
تکارام منڈھے، تصویر سوشل میڈیا
51 سالہ تُکارام منڈھے مہاراشٹر کے آئی اے ایس افسران کے درمیان ایک معروف نام ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہر پوسٹنگ پر جب وہ نئی ذمہ داری سنبھالنے جاتے ہیں، ان کے ایک ہاتھ میں فائل، دوسرے ہاتھ میں تبادلے کا حکم ہوتا ہے۔ مہاراشٹر ایف ڈی اے (فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن) دفتر میں 25 مئی 2026 کو بطور نئے کمشنر آنے سے پہلے ہی وہ موضوعِ بحث تھے۔ 21 سال کے کیریئر میں منڈھے کی یہ 25ویں پوسٹنگ ہے، جو طاقتور لیڈران اور بڑے کاروباری گھرانوں سے ٹکرانے کے ان کے جذبے اور قواعد کو سختی سے نافذ کرنے کے ان کے خاص انداز کا ثبوت ہے۔ وہ جی آر خیرنار اور ارون بھاٹیا جیسے پرانے دور کے ان ایماندار اور بے خوف افسران کی یاد دلاتے ہیں، جو قانون کی سختی سے پیروی اور بغیر خوف یا جانبداری کے اسے نافذ کرنے کے لیے مشہور تھے۔
ایف ڈی اے ایک اہم محکمہ ہے، لیکن اس کے ملازمین کی شہرت ڈھیلے ڈھالے کام کے لیے زیادہ ہے، لیکن منڈھے کے آتے ہی محکمہ میں جیسے نئی جان سی آ گئی۔ فوڈ انسپکٹر اچانک ذمہ داری کے تئیں چوکس دکھائی دیے اور نوٹس کو نظر انداز کرنے والے کاروباری قواعد کی خلاف ورزی پر نفع نقصان کی فکر کرنے لگے۔ جلد ہی ریاست بھر میں چھاپہ ماری شروع ہو گئی اور ریستوران، ڈیری، غذائی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں، گودام، گٹکا نیٹورک، کاسمیٹک تاجر اور دوا بنانے والی کمپنیاں اس کی زد میں آ گئیں۔
جولائی کے آخر تک محکمہ نے 1,131 معائنے، 49.6 کروڑ روپے کے سامان کی ضبطی اور 56 ریستورانوں کے لائسنس معطل کرنے کی رپورٹ بھی دے دی۔ بڑے کلب بھی نہیں بخشے گئے۔ پہلے جیسا ہی عملہ، وہی ٹیم اور لیب بھی وہی، لیکن کام کرنے کا طریقہ بدل گیا تھا۔ منڈھے کہتے ہیں کہ انہوں نے تو بس ایس او پی نافذ کیے، لیب کے کام کاج کو بہتر بنایا اور انسپکٹروں کی حوصلہ افزائی کی۔
ایف ڈی اے کے دائرے میں آنے والے یہ ادارے سڑک کنارے چلنے والا باورچی خانہ یا ڈھابہ نہیں۔ یہاں بڑے بڑے لوگوں کی ساکھ داؤ پر ہے۔ مثلاً ممبئی کی یادوں کا اہم حصہ رہے کے رستم اینڈ کمپنی، شالیمار، نور محمدی اور 110 سال پرانا پارسی ڈیری فارم۔ پرانے گاندھی وادی اداروں کی روایت سے جڑا وردھا کا مشہور ڈیری ’گورس بھنڈار‘ یا ممبئی کی نامی گرامی شخصیات کے لیے مشہور کرکٹ کلب آف انڈیا کی کینٹین بھی اس سے بچ نہیں سکی۔
منڈھے کا طریقہ سیدھا سادہ ہے، کوئی بھی ادارہ اور اس کی ساکھ مستثنیٰ نہیں ہے۔ یہاں ساکھ رعایت کا لائسنس نہیں، آپ چاہے آئس کریم بیچ رہے ہوں، بریانی یا وراثت سے جڑی کوئی چیز۔ وراثت کا دعویٰ پھپھوندی لگی دیواروں، غیر محفوظ ذخیرہ، پیسٹ کنٹرول میں ناکامی یا ایکسپائر اسٹاک کو معافی نہیں دلاتا۔ شالیمار ریستوران میں مسلسل 25 خلاف ورزیوں کی رپورٹ سے پیغام اور واضح ہوا... ایف ڈی اے محض وارننگ دے کر مطمئن نہیں ہوگا، وہ ادارہ بند کرنے کے لیے بھی تیار تھا۔
جہاں قواعد کی پابندی میں نرمی عام ہو، منڈھے کا پہلا عوامی بیان ہمیشہ کی طرح مختصر لیکن واضح تھا... عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے ساتھ ’ذرا بھی نرمی نہیں‘۔ ایک مراٹھی نیوز چینل سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ’’میں بس قانون کی پابندی کر رہا ہوں۔ ہمیں یہی کرنا چاہیے۔‘‘ لیکن افسران کا پوری ایمانداری سے قانون کی پابندی کرنا اب اتنا نایاب ہے کہ منڈھے جیسے کسی افسر کی بات آتے ہی سب حیران رہ جاتے ہیں۔
ریستورانوں کی کچن کی تلاشی لینے کے بعد مہم نے گٹکا کاروبار کا رخ کیا۔ جون کے آغاز میں ایف ڈی اے نے اپنے افسران سے کہا کہ پولیس کے ساتھ مل کر ان نیٹورکس کے خلاف ’مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ‘ (مکوکا) لگایا جائے، جو ممنوعہ گٹکا، تمباکو اور نکوٹین والا پان مسالا بناتے اور فروخت کرتے ہیں۔ منڈھے کا استدلال تھا کہ مہم کے نشانے پر چھوٹے دکاندار نہیں تھے، جو شاید چوری چھپے یہ فروخت کرتے ہوں۔ گٹکا چین میں ڈمی فرمیں، خفیہ گودام، بین ریاستی سپلائی لائن، فرضی انوائس اور جعلی دستاویزات شامل ہوتے ہیں۔ منڈھے جانتے ہیں کہ قواعد کی پابندی نہ کرنے کی قیمت کاروبار کی لاگت میں شامل کی جا سکتی ہے، اسی لیے وہ منظم جرائم کا خاتمہ ضروری سمجھتے ہیں۔
جولائی کے آغاز میں، ایف ڈی اے افسران نے اکولا میں ایک گٹکا بنانے والی یونٹ پر چھاپہ مار کر 1.23 کروڑ روپے مالیت کا سامان، مشینری اور ممنوعہ مصنوعات ضبط کیں۔ 14 اگست کو منڈھے کے محکمہ نے بالی ووڈ اداکاروں شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شراف کو ’ویمل الائچی‘ کے اشتہارات میں نظر آنے کے لیے وجہ بتاؤ نوٹس بھیجے۔ ایف ڈی اے کی نظر میں یہ کمپنی کی ممنوعہ پان مسالا مصنوعات کی ممکنہ سروگیٹ تشہیر ہے۔ اداکاروں کو 15 دن میں جواب دینا ہے۔ ایف ڈی اے کے نوٹس قانونی جانچ میں کتنے برقرار رہتے ہیں، الگ بات ہے، لیکن پیغام بالکل واضح ہے... وراثت کی طرح مشہور شخصیت ہونا بھی رعایت حاصل کرنے کی بنیاد نہیں بن جاتا۔
مہم روزمرہ استعمال کی ان جگہوں تک بھی پہنچ گئی جو زیادہ بحث میں بھلے نہ ہوں، لیکن لوگوں کی ذاتی زندگی سے جڑی ہیں۔ ستارا ضلع کے کراد اور ممبئی کے کرافورڈ مارکیٹ اور کاندی ولی میں چھاپہ ماری کے دوران 34.6 لاکھ روپے مالیت کے کاسمیٹکس ضبط کیے گئے۔ خبروں کے مطابق کئی دیہی علاقوں میں چھاپہ ماری کے خوف سے بغیر لائسنس چلنے والی ڈیریوں نے ہزاروں لیٹر دودھ کا اسٹاک ضائع کر دیا۔ منڈھے کی کارروائی میں وارننگ اور ہدایات، دونوں شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا رجسٹریشن کرائیں، قواعد کی پابندی کریں اور نظام سے جڑیں۔ انہوں نے صارفین سے بھی رجسٹریشن کی جانچ کے ساتھ مشتبہ مصنوعات پر سوال اٹھانے اور ملاوٹ کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
ایف ڈی اے کی جانچ میں یوریا، ڈٹرجنٹ، کاسٹک سوڈا، اسٹارچ، گلوکوز، فارملین اور دیگر کیمیکل جیسی چیزوں سے نقلی دودھ بنانے کا پتہ چلا۔ مقررہ حد سے زیادہ اینٹی بایوٹک کے اجزا اور دوسری آلودگیاں ملیں۔ جولائی میں منڈھے نے دودھ کی پوری سپلائی چین، یعنی کلیکشن سنٹر اور ڈیری سے لے کر ٹرانسپورٹر، تھوک فروش اور خوردہ فروش تک سختی کی اور سراغ لگانے کی صلاحیت، کولڈ چین برقرار رکھنے اور فوڈ سیفٹی نظام کو لازمی قرار دیا۔
منڈھے مراٹھواڑہ کے ایک کسان خاندان سے آتے ہیں۔ فٹنس کے شوقین ہیں اور 2004 کے یو پی ایس سی امتحان میں آل انڈیا رینک 20# حاصل کرنے کے بعد آئی اے ایس میں آئے اور 2005 میں مہاراشٹر کیڈر میں شامل ہوئے۔ ان کا کیریئر مشکل لیکن دلچسپ کاموں اور مختصر مدت والی تقرریوں سے بھرا رہا ہے۔ نوی ممبئی میں بطور میونسپل کمشنر وہ صبح سویرے شہر میں نکل جاتے، غیر قانونی تعمیرات اور ہورڈنگ ان کے نشانے پر رہتے اور زور ریونیو کلیکشن بڑھانے پر ہوتا۔ انہی کی قیادت میں پراپرٹی ٹیکس کی جانچ سے سینکڑوں کروڑ کا بقایہ سامنے آیا۔ مختلف پارٹیوں کے کارپوریٹرز نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی، لیکن عام شہری ان کی حمایت میں کھڑے ہو گئے۔
پونے کے پبلک ٹرانسپورٹ محکمہ، ناسک کی شہری انتظامیہ اور بعد میں کووڈ-19 کے دوران ناگپور میں بطور میونسپل کمشنر، انہوں نے ان اسپتالوں کے خلاف کارروائی کی جن پر مریضوں کو ڈرا کر فائدہ اٹھانے اور حد سے زیادہ بل وصول کرنے کے الزامات تھے۔ ان کی مختصر مدت کی تقرریوں میں ایک جیسا نمونہ دکھائی دیتا ہے۔ جس محکمہ میں جاتے ہیں، وہاں انتظامی کام کاج میں تیزی آ جاتی ہے، انہیں عوام کی حمایت ملتی ہے، سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور آخرکار ان کا تبادلہ ہو جاتا ہے۔
چاہنے والے انہیں ایسے سرکاری افسر کے طور پر دیکھتے ہیں جو طاقتور لوگوں، مثلاً لیڈروں، ٹھیکیداروں یا کاروباری افراد (جو قواعد توڑنے کے عادی ہیں) کے لیے قواعد نہیں توڑتا۔ لیکن ناقدین انہیں ایسا منتظم مانتے ہیں جو صلاح و مشورہ کو تاخیر اور منتخب عوامی نمائندوں کو جمہوریت میں شریک کے بجائے رکاوٹ سمجھتا ہے۔ پان فروشوں جیسے چھوٹے کاروباریوں نے ’بغیر سوچے سمجھے کی گئی کارروائی‘ کی مخالفت کی ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے بھی ایف ڈی اے کو اختیارات کا استعمال سمجھ داری سے کرنے کی یاد دہانی کرائی ہے۔ کیڈیلا فارماسیوٹیکلز کے معاملے میں عدالت نے ریگولیٹر کے ’پہلے کارروائی، پھر سوال‘ والے رویے پر تنقید کی، کیونکہ کچھ ادویات کی فروخت اور تقسیم بغیر کسی سماعت کے روک کر اسٹاک ضبط کر لیا گیا تھا۔ ایف ڈی اے اپنے احکامات واپس لینے اور ’شو کاز نوٹس‘ کے ذریعے آگے بڑھنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
منڈھے کی ایف ڈی اے مدت کار کا اصل امتحان یہ نہیں کہ انہوں نے کتنی دکانیں بند کروائیں، بلکہ یہ ہوگا کہ کیا وہ قواعد کی خلاف ورزی کے تئیں اپنی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کو ایک ادارہ جاتی نظام میں تبدیل کر پاتے ہیں، جس میں واضح طریقہ کار، پہلے سے طے شدہ معائنے، تربیت یافتہ فیلڈ اسٹاف، شفاف سماعت اور ایسی ثقافت ہو جہاں قواعد کی پابندی کرنا ایک عام بات ہو، نہ کہ گھبراہٹ میں کیا جانے والا کام۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔