فکر و خیالات

آر ایس ایس کی حکمتِ عملی: ممتا بنرجی کے لیے چیلنج یا غیر متوقع فائدہ؟...سوربھ سین

مغربی بنگال میں آر ایس ایس کی بڑھتی سرگرمیاں بی جے پی کو مضبوط بنا سکتی ہیں، لیکن اندرونی اختلافات اور ممتا بنرجی کی سیاسی چالیں اس حکمت عملی کو الٹا ان کے حق میں بھی موڑ سکتی ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

جب جولائی 2023 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی قیادت نے راجیہ سبھا کے لیے ناگیندر رائے المعروف اننت مہاراج کو منتخب کیا تو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے اندر شدید ناراضگی دیکھنے میں آئی۔ مقامی سطح پر آر ایس ایس کے کئی ذمہ داران کا خیال تھا کہ پارٹی کو کسی ایسے شخص کو آگے لانا چاہیے تھا جو اس کی نظریاتی بنیادوں سے زیادہ مضبوطی سے جڑا ہو۔ اننت مہاراج وہ شخصیت تھے جو مغربی بنگال سے الگ ریاست ’گریٹر کوچ بہار‘ کے قیام کی تحریک کی قیادت کر چکے تھے۔ لیکن حیرت اس وقت ہوئی جب وہ بلا مقابلہ منتخب ہو گئے اور انتخاب کے فوراً بعد انہوں نے اپنی علیحدہ ریاست کی مانگ ترک کر دی۔ یہ صورتحال ترنمول کانگریس اور آر ایس ایس دونوں کے لیے قابل قبول محسوس ہوئی۔

Published: undefined

فروری 2026 میں جب مغربی بنگال حکومت نے اننت مہاراج کو ریاست کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’بنگ وبھوشن‘ سے نوازا تو ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے۔ تجزیہ کاروں نے اسے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی قرار دیا، جس کا مقصد اسمبلی انتخابات سے قبل آر ایس ایس اور بی جے پی کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا تھا۔

ممتا بنرجی اور آر ایس ایس کے تعلقات ہمیشہ حالات کے مطابق بدلتے رہے ہیں۔ 2011 سے پہلے جب ممتا کو بائیں بازو کی جماعتوں سے مقابلہ درپیش تھا، اس وقت وہ آر ایس ایس کے کارکنوں کو ’دیش بھکت‘ قرار دیتی تھیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے تنظیم کے بعض عناصر کی تعریف بھی کی۔ لیکن جیسے جیسے سیاسی حالات بدلے اور انتخابات قریب آئے، یہ تعلقات کشیدگی میں تبدیل ہو گئے۔ آج ترنمول کانگریس آر ایس ایس کو بی جے پی کے ’بنگال مخالف ایجنڈے‘، فرقہ وارانہ سیاست کو ہوا دینے اور ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر نام خارج کرنے کے عمل کے پیچھے بنیادی قوت قرار دے رہی ہے۔

Published: undefined

دوسری جانب آر ایس ایس نے بھی اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔ اب وہ صرف نظریاتی اثر و رسوخ تک محدود نہیں بلکہ زمینی سطح پر براہِ راست انتخابی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ تنظیم کے ایک سینئر رہنما جیشنو باسو کے مطابق یہ انتخابات بنگال کے لیے انتہائی اہم ہیں اور بنگالی ہندوؤں کے وجود کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

بی جے پی کے تقریباً 40 فیصد امیدوار ایسے ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز آر ایس ایس کے کارکن یا پرچارک کے طور پر کیا۔ اس کے بعد انہیں پارٹی سیاست میں لایا گیا۔ کھڑگپور صدر جیسی اہم نشستوں پر دلیپ گھوش جیسے چہرے میدان میں ہیں، جن کی جڑیں آر ایس ایس میں گہری ہیں۔ انتخابی دنوں میں آر ایس ایس کے رضاکار پولنگ بوتھوں کے انتظامات میں بھی سرگرم کردار ادا کرتے ہیں، تاکہ ان علاقوں میں ووٹنگ کا تناسب بڑھایا جا سکے جہاں بی جے پی مضبوط سمجھی جاتی ہے۔

Published: undefined

ایک بائیں بازو کے کارکن کے مطابق شہری علاقوں میں امیر بی جے پی حامی عموماً پولنگ ڈیوٹی جیسے کاموں میں دلچسپی نہیں لیتے، جس کی تلافی دیہی علاقوں میں آر ایس ایس کے کارکن کرتے ہیں۔ تنظیم نے چار اہم جغرافیائی خطوں پر توجہ مرکوز کی ہے جہاں انتخابات کے نتائج کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ ان میں سب سے اہم متوا برادری کا علاقہ ہے، جس میں شمالی 24 پرگنہ اور ندیہ ضلع کی کئی نشستیں شامل ہیں۔

متوا برادری کے تقریباً 9.5 فیصد افراد کو دستاویزی مسائل کے باعث ’نان میپڈ‘ زمرے میں رکھا گیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر آر ایس ایس نے ٹھاکر نگر کے اطراف دستاویزات کی فراہمی کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کیے ہیں۔

Published: undefined

آر ایس ایس کے ایک کارکن نے بتایا کہ سرحد پار بنگلہ دیش کے علاقوں میں جماعتِ اسلامی کو انتخابات میں ملی کامیابی ہمارے لیے ایک بڑی تشویش کا سبب ہے۔ مغربی بنگال کے شہری اور صنعتی علاقوں- جیسے کولکاتہ، ہاوڑہ اور آسنسول میں، جہاں ووٹر لسٹ سے سب سے زیادہ نام خارج کیے گئے ہیں، آر ایس ایس ‘لاپتا ووٹروں’ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ‘سدبھاؤ میٹنگز’ منعقد کر رہی ہے۔ جورا سانکو، چورنگی اور کولکاتا پورٹ جیسے ملے جلے علاقوں میں، جہاں ہندی بولنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے، وہاں آر ایس ایس مقامی مسائل سے جڑے جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جھارگرام، پرولیا اور بانکورہ تک پھیلے جنگل محل کے قبائلی خطے میں ’ون واسی کلیان آشرم‘ اپنی ’پنچ پریورتن پہل‘ کے ذریعے اس مہم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اس پہل میں سماجی ہم آہنگی، خاندانی اقدار، ماحولیات، خود انحصاری اور شہری ذمہ داریوں پر زور دیا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ قبائلی دیہات میں ’سوابودھ‘ (خود آگاہی) کی فضا قائم ہونے سے ’یوواشری‘ اور ’لکشمی بھنڈار‘ جیسی سرکاری فلاحی اسکیموں پر انحصار کم ہوگا۔

Published: undefined

آر ایس ایس کی سرگرمیاں بھارتیہ جنتا پارٹی یا ترنمول کانگریس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی یا نقصان دہ—یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر شدت کے ساتھ بحث جاری ہے۔

مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی کے سینئر رہنما اور مرکزی کمیٹی کے سابق رکن رابن دیب کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی دراصل آر ایس ایس کی ہی پیداوار ہیں اور تنظیم انہیں بنگال سے ہٹانا نہیں چاہے گی۔ ان کے مطابق 1990 کی دہائی کے آخر میں دو علاقائی جماعتوں کے قیام کے پیچھے بھی آر ایس ایس کا کردار تھا—1996 میں تمل ناڈو میں جی کے موپنار کی قیادت میں ’تمل مانیلا کانگریس‘ اور 1998 میں مغربی بنگال میں ’ترنمول کانگریس‘۔ ان کا مقصد دونوں ریاستوں میں کانگریس کو کمزور کرنا تھا۔ رابن دیب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممتا بنرجی نیو ٹاؤن میں جو ’درگا آنگن‘ تعمیر کروا رہی ہیں، اسے موہن بھاگوت کی تائید حاصل ہے، اور بھاگوت نے ہی ممتا بنرجی کو ’درگا‘ کہا تھا۔

Published: undefined

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ترنمول کانگریس کے دورِ حکومت میں ہی آر ایس ایس نے مغربی بنگال میں اپنی تنظیمی بنیاد کو مضبوط کیا۔ جب 2011 میں ممتا بنرجی اقتدار میں آئیں تو آر ایس ایس کی تقریباً 830 شاخیں تھیں، جو اب پانچ گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ وسطی بنگال میں 2023 سے 2025 کے درمیان 500 نئی شاخیں قائم کی گئیں، جس سے ان کی تعداد 1,320 سے بڑھ کر 1,823 ہو گئی۔ پورے دیہی بنگال، خاص طور پر سرحدی اضلاع میں، روزانہ شاخوں، ہفتہ وار نشستوں اور ماہانہ اجتماعات کی تعداد میں اضافہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس وقت ایسی 4,540 اکائیاں سرگرم ہیں، اور 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اس تعداد کو 8,000 تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ودیا بھارتی اکھل بھارتیہ شکشا سنستھان اور اس کی ریاستی سطح کی شاخوں—سرسوتی ششو مندر اور سرسوتی ودیا مندر—کے تحت چلنے والے ادارے مغربی بنگال میں آر ایس ایس اور ترنمول کانگریس کے نسبتاً پُرامن بقائے باہمی کی مثال پیش کرتے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے، جو بائیں بازو کے سیکولر ریاستی بورڈ اور متمول مشنری اسکولوں دونوں کو چیلنج کرتے ہیں، 2011 کے بعد تیزی سے بڑھے ہیں۔ اس وقت ودیا بھارتی سے وابستہ 1,500 سے زائد اسکول موجود ہیں، جن میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

Published: undefined

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے اندرونی دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ ایک دھڑا—جس کی قیادت دلیپ گھوش کر رہے ہیں—کو آر ایس ایس کی حمایت حاصل ہے، جبکہ دوسرا دھڑا، جس کی قیادت سوویندو ادھیکاری کے ہاتھ میں ہے، کو امت شاہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر دونوں گروہوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔

اگر آر ایس ایس ممتا بنرجی کے تئیں نرم رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتی ہے، مثلاً پولنگ بوتھوں پر سرگرم کردار نہ ادا کرنے کی صورت میں، تو اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ مغربی بنگال بی جے پی کی پہنچ سے دور ہی رہے۔ چاہے ووٹر لسٹ میں رد و بدل کیا گیا ہو، امیت شاہ نے ریاستی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہوں، یا پچاس ہزار نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہوں، اس کے باوجود سیاسی نتائج غیر متوقع رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم ایک آزاد صحافی اور تجزیہ نگار ہیں)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined