فکر و خیالات

نیپال سیلاب: فطرت کا قہر یا ترقیاتی نظریہ کی ناکامی؟... شیلندر چوہان

نیپال کی تباہی نے سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہم اب بھی ڈیولپمنٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا تصور پرانے طریقے سے کر رہے ہیں؟

<div class="paragraphs"><p>نیپال کے چتون ضلع میں بھوٹے کوشی ندی کی تباہی کا منظر، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/airnewsalerts">@airnewsalerts</a></p></div>

نیپال کے چتون ضلع میں بھوٹے کوشی ندی کی تباہی کا منظر، تصویر ’ایکس‘ @airnewsalerts

 

نیپال جس سانحہ سے گزر رہا ہے، اسے محض ایک اور قدرتی آفت قرار دے کر آگے بڑھ جانا کافی نہیں ہے۔ ہمالیائی خطے میں آنے والے حالیہ شدید سیلاب نے جس طرح زندگیوں، بستیوں، سڑکوں، پلوں، پن بجلی منصوبوں اور سرحد پار رابطوں کو تباہ کیا ہے، اس نے ایک بڑا سوال پھر کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہم بدلتی ہوئی فطرت کے سامنے ڈیولپمنٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا تصور اب بھی پرانے طریقوں سے کر رہے ہیں؟

26 اگست 2026 کو نیپال-چین سرحد سے متصل رَسوا علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب نے وسیع تباہی مچا دی۔ یہ عام مانسونی سیلاب جیسا واقعہ نہیں تھا۔ دستیاب سائنسی اور نیوز رپورٹس کے مطابق ہمالیہ میں ایک گلیشیئر اور اس سے وابستہ چٹانی و برفانی ملبے کے گرنے سے لھینڈے کھولا ندی میں انتہائی تیز آبی بہاؤ اور ملبے کا سیلاب آیا۔ اس کے بعد یہ تباہ کن بہاؤ تریشولی اور بھوٹے کوشی ندی نظام کی طرف بڑھا۔

اس آفت میں سینکڑوں لوگوں کی جان گئی ہے اور ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔ بے شمار خاندانوں کا اپنے عزیزوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ گھر، سڑکیں، پل اور بجلی کے منصوبے تباہ ہو گئے ہیں۔ دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ کی وجہ سے امدادی اور تلاش و بچاؤ مہمات کو بھی غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔ نیپال حکومت کے مطابق تعمیر نو کی لاگت اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن اس سانحے کا سب سے سنگین پہلو صرف موجودہ نقصان نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک انتباہ بھی ہے۔ نیپال کی جغرافیائی ساخت اسے فطری طور پر سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلابوں کے لیے حساس بناتی ہے۔ ہمالیہ سے نکلنے والی ندیاں انتہائی ڈھلوان والے خطوں سے گزرتی ہیں۔ مانسون میں شدید بارش، بادل پھٹنا، لینڈ سلائیڈنگ اور ندیوں کا تیز بہاؤ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ گلیشیئرز کے پیچھے بننے والی جھیلوں کے پھٹنے یعنی برفانی سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے۔ عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مطالعے طویل عرصے سے نیپال کو سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں سے متعلق آفات کے لیے انتہائی حساس قرار دیتے رہے ہیں۔

تازہ واقعہ نے ایک اور اہم بات سامنے لا دی ہے کہ ہر سیلاب بارش سے نہیں آتا۔ روایتی سیلاب سے قبل انتباہی نظام بنیادی طور پر بارش کی مقدار اور ندیوں کے آبی سطح پر منحصر ہوتے ہیں۔ لیکن کسی بلند ہمالیائی علاقے میں اچانک گلیشیئر، چٹان یا برف کا کوئی بہت بڑا حصہ ٹوٹ کر ندی میں گر جائے تو نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے پاس انتباہ کے لیے بہت کم وقت بچ سکتا ہے۔ حالیہ واقعے کو ماہرین نے اسی طرح کے انتہائی تیز ’بلو-اسکائی فلڈ‘ کے طور پر دیکھا ہے، یعنی ایسا سیلاب جو مقامی سطح پر غیر معمولی بارش کے بغیر بھی اچانک آ سکتا ہے۔ اس لیے مسئلے کو محض ’سیلاب‘ کے طور پر دیکھنا غلطی ہوگی۔ یہ ہمالیہ کے بدلتے ماحول، موسمیاتی تبدیلی، زمین کے استعمال، بے ترتیب تعمیرات اور آفت سے پہلے کی کمزور تیاری کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

موسمیاتی تبدیلی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے سے ہمالیائی گلیشیئر پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں غیر مستحکم گلیشیائی جھیلوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ شدید بارش کے واقعات میں تبدیلی اور پہاڑی ڈھلوانوں کا عدم استحکام بھی خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نیپال کا حصہ بہت کم ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے اثرات برداشت کرنے والے ممالک میں وہ اگلی صف میں ہے۔ یہاں موسمیاتی انصاف کا سوال بھی اٹھتا ہے۔ جن ممالک کا عالمی اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، وہ موسمیاتی بحران کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ہمالیہ صرف نیپال کا نہیں ہے۔ اس کی برف، ندیاں اور ماحولیاتی نظام ہندوستان، بھوٹان، بنگلہ دیش اور چین سمیت پورے جنوبی ایشیا کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے ہمالیہ میں ہونے والی تبدیلی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہو سکتی۔

موسمیاتی تبدیلی کو ہر آفت کی واحد وجہ مان لینا بھی غلط ہوگا۔ انسانی سرگرمیاں بھی اس کا سبب بنتی ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر، سرنگیں، پن بجلی منصوبے، ندی کنارے تعمیرات اور سیاحت کی توسیع اگر مقامی جغرافیہ اور ماحولیاتی نظام کی حدود کو نظر انداز کر کے کی جائے تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ نیپال کے سامنے ترقی کی حقیقی ضرورت بھی ہے۔ سڑکیں، بجلی، سیاحت اور روزگار وغیرہ درکار ہیں۔ مسئلہ ترقی کی ضرورت میں نہیں بلکہ ترقی کے اس تصور میں ہے جو پہاڑ کو صرف ایک وسیلہ اور ندی کو صرف توانائی کی یونٹ سمجھتا ہے۔ پن بجلی نیپال کے لیے اقتصادی ترقی کی ایک اہم بنیاد ہے، لیکن کسی منصوبے کا جائزہ صرف اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت سے نہیں لیا جا سکتا۔ یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کس ارضیاتی علاقے میں واقع ہے، لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ کتنا ہے، اس کے اوپر اور نیچے کون سی بستیاں ہیں، گلیشیائی جھیلوں اور ندی کے بہاؤ میں ممکنہ تبدیلی کا کیا اثر ہوگا اور انتہائی سیلاب کی صورت میں اس کے لیے ہنگامی منصوبہ کیا ہے۔

سڑک کی تعمیر کو محض سڑک کی لمبائی سے نہیں ناپا جانا چاہیے۔ پہاڑ کاٹ کر بنائی گئی سڑک اگر پہلی ہی شدید بارش میں لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بن جائے یا ندی میں بھاری مقدار میں ملبہ پہنچا دے تو وہ ترقی کم اور خطرے کی توسیع زیادہ ہے۔ اس آفت کا مزید ایک سبق ہے۔ پیشگی انتباہی نظام کو نئے سرے سے دیکھنا ہوگا۔ نیپال میں بارش اور ندیوں کی آبی سطح کی نگرانی کے ساتھ گلیشیئرز، گلیشیائی جھیلوں، پہاڑی ڈھلانوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ علاقوں کی حقیقی وقت میں نگرانی ضروری ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، ڈرون، ریموٹ سینسنگ، زلزلہ پیما سینسر، ندی کی سطح کے سینسر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خطرے کے تجزیے کو مربوط کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی اسی وقت مفید ہوگی، جب اس کی اطلاع آخری شخص تک وقت پر پہنچے۔

کسی دور دراز گاؤں میں رہنے والے شخص کے لیے یہ جاننا زیادہ اہم ہے کہ ’اگلے بیس منٹ میں یہاں سے نکلنا ہے۔‘ مقامی برادریوں کو آفات کے انتظام کی پہلی صف بنانا ہوگا۔ گاؤں کی سطح پر انخلا کے راستے، محفوظ بلند مقامات، اجتماعی پناہ گاہیں، ابتدائی طبی امداد، مواصلاتی نظام اور باقاعدہ مشقیں ضروری ہیں۔ مقامی لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ندی کا غیر معمولی رویہ، اچانک پانی کا رنگ بدلنا، پہاڑ سے غیر معمولی آوازیں آنا یا چھوٹی لینڈ سلائیڈنگ جیسے اشارے کس بڑے خطرے کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔

دوسرا بڑا اقدام ہمالیائی ممالک کے درمیان حقیقی وقت میں معلومات کا اشتراک ہے۔ ندی کی سرحد ہو سکتی ہے، سیلاب کی نہیں۔ نیپال میں پیدا ہونے والا آبی بہاؤ ہندوستان میں داخل ہوتا ہے۔ ہمالیائی گلیشیئر اور جھیلیں سیاسی سرحدوں کو نہیں مانتیں۔ اس لیے نیپال، ہندوستان اور چین کے درمیان موسم، گلیشیئروں، گلیشیائی جھیلوں، زلزلہ سرگرمیوں اور ندیوں کے آبی سطح سے متعلق معلومات کا مشترکہ نظام ہونا چاہیے۔ اسے محض سفارتی خیرسگالی کا موضوع نہیں بلکہ مشترکہ سلامتی کا موضوع سمجھنا ہوگا۔

ہندوستان کے لیے بھی نیپال کی آفت صرف پڑوسی ملک کا مسئلہ نہیں ہے۔ نیپال کی ندیاں بہار اور اتر پردیش سمیت ہندوستان کے بڑے خطے کو متاثر کرتی ہیں۔ کسی بڑے ہمالیائی آبی بہاؤ کا اثر سرحد پار بہت دور تک جا سکتا ہے۔ اس لیے نیپال کو تکنیکی، انسانی اور سائنسی مدد دینا ہندوستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ حالیہ سانحے کے بعد ہندوستان، چین اور دیگر ممالک سے امدادی اور تکنیکی مدد پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔ آفت کے بعد مدد دینا کافی نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت آفت سے پہلے سرمایہ کاری کرنے کی ہے۔ نیپال کو تعمیر نو کے لیے ملنے والی مدد کا بڑا حصہ صرف تباہ شدہ ڈھانچے کو اسی جگہ اور اسی شکل میں دوبارہ کھڑا کرنے میں نہیں لگنا چاہیے۔

ضرورت ’بلڈ بیک بیٹر‘ کی ہے، یعنی پہلے سے زیادہ محفوظ طریقے سے تعمیر نو کی۔ اس کے لیے خطرے کے نقشوں کو ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد بنانا ہوگا۔ اس سے متعلق سوالوں کا جواب سائنسی مطالعے سے دینا ہوگا، سیاسی دباؤ سے نہیں۔ قدرتی آفت کبھی بھی مکمل طور پر ’قدرتی‘ نہیں ہوتی۔ زلزلہ قدرتی ہو سکتا ہے، لیکن اس سے کتنی اموات ہوں گی، یہ تعمیراتی نظام طے کرتا ہے۔ بارش قدرتی ہے، لیکن سیلاب سے کتنی تباہی ہوگی یہ زمین کے استعمال، ندیوں کے انتظام اور انتباہی نظام طے کرتے ہیں۔ گلیشیئر کا ٹوٹنا ایک قدرتی عمل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے سامنے انسان کتنا غیر محفوظ ہوگا، یہ ہماری تیاری طے کرتی ہے۔

اس لیے نیپال کے موجودہ سیلاب کو محض امداد اور بچاؤ کی خبر بنا کر بھول جانا خطرناک ہوگا۔ یہ ہمالیہ کے بدلتے ہوئے کردار اور موسمیاتی تبدیلی کا انتباہ ہے۔ یہ ترقی کے موجودہ تصور پر ایک سوال ہے۔ یہ سرحد پار تعاون کی ضرورت کا انتباہ ہے۔ یہ اس غلط فہمی کے ٹوٹنے کا لمحہ ہے کہ انسان پہاڑ کو اپنی سہولت کے مطابق بدل سکتا ہے اور فطرت آخرکار اسی کے مطابق برتاؤ کرے گی۔ ہمالیہ کو فتح کرنے کی نہیں، سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ندیوں کو قابو میں کرنے سے زیادہ ضروری ہے کہ ان کی فطرت کو سمجھا جائے۔ گلیشیئرز کو زندہ ماحولیاتی نظام کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ پہاڑوں میں سڑک اور بجلی پہنچانے کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ترقی خود تباہی کا ذریعہ نہ بن جائے۔

نیپال میں جن خاندانوں کے گھر اجڑ گئے ہیں، جن کے عزیز لاپتہ ہیں اور جن گاؤوں کا جغرافیہ ہی بدل گیا ہے، ان کے لیے یہ بحث بہت غیر حقیقی نہیں ہے۔ ان کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ شاید یہی اس سانحے کا سب سے سخت پیغام ہے... فطرت اچانک بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ طویل عرصے سے اشارے دے رہی ہوتی ہے۔ بحران یہ نہیں کہ ہم نے اشارے دیکھے نہیں، بحران یہ ہے کہ ہم نے انہیں ترقی کے شور میں سننا نہیں چاہا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔