فکر و خیالات

پیپر لیک تنازعہ: مخدوش سسٹم کے زخموں کا علاج تکنیک میں موجود نہیں... ہرجندر

این ٹی اے کی ناکامیاں بہت زیادہ سنٹرلائزیشن کی ناکامیاں تھیں۔ جوابدہی کے بنیادی سوال کو مخاطب کیے بغیر سنٹرلائزڈ تکنیکی ڈھانچے کی جگہ دوسرا سنٹرلائزڈ تکنیکی ڈھانچہ کھڑا کیا جائے تو کچھ فائدہ نہیں ہوگا

<div class="paragraphs"><p>مظاہرین طلبا و نوجوان، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>

مظاہرین طلبا و نوجوان، تصویر قومی آواز/ویپن

 

امتحان کے نظام کی مسلسل ناکامیوں کے لیے جوابدہی کے مطالبہ پر ملک بھر میں ہونے والی جین-زی تحریک پر وزیر اعظم نریندر مودی کا بہت دیر سے آیا پہلا ردعمل انتہائی مضحکہ خیز تھا یا چالاکی بھرا؟

23 جولائی کی رات ٹھیک نصف شب سے 8 منٹ پہلے وزیر اعظم نے انسٹاگرام کا سہارا لیا۔ سیلفی کے انداز میں بنائی گئی ایک ویڈیو کے ذریعہ ’فرینڈز‘ کو بتایا کہ پیپر لیک روکنے کے لیے مزید سخت قانون لایا جائے گا۔ 3 دن بعد 26 جولائی (اتوار) کو وہ دوبارہ انسٹاگرام پر واپس آئے۔ اس بار اس اعلان کے ساتھ کہ انفوسس کے شریک بانی نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے، جو ’امتحان سے متعلق اصلاحات‘ پر کام کرے گی۔

حکومت نے ان طلبا سے براہ راست بات چیت ضروری نہیں سمجھی، جو کئی دنوں سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے اور جن کے خدشات کے حل کے نام پر یہ اعلانات کیے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ حال ہی میں مقرر کیے گئے وزیر تعلیم کو بھی اس سلسلے میں کچھ کہنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس کی جگہ وزیر اعظم نے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو جین-زی سے بات چیت کے لیے منتخب کیا، جس نے ان کی تحریک کو رفتار دی تھی۔ یہ ڈیجیٹل نسل کو اسی کی زبان اور اسی کے پلیٹ فارم پر قابو میں کرنے کی حکمت عملی تھی، لیکن مسائل کے حل کی حکمت عملی نہیں۔

سب سے پہلے بات ٹاسک فورس کی۔ نندن نیلیکنی کی پہچان بنیادی طور پر آدھار پروجیکٹ کے معمار کے طور پر رہی ہے۔ 2010 میں شروع ہونے والے اس بایومیٹرک شناختی نظام نے انہیں ملک کے سب سے بااثر ٹیکنوکریٹس میں شامل کر دیا۔ وہیں آدھار کو لے کر رازداری، نگرانی اور ڈاٹا سیکورٹی پر سنجیدہ بحثیں بھی ہوئیں۔ یہ پروجیکٹ آج بھی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور خود حکومت بھی اب آدھار کو نہ تو شہریت کا حتمی ثبوت مانتی ہے اور نہ ہی شناخت کا۔ نیلیکنی کی ٹیم میں سابق انٹیلی جنس بیورو سربراہ تپن ڈیکا، سابق اسرو چیئرمین ایس. سومناتھ، وی. کامکوٹی، سابق ایجوکیشن سکریٹری انیتا کاروال اور سابق کوئلہ سکریٹری انل کمار جین شامل ہیں۔ یعنی بیوروکریٹس، تکنیکی ماہرین اور منتظمین۔ لیکن اس پوری ٹیم میں ممتاز ماہرین تعلیم، طویل تجربہ رکھنے والے اساتذہ، تعلیمی علوم کے ماہرین اور اعلیٰ تعلیم کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ امتحان سے متعلق اصلاحات کی کمیٹی میں خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کا آخر کیا کردار ہو سکتا ہے؟

یہ ٹیم بتاتی ہے کہ حکومت کے لیے امتحان سے متعلق اصلاحات بنیادی طور پر ایک انتظامی اور تکنیکی مسئلہ ہے، نہ کہ کروڑوں طلبا کے مستقبل سے جڑا ادارہ جاتی بحران۔ تکنیکی ماہرین، بیوروکریٹس اور سابق پولیس افسران سے بھری ٹاسک فورس کاغذ پر ڈیجیٹل امتحانات کا ایک متاثر کن خاکہ ضرور تیار کر سکتی ہے۔ لیکن ہندوستان کے تعلیمی نظام کا بحران کوئی انجینئرنگ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک ادارہ جاتی بحران ہے، ایسے نظام کا بحران ہے جسے انہی لوگوں کے خلاف تشکیل دیا گیا ہے، جن کے مفادات کا تحفظ کرنا اس کا مقصد ہونا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔