
علامتی تصویر
انسانی تاریخ کا اگر تعصب سے بالاتر ہو کر مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ انسان نے زمانے کے ساتھ اپنی زبانیں، تہذیبیں، لباس، رہن سہن اور تمدن بدلے، مگر ایک تصور ایسا ہے جو تقریباً ہر دور، ہر خطے اور ہر بڑی تہذیب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ وہ تصور ایک ایسی برتر ہستی کا ہے جو اس پوری کائنات کی خالق، مالک، مدبر اور حاکم ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ہستی کے نام بے شمار ہیں، لیکن اس کی طرف اشارہ ایک ہی حقیقت کی جانب ہوتا ہے۔
عرب نے اسے اللہ کہا، فارسی نے خدا، سنسکرت میں ایشور اور پرماتما کے الفاظ رائج ہوئے، عبرانی روایت میں ایلوہیم اور یہوہ کے نام سامنے آئے، عیسائی روایت میں God اور Heavenly Father کی تعبیرات ملتی ہیں، سکھ مذہب میں واہِ گرو اور زرتشتی روایت میں اہورا مزدا کا ذکر آتا ہے۔ یہ تمام نام مختلف زبانوں اور مذہبی روایات کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر ان میں ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ سب کسی نہ کسی صورت ایک اعلیٰ اور برتر ہستی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
Published: undefined
یہ فرق بالکل ویسا ہی ہے جیسے پانی کو عربی میں "ماء"، فارسی میں "آب"، ہندی میں "جل" اور انگریزی میں "Water" کہا جاتا ہے۔ نام الگ الگ ہیں، مگر حقیقت ایک ہی ہے۔ زبان کا اختلاف حقیقت کا اختلاف نہیں ہوتا، بلکہ اظہار کا اختلاف ہوتا ہے۔
اگر ان مختلف ناموں کے معانی پر غور کیا جائے تو ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ "اللہ" وہ ذات ہے جو ہر کمال کی مالک ہے۔ "خدا" کا مفہوم خود موجود اور بے نیاز ہستی کا ہے۔ "ایشور" کا مطلب حاکم اور مالک ہے۔ "اہورا مزدا" دانائی اور حکمت کے سرچشمے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ "واہ گرو" اس عظیم ہستی کے لیے تعظیم و حیرت کا اظہار ہے۔ گویا زبانیں بدلتی ہیں، لیکن انسان اپنے رب کو ہمیشہ علم، قدرت، رحمت، حکمت اور خالقیت جیسی صفات کے ساتھ یاد کرتا ہے۔
Published: undefined
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب انسان شدید مصیبت میں گھِر جاتا ہے تو اس کی زبان، قوم اور تہذیب پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ اس وقت اس کے دل سے ایک ہی پکار نکلتی ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو میری مدد کر سکتی ہے۔ یہ احساس محض مذہبی تعلیم کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی فطرت کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کی تقریباً ہر تہذیب میں دعا، عبادت اور کسی برتر ہستی سے مدد طلب کرنے کا تصور موجود رہا ہے۔
البتہ علمی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ مختلف مذاہب میں خدا کے تصور کی تفصیلات ایک جیسی نہیں ہیں۔ اس کی ذات، صفات، عبادت اور اس کے ساتھ تعلق کے بارے میں مختلف مذہبی روایات میں نمایاں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام مذاہب ہر پہلو سے ایک ہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایک اعلیٰ، قادر اور اخلاقی اعتبار سے برتر ہستی کا تصور انسانی مذہبی فکر کا ایک مشترک عنصر رہا ہے۔
Published: undefined
اسلام اس تصور کو نہایت واضح اور خالص صورت میں پیش کرتا ہے۔ قرآن کے مطابق تمام انبیاء کی دعوت کا مرکز ایک ہی خدا کی عبادت تھا۔ اللہ کے ننانوے مشہور اسمائے حسنیٰ دراصل اسی ایک ذات کی مختلف صفات ہیں۔ الرحمن اس کی بے پایاں رحمت کو ظاہر کرتا ہے، الرحیم اس کی دائمی شفقت کو، الخالق اس کی تخلیقی قدرت کو، الرزاق اس کی رزاقی کو، العلیم اس کے کامل علم کو اور الحکیم اس کی بے مثال حکمت کو۔ یہ سب الگ الگ معبود نہیں بلکہ ایک ہی ذاتِ واحد کی صفاتی پہچان ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ قدیم مذہبی متون میں بھی ایسے اشارات ملتے ہیں جو ایک اعلیٰ حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر رگ وید کا مشہور قول "ایکم سد وپرا بہودھا ودنتی" عام طور پر اس مفہوم میں نقل کیا جاتا ہے کہ "حقیقت ایک ہے، اہلِ علم اسے مختلف ناموں سے بیان کرتے ہیں۔" اس عبارت کی تشریح اہلِ علم مختلف انداز سے کرتے ہیں، لیکن یہ اس بات کی مثال ضرور ہے کہ مختلف روایات میں ایک اعلیٰ حقیقت پر غور و فکر کی روایت موجود رہی ہے۔
Published: undefined
اگر ہم ناموں کے بجائے صفات کو بنیاد بنائیں تو ایک خوبصورت منظر سامنے آتا ہے۔ تقریباً ہر مذہبی روایت خدا کو علم، قدرت، عدل، رحمت، حکمت اور کائنات کی تدبیر سے جوڑتی ہے۔ یہی وہ مشترک اقدار ہیں جو انسان کو ظلم کے بجائے انصاف، نفرت کے بجائے محبت، خیانت کے بجائے دیانت اور فساد کے بجائے اصلاح کی دعوت دیتی ہیں۔
آج کے دور میں شاید سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ لوگ ناموں کے اختلاف کو دشمنی کی بنیاد بنانے کے بجائے ان اخلاقی اصولوں کو سمجھیں جن کی تعلیم تقریباً تمام آسمانی اور مذہبی روایات دیتی ہیں۔ اگر انسان اپنے خالق کو ماننے کے باوجود ظلم، جھوٹ، بددیانتی اور نفرت کو اختیار کرے تو محض نام لینے سے مقصد پورا نہیں ہوتا۔ خدا پر ایمان کا اصل تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں عدل، رحم، سچائی اور خیر خواہی کو جگہ دے۔
Published: undefined
آخرکار، حقیقت ناموں سے بڑی ہوتی ہے۔ زبانیں بدلتی رہتی ہیں، تہذیبیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، مگر اگر خالق ایک ہے تو اس کی حقیقت بھی ایک ہی رہے گی۔ انسان اسے اللہ کہے، خدا کہے، ایشور کہے یا کسی اور نام سے پکارے، اصل سوال صرف نام کا نہیں بلکہ اس حقیقت کو پہچاننے، اس کے سامنے جواب دہ ہونے اور اس کی دی ہوئی اخلاقی ذمہ داری کو ادا کرنے کا ہے۔ یہی وہ فکر ہے جو انسان کو تقسیم نہیں بلکہ جوڑتی ہے، تعصب نہیں بلکہ مکالمہ سکھاتی ہے، اور اسے اس ایک حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے جو ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined