
علامتی تصویر / اے آئی
کرسٹوفر نولن کی شاندار فلم ’اوڈیسی‘ ان دنوں سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ یہ ہومر کے اسی نام کے مشہور یونانی رزمیہ پر مبنی ہے۔ ادھر یہ بھی خبریں ہیں کہ رامائن پر ایک نئی فلم بھی جلد ریلیز ہونے والی ہے۔
آخر ہم انسان، یعنی ہومو سیپیئنز، ان قدیم اساطیری کہانیوں میں سکون کیوں تلاش کر رہے ہیں؟ اگر عام زبان میں کہیں تو انسانیت اپنی ہی پھیلائی ہوئی افراتفری میں ڈوبنے کے بعد اب پھر انہی قدیم داستانوں کا سہارا ڈھونڈ رہی ہے۔ اندھی ترقی کی دوڑ نے دنیا کو بری طرح تباہ کر دیا ہے، موسم اور آب و ہوا بپھر چکے ہیں۔ خوفناک تشدد، زمین کی بندربانٹ اور اپنی ہی نسل کے لوگوں کو اپنی ہی سرزمین پر مہاجر بنا دینے کی دوڑ کے بعد زخمی انسانی احساسات کو تسلی دینے کی ایک کوشش شاید یہی ہے۔
دونوں داستانوں میں کچھ مماثلتیں بھی ہیں۔ دونوں کے ہیرو کو اپنا وطن چھوڑنا پڑتا ہے۔ محبوبہ کو حاصل کرنے کے لیے تیر کمان اٹھانے پڑتے ہیں۔ جس ہرن کا شکار کرنے کے لیے ہیرو نکلتا ہے، آخر میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہرن نہیں بلکہ ایک انسان تھا۔ لیکن ان دونوں داستانوں میں نمایاں اختلافات بھی ہیں۔ یہ کہنا کہ ایک داستان دوسری سے متاثر ہے، نہ صرف مشکل بلکہ غیر ذمہ دارانہ بات ہوگی۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ دونوں رزمیے اپنی اپنی تہذیبی روایات میں آزادانہ طور پر تخلیق ہوئے ہوں۔ آخر اساطیری کہانیاں انسانی تخیل کی پیداوار ہیں، وہ سرحدوں کی پابند کیسے ہو سکتی ہیں؟
انسانی ارتقا کے طویل سفر میں زرعی تہذیب بہت بعد میں وجود میں آئی۔ اس کی عمر محض دس ہزار سال ہے۔ اس سے پہلے دنیا موجودہ معنوں میں سرحدوں میں تقسیم نہیں تھی۔ زمین کی اہمیت اور اس کی کاشت کی ضرورت کے ساتھ ہی شاید پدرشاہی نظام وجود میں آیا، تاکہ عورت کی ملکیت مرد کے ہاتھ میں رہے۔ اسی لیے بیشتر قدیم کہانیاں زمین اور عورت کی ملکیت کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔
اوڈیسی اور رامائن میں مماثلت کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔ جب وسط ایشیا کے مویشی پالنے والے قبائل مختلف سمتوں میں پھیلنے لگے تو سائنسی تحقیق کے مطابق ان کے گروہوں میں عورتوں کی تعداد بہت کم تھی۔ یہی گروہ اپنے ساتھ پروٹو انڈو یورپی زبان اور مویشیوں کی دولت لے کر دنیا کے مختلف علاقوں میں پہنچا۔ بعد میں اسی زبان سے یونانی، سنسکرت، لاطینی اور کئی دوسری زبانیں وجود میں آئیں۔ عورت، زرخیز زمین اور پانی کی تلاش نے ان گروہوں کو مسلسل آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔ ظاہر ہے کہ اس سفر کے دوران کئی ایک جیسی کہانیاں بھی انسانی ذہن میں جنم لے چکی ہوں گی، کیونکہ داستانیں بڑی آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہیں۔
ان قبائل کے پھیلنے سے پہلے بھی قدیم تہذیبوں کے درمیان کہانیوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہوگا۔ عراق کی قدیم سومیری تہذیب میں مشہور گلگامش کی داستان یقیناً ہڑپہ کی شہری تہذیب تک بھی پہنچی ہوگی۔ رامائن اگرچہ صدیوں بعد، تقریباً تیسری یا چوتھی صدی عیسوی میں تحریری شکل میں مرتب ہوئی، لیکن اس کا منظوم متن اس سے بہت پہلے وجود میں آ چکا ہوگا۔
یونانی سیاح، فلسفی اور تاجر شمال مغربی ہندوستان آتے جاتے رہتے تھے۔ کیرالہ کی بندرگاہ موزیریس سمیت کئی ساحلی شہر بین الاقوامی تجارت کے مراکز تھے۔ سکندر اعظم بھی چوتھی صدی قبل مسیح میں دریائے جہلم تک پہنچا اور اس علاقے، جو آج پاکستان میں واقع ہے، میں اپنے نمائندے مقرر کر گیا۔ ایسے حالات میں ادبی اور ثقافتی تبادلے کو ناممکن قرار نہیں دیا جا سکتا، اگرچہ یہ اس مضمون کا بنیادی موضوع بھی نہیں ہے۔
رامائن کی تخلیق کے زمانے میں مندر کے وجود کے کوئی واضح آثار نہیں ملتے۔ اس وقت تک ہندوستان میں خدا کو مجسم شکل دے کر مورتی یا مندر میں محدود کرنے کی روایت وجود میں نہیں آئی تھی۔ البتہ جب رامائن کو تحریری صورت دی گئی تو اس وقت تک مذہبی مقامات تشکیل پانے لگے تھے۔ غالب امکان یہی ہے کہ مصر، فارس اور یونان کے اثرات کے نتیجے میں دیوتاؤں کے لیے مستقل عبادت گاہیں تعمیر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پرچم، ستون اور مذہبی یادگاروں کے ابتدائی نمونے پہلی صدی قبل مسیح سے دوسری صدی عیسوی کے درمیان کے مانے جاتے ہیں۔
اسی دور میں ہیلیوڈورس ستون قائم کیا گیا، جسے یونانی نژاد سفیر ہیلیوڈورس نے خود کو ’بھاگوت‘ کہتے ہوئے شونگ حکمران بھاگ بھدر کے اعزاز میں ودیشا میں نصب کرایا۔ مورخین اسے برصغیر میں مذہبی تعمیرات کی اولین علامتوں میں شمار کرتے ہیں۔
چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی کے بعد مندروں کی تعمیر کا سلسلہ تیزی سے شروع ہوا۔ رومی تجارت وسط ایشیا کے ہون حملوں سے متاثر ہوئی تو اندرون ملک زرعی معیشت کو وسعت دینا ضروری ہو گیا۔ اسی زرعی توسیع نے جاگیردارانہ نظام کو مضبوط کیا۔ مختلف قبائلی سرداروں کو ذات پات کے نظام میں شامل کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ انہیں سورج یا چندر ونش کا وارث قرار دیا گیا، جس کے لیے برہمن پجاریوں کی ضرورت پیش آئی۔ اس کے بدلے میں پجاریوں کو حکمرانوں کی سرپرستی حاصل ہوئی، اور یوں مندر صرف عبادت گاہیں نہیں رہے بلکہ آہستہ آہستہ تجارت اور معیشت کے بڑے مراکز میں تبدیل ہو گئے۔
ان مندروں نے وقت گزرنے کے ساتھ شاہی روایات بھی اپنا لیں۔ جس طرح بادشاہوں کو طاقت اور اختیار کی علامت سمجھا جاتا تھا، اسی طرح دیوتاؤں کی مورتیوں کو بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ پیش کیا جانے لگا۔ ان کے ہاتھوں میں ہتھیار، دولت اور تحفظ کی علامتیں رکھی گئیں۔ ان کے سونے، جاگنے، لباس بدلنے اور سنگھار کرنے کی رسومات رائج ہوئیں۔ جب ہر جاگیردار خود کو ’دیوتا کا بیٹا‘ کہنے لگا تو لازماً یہ بھی بتانا پڑا کہ اس دیوتا کی شکل و صورت اور حیثیت کیا ہے۔
دنیا بھر کی روایت یہی رہی ہے کہ حملہ آور حکمران مقامی دیوی دیوتاؤں کو اپنا لیتے تھے اور انہیں اپنے قدیم عقائد سے جوڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی طرح وسط ایشیا سے آنے والے کُشان حکمرانوں نے بھی اپنے سکوں پر شیو، بدھ اور اوستائی مذہب کے اہورا کی تصاویر کندہ کرائیں۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ذات پات پر مبنی سماج میں دلت، آدیواسی اور دیگر پسماندہ طبقات کو مندروں میں داخلے کا حق حاصل نہیں تھا۔ جو کاریگر مندر تعمیر کرتے تھے، انہیں ہی گربھ گرہ (مندر کے مقدس ترین حصے) میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ جو لوگ پھولوں کے ہار بناتے تھے، وہ خود انہیں اندر جا کر نہیں چڑھا سکتے تھے۔ اس طرح مندر رفتہ رفتہ سماجی بالادستی رکھنے والے طبقے کا مرکز بن گئے، جبکہ دلتوں، آدیواسیوں اور دوسرے محروم طبقات نے اپنی عبادت اور عقیدت کے لیے الگ مقامات اور روایات اختیار کیں۔
بہرحال، اوڈیسی سے ہٹ کر دیکھا جائے تو رامائن آج بھی ایک زندہ روایت ہے۔ رام لیلا نے اسے نسل در نسل زندہ رکھا ہے۔ ہر نئی نسل نے اس میں کچھ نہ کچھ شامل کیا، کچھ نئے معنی پیدا کیے اور کچھ اپنی روایت کے مطابق اپنایا۔ اسی لیے رامائن، اوڈیسی سے بالکل مختلف ہے۔ ہندوستان میں اس کے بے شمار نسخے موجود ہیں اور ہر روایت میں کہانی کا کوئی نہ کوئی پہلو جداگانہ ہے۔
رامائن صرف ایک داستان نہیں بلکہ ایک روحانی علامت بھی ہے۔ اوڈیسی میں ہرن انسان میں بدل جاتا ہے، لیکن رامائن میں کرداروں کے ذریعے گہرے اخلاقی اور روحانی پیغامات دینے کی کوشش کی گئی ہے، جنہیں اگر چاہیں تو سمجھا جا سکتا ہے۔
’سیتا‘ کا تعلق لفظ ’سیت‘ یعنی ہل سے ہے، جو زراعت اور محنت کی علامت ہے۔ جب محنت کرنے والا معاشرہ سونے کے ہرن یعنی سراب اور لالچ کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے تو وہ قید میں چلا جاتا ہے۔ خواہ وہ قید سونے کی ہی کیوں نہ ہو، آخرکار قید ہی ہوتی ہے۔ وہاں صرف استعمال ممکن ہوتا ہے، تخلیق اور محنت کا دم گھٹ جاتا ہے۔ اس قید سے نکلنے کے لیے دوبارہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
چندے، دان پیٹیوں اور عقیدت کے نام پر ہونے والی بدعنوانیوں میں الجھے ہوئے آج کے مندر کیا خود ایک سراب (مریچکا) نہیں بن گئے؟ جیسے ہرن کے روپ میں ایک انسان چھپا ہوا تھا، ویسے ہی اگر اس ظاہری پردے کو ہٹایا جائے تو اندر تشدد، نفرت اور استحصال دکھائی دیتا ہے۔
آج جدید مشینوں سے پتھر تراشنے والے مزدور سلیکوسس جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اگر اس چمکتے ہوئے ظاہری منظر سے پردہ ہٹایا جائے تو ان کی کراہیں اور تکلیف صاف سنائی دیتی ہے۔
خدا ساکار ہے یا نراکار، اس کا فیصلہ کرنا آسان نہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ خدا کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ انسان کی روح میں بستا ہے۔ مندر کی مورتی میں انسان کے اجتماعی ضمیر کی جھلک ضرور دیکھی جا سکتی ہے، مگر اگر وہاں نہ ضمیر باقی رہے اور نہ روح، تو صرف ایک بے جان مجسمہ رہ جاتا ہے، جسے زیورات اور سونے سے سجا دیا گیا ہو۔
رام تو بہت پہلے وہاں سے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے تیر سے سرمایہ اور لالچ کے ’ماریچ‘ کو پہچان لیا تھا اور وہ سرمایہ پرستی کے ان مراکز سے بہت پہلے آزاد ہو چکے ہیں۔ اگر مندر صرف سرمایہ کے مراکز بن جائیں تو وہاں رام نہیں رہتے۔ رام تو ہر انسان کے اندر بستے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی کے دل میں اللہ ہے، عیسیٰ ہیں یا کوئی اور روحانی تصور۔ وہ تو انسانیت کے اندر ہی موجود رہتے ہیں۔
رام انسان کو حیوان بننے سے روکتے ہیں اور اسے بندھنوں سے آزاد کرتے ہیں۔ جب انہوں نے ماریچ کو بھی بندھن سے نجات دی تو پھر وہ خود کسی مندر کی چار دیواری میں کیوں مقید ہوں گے؟ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے رام کو چرا لیا ہے، وہ غلط فہمی میں ہیں۔ رام کو چرایا نہیں جا سکتا۔ اگر کچھ لُٹا ہے تو وہ صرف ایک عمارت یا سرمایہ کا مرکز ہے، نہ کہ خدا۔ خدا وہاں نہیں رہتا۔ رام اپنی اصل میں ہمیشہ آزاد اور بے نیاز ہیں۔
آستھا (عقیدت) کو یہ فیصلہ خود کرنا ہوگا کہ اسے کہاں سکون ملتا ہے؛ چندے کی پیٹی میں یا انسان کے لیے رحمت، محبت اور رحم دلی کے جذبے میں۔ اسے پہچاننا ہوگا کہ اصل مندر کہاں ہے اور کہاں صرف ایک سراب ہے۔ شاید اسی لیے ’ہے رام‘ کہہ کر جان دینے والا شخص کبھی بھی رام کو کسی مندر میں ڈھونڈنے نہیں گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔