فکر و خیالات

آزادی کی جدوجہد کے علمبردار نواب سید محمد بہادر...شاہد صدیقی علیگ

انڈین نیشنل کانگریس کے تیسرے مسلم صدر نواب سید محمد بہادر نے ہندو مسلم اتحاد، قومی یکجہتی اور سماجی ترقی کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ برطانوی اقتدار کے مخالف اور متحدہ ہندوستان کے حامی تھے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ برصغیر میں برطانوی نوآبادیاتی نظام کا سب سے بڑا حریف نواب سلطان حیدر علی کا خاندان تھا، جن کے خاندانی افراد اپنی بساط کے مطابق انگریزی حکومت سے برسرِپیکار رہے اور کبھی سودے بازی نہیں کی۔ ایسی ہی ایک عظیم شخصیت انڈین نیشنل کانگریس کے تیسرے مسلم صدر نواب سید محمد بہادر کی ہے، جو ٹیپو سلطان کے چوتھے فرزند سلطان یسینٰ کی صاحبزادی شہزادی شاہ رخ بیگم کے پوتے تھے۔ ان کے والد میر ہمایوں جاہ بہادر جنوبی ہند کے ثروت مند مسلمانوں میں سے ایک تھے۔ وہ مخلص محبِ وطن اور دانشور تھے۔ جب 1887 میں بدرالدین طیب جی کی صدارت میں انڈین نیشنل کانگریس کا اجلاس مدراس میں منعقد ہوا تو انہوں نے نہ صرف صلاح و مشورے دیے بلکہ پارٹی کی مالی معاونت بھی کی۔

نواب سید محمد کی ولادت سنہ 1867ء میں کلکتہ میں ہوئی۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والد میر ہمایوں کی نگہداشت میں خاندانی کاروبار میں قدم رکھا، جو سیاست کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں سے گہری دلچسپی رکھتے تھے، چنانچہ خدمتِ خلق کا جذبہ انہیں ورثے میں ملا تھا۔ نواب سید محمد نے 1894ء میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور اس کے سرگرم رکن بن گئے۔ انہیں 1896ء میں مدراس کا شیرف مقرر کیا گیا، جو اس عہدے پر مقرر ہونے والے پہلے مسلمان تھے۔ 1897ء میں ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی تقریب میں شریک ہوئے تو برطانوی حکومت نے انہیں نواب کے خطاب سے سرفراز کیا۔ 1898ء میں وہ مدراس کانگریس کمیٹی کے رکن بنے اور تین سال بعد انڈین کانگریس کمیٹی کے لیے نامزد ہوئے۔

1900ء میں مدراس مجلسِ دستور ساز کونسل کے لیے نامزد کیا گیا۔ 1903ء میں مدراس کانگریس سیشن کی مجلسِ استقبالیہ کے صدر مقرر ہوئے اور رواں سال مدراس مہاجنا سبھا کے صدر بنے اور اگلے کانگریس سیشن کے لیے آئین تیار کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی۔ 1905ء میں امپیریل لیجسلیٹو کونسل کے لیے منتخب کیے گئے۔

نواب سید محمد بہادر نے 1913ء میں کراچی میں منعقدہ انڈین نیشنل کانگریس کے 28ویں سیشن کی صدارت کی، اس موقع پر انہوں نے ایک بڑی رقم کانگریس فنڈ میں عطیہ کی۔ موصوف بدرالدین طیب جی اور رحیم اللہ ایم سیانی کے بعد تیسرے مسلم کانگریس صدر ہونے۔ ان کی زیرِ صدارت مقید شدہ مزدوری کے خلاف ایک تجویز پاس کی گئی، جس میں برطانوی ذی اختیار پر زور دیا گیا تھا کہ وہ غلامی کی اس لعنت پر پابندی عائد کرے۔ اس ضمن میں جنوبی افریقہ میں ہندوستانیوں کے تئیں نسلی امتیاز اور غیر برابری کے خلاف مہاتما گاندھی اور ان کے رفقا کی کوششوں کو سراہا گیا اور اسے ایک انقلابی قدم سے تعبیر کیا گیا۔

نواب سید محمد بہادر کانگریس کے اعتدال پسند رہنما گوپال کرشن گوکھلے کے نظریات کے پیروکار تھے۔ انہوں نے کانگریس کا ہاتھ اس وقت تھاما جب اس جماعت سے مسلمان دوری رکھنے میں ہی اپنی خیر و عافیت سمجھتے تھے۔ انہی مسلم لیگی رہنماؤں نے پارٹی کی جانب راغب کرنے کی پوری کوشش کی، لیکن یہ کانگریس کے علاوہ کسی پارٹی کے ساتھ کام کرنے پر راضی نہیں ہوئے اور اپنی ضد پر اٹل رہے۔

سید محمد نے اپنی تمام تقاریر اور خطابات میں بار بار اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کو بھائیوں کی طرح رہنا چاہیے اور انہیں مذہب کی بنیاد پر الگ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر کی طرح مل کر ملک و قوم کو آگے بڑھانے کے لیے مساعیِ جمیلہ کرنی چاہیے۔ وطنِ عزیز کے تمام مسائل کا حل ہندو مسلم یکجہتی اور اخوت میں ہی مضمر ہے، لہٰذا سب کو مل کر ایک مضبوط اور متحد ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی جماعت سے فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہی ہوگا۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ انڈین نیشنل کانگریس کا بنیادی مقصد ہندوستان کے لوگوں کو ایک مضبوط قوم کی شکل میں متحد کرنا ہے۔

سماجی ترقی اور بھائی چارے کے علمبردار عظیم محبِ وطن نواب سید محمد 12 فروری 1919ء کو ربِ حقیقی سے جا ملے۔ اگرچہ انہوں نے آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہوئے تو نہیں دیکھا، مگر کانگریس کے بینر تلے ان کی ملکی اور قومی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔