس لینے کوئی نہیں آیا۔ پونم فارم ہاتھ میں لیے انتظار کر رہی ہیں، جبکہ کمیشن کے ریکارڈ میں وہ ’ان ٹریسیبل‘ یعنی ناقابلِ سراغ ہیں۔ دہلی کی 70 سالہ فوٹو جرنلسٹ سر ویش 30 برس سے ایک ہی مقام پر رہ رہی ہیں، لیکن انہیں بھی ’ان ٹریسیبل‘ قرار دیا گیا ہے۔ بی ایل او کا کہنا ہے کہ اس نے ان کا فارم خود بھرا تھا، اس کے باوجود نام ڈرافٹ فہرست سے کیسے غائب ہو گیا، یہ کسی کو معلوم نہیں۔
دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ایس آئی آر سے قبل دہلی میں کل ووٹروں کی تعداد تقریباً 1.45 کروڑ تھی، جبکہ ڈرافٹ فہرست میں صرف 97.5 لاکھ نام شامل کیے گئے ہیں۔ اے ایس ڈی ڈی فہرست میں ’پرمانینٹلی شفٹڈ‘، ’ایبسینٹ‘ اور دیگر زمروں میں 43.2 لاکھ افراد شامل ہیں۔ یہ تعداد تقریباً 47.5 لاکھ کے مجموعی اخراج کا 29.86 فیصد بنتی ہے۔ اس کے علاوہ 2.8 لاکھ ووٹروں کو مردہ اور 1.4 لاکھ کو ڈپلیکیٹ قرار دیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کو ’ان کلیکٹیبل اینیومریشن فارم‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ ایسے ووٹروں کے فارم واپس نہیں مل سکے یا بی ایل او انہیں تلاش نہیں کر سکے۔ لیکن 31 اگست 2026 کی پریس ریلیز میں دہلی کے سی ای او کا دعویٰ ہے کہ 30 جون سے 17 اگست 2026 کے درمیان 1.45 کروڑ ووٹروں میں 100 فیصد اینیومریشن فارم تقسیم کیے گئے۔ اگر ایسا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ووٹر فارم حاصل کرنے کے بعد غائب ہوگئے؟
معاملہ صرف ناموں کے حذف ہونے تک محدود نہیں۔ دہلی میں ڈرافٹ فہرست جاری ہونے کے بعد بہت سے ووٹروں کے پارٹ نمبر بھی تبدیل پائے گئے۔ اے ایس ڈی ڈی فہرست میں کس کا نام ہے اور کس کا نہیں، یہ جانچنے کے لیے نئے پارٹ نمبر کی ضرورت ہے، لیکن بیشتر ووٹروں کو معلوم ہی نہیں کہ ان کا نیا پارٹ نمبر کیا ہے اور وہ اپنا نام کس طرح تلاش کریں۔ دوسری طرف بی ایل او اور بی ایل اے کی میٹنگ کے منٹس اب بھی پرانے پارٹ نمبروں پر مبنی ہیں۔ اس تضاد کو دور کرنے کی ذمہ داری لینے کے لیے کوئی تیار دکھائی نہیں دیتا۔
بی ایل اوز کے کام کرنے کا طریقہ بھی کم حیران کن نہیں۔ اوکھلا کے عادل خان نے اپنے بی ایل او سے پوچھا کہ ’’ہم چار لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، پھر ہمارے ووٹ الگ الگ بوتھ میں کیوں ہیں؟‘‘ بی ایل او کا جواب تھا کہ ’’آپ کی بیوی اور بچوں کے ووٹر کارڈ بعد میں بنے، اسی لیے ایسا ہوا۔‘‘ اگر تصدیق اور میپنگ کا مقصد خاندان اور پرانے ووٹر ریکارڈ کے ذریعے ووٹر کی شناخت قائم کرنا تھا تو ایک ہی خاندان کے افراد کی جانچ چار مختلف بی ایل اوز کے درمیان کیوں تقسیم کردی گئی؟
دہلی میں کمیشن نے ایس آئی آر کا باضابطہ اعلان 14 مئی 2026 کو کیا، حالانکہ ووٹر میپنگ کا عمل اس سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ اوکھلا میں کانگریس کے بی ایل اے-2 جان محمد چوہان کے مطابق جنوری سے اپریل کے درمیان بی ایل اوز لوگوں سے رابطہ کر رہے تھے اور 2002 کی ووٹر فہرست سے متعلق معلومات اور دستاویزات طلب کر رہے تھے۔ اگر کوئی ووٹر مقررہ وقت پر معلومات یا دستاویزات فراہم نہیں کر سکا اور بعد میں بی ایل او سے رابطہ بھی نہیں کیا تو اس کا نام کاٹ دیا جاتا تھا۔ چوہان کا دعویٰ ہے کہ اس طرح تقریباً 20 ہزار نام حذف کیے گئے۔
سیاسی اور سماجی کارکن یوگیندر یادو کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر سے پہلے ووٹر کا نام حذف کرنے کا واحد راستہ فارم-7 تھا۔ اس کے لیے بھی کسی شخص کو کسی ووٹر کے نام پر اعتراض کرنا پڑتا تھا اور ووٹر کو سنے بغیر اس کا نام نہیں کاٹا جا سکتا تھا۔ اوکھلا اسمبلی حلقے کے پرانے پارٹ نمبر 172 کے ایک بوتھ پر نام حذف کیے جانے کے انداز کو دیکھیں تو ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے یہاں 1,874 ووٹر تھے۔ ان میں صرف 936 فارم بی ایل او کو واپس ملے، جبکہ 827 ووٹروں کو ’پرمانینٹلی شفٹڈ‘ قرار دیا گیا۔ 69 ووٹر ’ایبسینٹ‘، 13 مردہ اور 28 ڈپلیکیٹ قرار دیے گئے۔ ایک ووٹر ’دیگر‘ کے زمرے میں تھا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کا مکان منہدم ہو چکا ہے یا اس نے فارم پر دستخط کرنے سے انکار کیا۔
اسی اسمبلی حلقے کے مدن پور کھادر علاقے کے ہڈو محلہ میں واقع پارٹ نمبر 195 پر ایس آئی آر سے پہلے 1,509 ووٹر تھے، لیکن صرف 352 فارم واپس ملے۔ یہاں 1,136 ووٹر ’شفٹڈ‘ قرار دیے گئے، جبکہ ’ایبسینٹ‘ اور ’ڈپلیکیٹ‘ کی تعداد صفر رہی۔ مزید 30 ووٹر ’دیگر‘ زمرے میں ہیں، جن کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کے نام کسی دوسری جگہ کی ووٹر فہرست میں موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر بی ایل او یہ معلوم کر سکتا تھا کہ 30 ووٹروں کے نام کسی دوسری جگہ درج ہیں تو 1,136 ’شفٹڈ‘ ووٹروں کے بارے میں وہ یہی معلومات کیوں فراہم نہیں کر سکا؟ آخر یہ ووٹر گئے کہاں؟
چاندنی چوک کے وجے گھاٹ میں واقع جے جے بیلا اسٹیٹ میں رہنے والے 500 سے زائد افراد نے اینیومریشن فارم بھرا، لیکن ڈرافٹ فہرست میں سب کے نام غائب ہیں۔ بی ایل او-بی ایل اے میٹنگ کے منٹس کے مطابق ایس آئی آر شروع ہونے کے وقت پارٹ نمبر 33، یعنی نگم پرتیما ودیالیہ، انگوری باغ، لال قلعہ بوتھ پر کل 729 ووٹر تھے، لیکن ایس آئی آر کے بعد صرف ایک ووٹر باقی رہ گیا۔ ڈرافٹ فہرست میں بوتھ کا نمبر بھی بدل کر 38 کر دیا گیا ہے اور قریب واقع ہنومان مندر کے مہنت کنچن گری اس بوتھ کے واحد ووٹر ہیں۔
مقامی رہائشی کمل کے دادا اور والد 1961 سے اسی مقام پر ووٹ ڈالتے آئے تھے، لیکن ان کے نام بھی ڈرافٹ فہرست سے باہر ہیں۔ 729 میں سے 632 افراد کو ’شفٹڈ‘، ایک کو ’ایبسینٹ‘، 42 کو مردہ اور 10 کو ڈپلیکیٹ قرار دیا گیا۔ مزید 43 افراد ’دیگر‘ زمرے میں شامل ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نام حذف کرنے کا عمل اینیومریشن فارم سے شروع نہیں ہوا تھا۔ ووٹر ادھیکار منچ سمیت کئی سول سوسائٹی گروپوں کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے ہی لاکھوں نام ووٹر فہرست سے حذف کیے جا چکے تھے۔
دہلی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر سے قبل کی میپنگ میں 2025 کی ووٹر فہرست کا 2002 کی فہرست سے موازنہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جو ووٹر اپنے رجسٹرڈ پتے سے کہیں اور منتقل ہو چکے تھے، انہیں اسپیڈ پوسٹ کے ذریعے نوٹس بھیجے گئے اور سماعت کے لیے وقت بھی دیا گیا۔
لیکن زمینی حقیقت ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ مہرولی اسمبلی حلقے کے راجوکری پہاڑی علاقے کے ستپال کا نام پری ایس آئی آر میپنگ میں ہی حذف کردیا گیا، حالانکہ وہ 1965 سے اسی علاقے میں رہ رہے ہیں اور گزشتہ 15 برس سے اپنے ذاتی مکان میں مقیم ہیں۔ ان کے مطابق وہ گھر پر ہی رہتے ہیں اور بی ایل او سے بھی مل چکے ہیں۔ خاندان کے تمام دوسرے افراد کے نام ڈرافٹ فہرست میں موجود ہیں، لیکن ان کا نام مئی میں ہی حذف کردیا گیا۔ انہیں نہ کوئی نوٹس ملا، نہ فون آیا اور نہ اسپیڈ پوسٹ کے ذریعے کوئی اطلاع دی گئی۔
شمال مغربی دہلی کے مبارک پور ڈباس میں رہنے والی گھریلو ملازمہ پوجا نے 2020 اور 2024 کے دونوں انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا۔ ان کے خاندان کے دیگر افراد کو اینیومریشن فارم ملے، لیکن انہیں نہیں ملا۔ بی ایل او نے ان سے کہا: ’’آپ کا نام فہرست میں نہیں ہے، فارم-6 بھریے۔‘‘ ’دی وائر‘ کے مطابق ووٹر ادھیکار منچ اور صابر انسٹی ٹیوٹ نے کمیشن کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے گئے اپنے مطالعے میں پایا کہ پری ایس آئی آر میپنگ کے دوران دہلی میں ووٹروں کی تعداد 31 جنوری 2026 سے 30 جون 2026 کے درمیان 1.56 کروڑ سے کم ہو کر 1.45 کروڑ رہ گئی۔ مزید یہ کہ 70 میں سے 68 اسمبلی حلقوں میں حذف کیے گئے ووٹروں کی تعداد 2025 کے اسمبلی انتخابات میں جیت اور ہار کے فرق سے زیادہ تھی۔
زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ کمیشن نے ان ووٹروں کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے جن کی میپنگ نہیں ہو سکی یا جنہیں نوٹس دیا جانا تھا۔ سماجی کارکن انجلی بھاردواج نے دہلی کے سی ای او سے سوال کیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 33 لاکھ لوگوں کو نوٹس دیے جانے ہیں۔ ان میں 19.3 لاکھ ’ڈسکریپینسی‘ یعنی تضاد والے ووٹر اور 13.7 لاکھ ’ان میپڈ‘ ووٹر بتائے گئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر جن ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے ہیں، ان کے نام سی ای او کی ویب سائٹ پر کیوں نظر نہیں آ رہے؟
اوکھلا میں کانگریس کے بی ایل اے-1 سید فیض العظیم کے مطابق ’’انتخابی کمیشن اور بی ایل او ہی جانتے ہیں کہ کون ان میپڈ ہے اور کس کو نوٹس ملنا ہے۔ بی ایل او براہ راست نوٹس دے رہا ہے، بی ایل اے کو ان میپڈ افراد کی کوئی فہرست نہیں دی گئی۔‘‘ حالانکہ اتر پردیش میں کمیشن نے ان میپڈ ووٹروں کی ضلع وار فہرست جاری کی تھی۔ ڈرافٹ فہرست شائع ہونے کے بعد اتر پردیش میں 1.04 کروڑ افراد ان میپڈ پائے گئے تھے۔ اتراکھنڈ میں بھی ایسے ووٹروں کی تعداد 5.2 لاکھ ہے۔ پھر دہلی میں یہ اعداد و شمار باضابطہ طور پر کیوں جاری نہیں کیے گئے، اس کا جواب کہیں سے نہیں ملتا۔
اب دہلی میں ڈرافٹ فہرست سے باہر کیے گئے 47.5 لاکھ لوگوں کو دوبارہ فارم-6 بھرنا ہوگا۔ ووٹر فہرست میں شامل ہونے کے لیے فی الحال ان کے پاس یہی راستہ ہے۔ دہلی سی ای او کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کا نام ڈرافٹ فہرست میں شامل نہیں ہے، وہ دعووں اور اعتراضات کے مرحلے، یعنی 31 اگست سے 30 ستمبر 2026 کے دوران فارم-6 بھر کر متعلقہ دستاویزات کے ساتھ اپنا نام دوبارہ ووٹر فہرست میں شامل کرا سکتے ہیں۔
لیکن اصل سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے: کیا 47.5 لاکھ لوگوں کے فارم-6 جمع کرانے، ان کی جانچ کرنے اور ان کے نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے بی ایل اوز کے پاس کافی وقت اور وسائل ہیں؟ اگر بالآخر ان لوگوں کو ووٹر فہرست میں شامل ہی کرنا تھا تو کمیشن نے عجلت میں ان کے نام حذف کیوں کیے؟ جن لوگوں نے پہلے ہی ایس آئی آر کا فارم بھر دیا تھا، انہیں اب دوبارہ فارم-6 کیوں بھرنا پڑ رہا ہے؟
ایس آئی آر کی پوری مشق کا بنیادی مقصد ووٹر فہرست کو درست، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا بتایا گیا تھا۔ لیکن اگر ایک ہی خاندان کے افراد مختلف زمروں میں چلے جائیں، ایک ہی پتے پر رہنے والے افراد میں سے کسی کا نام برقرار رہے اور کسی کو ’شفٹڈ‘ قرار دے دیا جائے، دہائیوں سے ایک ہی جگہ رہنے والوں کو ’ان ٹریسیبل‘ بتایا جائے اور فارم بھرنے کے باوجود نام ڈرافٹ فہرست سے غائب ہو جائیں تو سوال صرف انتظامی خامی کا نہیں رہتا۔
سوال یہ ہے کہ میپنگ کے اس پورے عمل میں غلطی کہاں ہوئی، اس کی ذمہ داری کس کی ہے اور جن لاکھوں لوگوں کے نام حذف ہوئے ہیں، انہیں اس کا خمیازہ کیوں بھگتنا پڑ رہا ہے؟ انتخابی کمیشن آخر میپنگ کی ان خامیوں پر جواب دہی سے کب تک بچتا رہے گا؟
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔