
علامتی تصویر / اے آئی
چینی اچانک مہنگائی کے محاذ پر ایک غیر متوقع اور کڑوا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ خوردہ بازار میں چینی کی قیمت، جو 20 جولائی کو اوسطاً 48 روپے فی کلو تھی، 20 اگست تک بڑھ کر 56 روپے فی کلو ہو گئی۔ بعض بازاروں میں یہ قیمت 60 روپے فی کلو کی سطح بھی چھو گئی۔ ملک کی بڑی چینی پیدا کرنے والی ریاستوں میں شامل مہاراشٹر کی تھوک منڈیوں میں بھی قیمتوں میں تیز اضافہ دیکھا گیا۔
مرکزی حکومت نے تاجروں اور تھوک فروشوں کے لیے چینی کا ذخیرہ رکھنے کی سخت حد مقرر کر دی ہے۔ اس کے بعد، گزشتہ ایک دہائی میں پہلی مرتبہ 31 اکتوبر تک 10 لاکھ ٹن خام چینی کی درآمد کی اجازت دی گئی، جس پر کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کا وقت بھی اہم ہے، کیونکہ ملک میں طویل تہواروں کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ اس دوران چینی کی گھریلو طلب عموماً عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں چینی کی مہنگائی حکومت کے لیے سیاسی طور پر بھی بھاری پڑ سکتی ہے۔
تاہم چینی کی قیمتوں میں موجودہ اضافہ تیزی سے بدلتے ہوئے چینی کے شعبے کے گہرے پالیسی تضادات کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس پورے معاملے میں سیاست، ماحولیات اور زرعی پالیسی سے متعلق کئی پیچیدہ عوامل شامل ہیں۔ یہ ایسا شعبہ ہے جو کسانوں کے لیے گنے کی یقینی قیمت، سیاسی طور پر بااثر چینی ملوں، پانی کی بے تحاشا کھپت، موسم کے بدلتے رجحانات، ایتھنول پالیسی اور کسانوں و صارفین کے مفادات میں توازن قائم کرنے کی حکومت کی پرانی مشکل سے تشکیل پاتا ہے۔
بھارت میں ہر سال تقریباً 2.8 سے 2.9 کروڑ ٹن چینی استعمال ہوتی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں پیداوار اکثر گھریلو کھپت سے زیادہ رہی، جس کے نتیجے میں چینی ملوں کے پاس بھاری ذخائر جمع ہو جاتے اور قیمتیں گر جاتی تھیں۔ حکومتوں نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے برآمدات کی حوصلہ افزائی، سستے قرضوں اور بعد ازاں گنے کے رس سے ایتھنول تیار کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ لیکن اب جب اضافی پیداوار کا مسئلہ کم ہو چکا ہے، چینی کی پیداوار میں معمولی کمی کا اشارہ بھی بازار میں بے چینی پیدا کر دیتا ہے۔ موجودہ سال اس کی واضح مثال ہے۔
موجودہ بحران کی فوری وجہ رسد میں کمی ہے۔ 2025-26 کے موجودہ سیزن میں چینی کی مجموعی پیداوار تقریباً 306 لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ ہے، جو 343 لاکھ ٹن کے ابتدائی تخمینے سے کہیں کم ہے۔ یعنی پیداوار میں تقریباً 12 فیصد کی کمی متوقع ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق اگلے سیزن کے آغاز پر ابتدائی ذخیرہ کم ہو کر 33 سے 34 لاکھ ٹن رہ سکتا ہے، جب کہ گزشتہ سال یہ تقریباً 50 لاکھ ٹن تھا۔ مسلسل دوسرے سال ملک میں چینی کی پیداوار معمول سے کم رہنے کا امکان ہے۔
اس کمی کی ایک بڑی وجہ گزشتہ سال مہاراشٹر، کرناٹک اور اتر پردیش جیسے تین بڑے گنا پیدا کرنے والی ریاستوں میں ہونے والی غیر معمولی اور بے موسم بارشیں ہیں۔ گنا ایک طویل مدتی فصل ہے اور اس کی پیداوار اور اس سے حاصل ہونے والی چینی کی مقدار فصل کے مختلف مراحل میں موسم کے اتار چڑھاؤ سے بہت متاثر ہوتی ہے۔ کھیتوں میں گنے کی زیادہ مقدار کھڑی ہونے کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ چینی کی پیداوار بھی زیادہ ہوگی۔
مہاراشٹر کی مثال اس بات کو واضح کرتی ہے۔ 2025-26 میں ریاست میں گنے کی پیداوار 1099.7 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 1316.5 لاکھ ٹن ہو گئی، لیکن اگر ریکوری کی شرح، یعنی گنے سے حاصل ہونے والی چینی کا تناسب، کم ہو جائے تو گنے کی پیداوار بڑھنے کے باوجود چینی کی مجموعی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔
ریاست میں گزشتہ سیزن کے مقابلے میں گنے کی زیادہ پِرائی ہوئی، لیکن پِرائی کا سیزن معمول کے 150 سے 160 دن کے مقابلے میں محض 100 سے 105 دن تک محدود رہا۔ مارچ تک ریاست کی 210 چینی ملوں میں سے بیشتر پختہ گنے کی کمی کے باعث بند ہو چکی تھیں۔ نومبر اور دسمبر 2025 میں ہونے والی بے موسم بارش نے کھڑی فصل کو نقصان پہنچایا، جس سے گنے کا معیار، ریکوری کی شرح اور پختہ گنے کی دستیابی متاثر ہوئی۔ نتیجتاً ملیں نہ تو اپنی پوری صلاحیت استعمال کر سکیں اور نہ ہی معمول کی مدت تک چل سکیں۔
دوسرا دباؤ تہواروں کے موسم کی بڑھتی ہوئی طلب کا ہے۔ گنیش چترتھی سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ دشہرہ اور دیوالی تک تقریباً دو ماہ جاری رہتا ہے، جس دوران چینی کی طلب عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ مستقبل میں رسد مزید محدود ہونے کے خدشے کے پیش نظر تھوک خریدار پہلے ہی چینی کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگرچہ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی چینی موجود ہے اور اس نے منافع خوروں کو سخت کارروائی کی وارننگ بھی دی ہے۔ حکومت نے خوردہ اور تھوک تاجروں کے ساتھ ساتھ ستمبر سے بڑے صنعتی صارفین پر بھی ذخیرہ رکھنے کی حد مقرر کر دی ہے۔
گنے کے کسانوں کو حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں کے نظام کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔ مرکزی حکومت ’مناسب اور منافع بخش قیمت‘ یعنی ایف آر پی طے کرتی ہے، جب کہ بعض ریاستیں تاریخی طور پر اس سے بھی زیادہ ’ریاستی حمایت یافتہ قیمت‘ یعنی ایس اے پی مقرر کرتی رہی ہیں۔ لیکن یقینی قیمت کے اس نظام کے کچھ دوسرے معاشی اثرات بھی ہیں۔ ملوں کو مقررہ قیمت پر گنا خریدنا پڑتا ہے، چاہے کھلی منڈی میں چینی کی قیمت ان کے لیے نقصان کا باعث بن رہی ہو۔
اسی وجہ سے بھارت کی چینی صنعت بار بار ایک ہی چکر میں پھنس جاتی ہے: ضرورت سے زیادہ پیداوار، ملوں کا مالی خسارہ، کسانوں کو گنے کی ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بقایا اور اس کے بعد حکومت کے امدادی پیکیج۔ یہ ایک ایسا معاشی دائرہ ہے جس سے صنعت ابھی تک پوری طرح باہر نہیں نکل سکی۔
گنا بھارت میں کاشت کی جانے والی سب سے زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں میں شامل ہے۔ مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ جیسے علاقوں میں اس کی وسیع پیمانے پر کاشت آب پاشی کے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی بدولت ممکن ہوئی۔ کسانوں کے لیے گنے کی کاشت اس لیے بھی پرکشش ہے کہ اس کی منڈی یقینی ہے اور چینی ملوں کا مضبوط نظام موجود ہے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلی نے اس ماڈل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جو فصل بہت زیادہ پانی پر منحصر ہو، وہ بے قاعدہ مانسون کی صورت میں سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے، جب کہ بے موسم بارش بھی اسے نقصان پہنچا سکتی ہے۔
یہیں ایتھنول کا معاملہ سامنے آتا ہے، جس نے چینی کی معیشت کا پورا حساب بدل دیا ہے۔ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو براہ راست ایتھنول کی پیداوار سے جوڑ دینا ایک حد تک سادہ تجزیہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایتھنول تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والے گنے کے رس کا تناسب کم ہوا ہے۔ یہ 2022-23 میں 12 فیصد تھا، جو 2025-26 میں گھٹ کر 9 فیصد رہ گیا۔ اب بھارت میں مجموعی ایتھنول کا تقریباً 75 فیصد حصہ اناج، خاص طور پر مکئی، سے حاصل ہو رہا ہے۔
اس کے باوجود ایتھنول پروگرام اور نجی شعبے کی شمولیت نے چینی صنعت کی معاشیات کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ برسوں تک بھارت کا مسئلہ ضرورت سے زیادہ چینی پیداوار تھا۔ ایتھنول نے ملوں کو آمدنی کا ایک متبادل ذریعہ فراہم کیا۔ دوسری طرف مرکزی حکومت کے لیے ایتھنول توانائی کے تحفظ، پٹرول میں اس کی آمیزش کے اہداف اور عالمی ماحولیاتی وعدوں سے جڑا ہوا ہے۔
لیکن جب چینی کی منڈی میں قلت پیدا ہوتی ہے تو پالیسی کے تضادات بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔ رواں سال اب تک تقریباً 30 لاکھ ٹن چینی کے مساوی پیداوار کو ایتھنول میں تبدیل کرنے کا اندازہ ہے۔ حکومت اب پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول آمیزش کا ہدف زیادہ تر اناج سے حاصل کرنے اور آئندہ سیزن میں ایتھنول کے لیے گنے کے استعمال کو محدود کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
اگرچہ موجودہ چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی واحد وجہ ایتھنول نہیں ہے، لیکن اس صورت حال نے ایک اہم پالیسی سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے: جب چینی کی کمی ہو تو ایک ہی زرعی پیداوار کو ’خوراک‘ اور ’ایندھن‘ کے درمیان کس طرح تقسیم کیا جائے؟ اس مسئلے کا ایک پہلو ان ڈسٹلریوں سے بھی جڑا ہے جنہیں اضافی چینی کو کھپانے کے مقصد سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ اب جب گنے کی پیداوار کم ہوئی ہے تو ان میں سے کئی پلانٹ پوری طرح استعمال نہیں ہو پا رہے۔
حکومت کا خیال ہے کہ چینی کی درآمد، ذخیرہ رکھنے کی حد اور نئے پِرائی سیزن کے جلد آغاز سے کسی سنگین بحران کو ٹالا جا سکے گا۔ لیکن اگر یہ اقدامات فوری طور پر کامیاب بھی ہو جائیں تو بھی بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔
بھارت کی چینی معیشت کئی متضاد ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کسان گنے کی بہتر قیمت چاہتے ہیں، چینی ملوں کو منافع درکار ہے، صارفین سستی چینی چاہتے ہیں، حکومت خوراک کی مہنگائی کو قابو میں رکھنا چاہتی ہے، توانائی کا شعبہ ایتھنول چاہتا ہے اور ماحولیاتی ماہرین پانی کی بے تحاشا کھپت والی فصل کی کاشت محدود کرنے پر زور دیتے ہیں۔
مہنگائی کے فوری جھٹکے سے نمٹنا شاید نسبتاً آسان ہو، لیکن ان بنیادی سوالات کا جواب تلاش کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے جو پورے نظام کو ہلا رہے ہیں۔ کیا بھارت غیر یقینی موسم اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے درمیان پانی کی بے تحاشا کھپت کرنے والی فصل کو مسلسل منافع بخش قیمت دینے کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟ کیا سیاسی طور پر طاقتور چینی ملوں کے نظام کو ہمیشہ اسی طرح برقرار رکھنا ممکن ہوگا؟ اور کیا اسی فصل سے ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ خوردہ بازار میں چینی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا بھی ممکن ہے؟
اس کا حل محض چینی کی درآمد کا ایک حکم جاری کرنے یا ذخیرہ رکھنے کی حد مقرر کرنے تک محدود نہیں ہو سکتا۔ بھارت کو اب اپنی پوری چینی معیشت کی سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی ساخت پر نئے سرے سے غور کرنا ہوگا۔ موجودہ قیمتوں کا بحران دراصل ایک بڑے مسئلے کی علامت ہے—ایسا مسئلہ جس میں کسان، صارف، صنعت، توانائی اور ماحول، سب ایک ہی محدود وسائل کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔