فکر و خیالات

ہم ہیں کامیاب-7: انتھک محنت کی مثال ہے ’عالم مارٹ‘، آئیے چلتے ہیں ہیلپر سے تاجر بننے کے ایک یادگار سفر پر

اکثر کامیاب کاروباریوں میں تکبر کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن آفتاب عالم اس سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ ان کی انتھک محنت کا ثمرہ ’عالم مارٹ‘ دہلی میں اوکھلا کے جامعہ نگر کی شان تصور کیا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>’عالم مارٹ‘ کے مالک آفتاب عالم (دائیں)</p></div>

’عالم مارٹ‘ کے مالک آفتاب عالم (دائیں)

 

آپ نے سبرت رائے سہارا کا نام تو سنا ہوگا۔ دھیرو بھائی امبانی کے بارے میں بھی آپ جانتے ہوں گے۔ یہ دونوں شخصیات دنیائے صنعت کے آسمان پر آفتاب و ماہتاب تصور کیے جاتے ہیں، اور دونوں میں ایک بہت بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ سبرت رائے نے جہاں اپنے کیریئر کا آغاز لیمبریٹا اسکوٹر پر نمکین فروخت کرنے سے کیا تھا، وہیں دھیرو بھائی امبانی نے جب اپنا کاروبار شروع کیا تو ان کی جیب میں محض 500 روپے تھے۔ یعنی دونوں ہی غریب کنبہ سے تعلق رکھتے تھے، لیکن اپنی محنت اور ذہانت کے دَم پر کامیابی کا ایسا پرچم لہرایا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ صنعتی دنیا میں ایسی شخصیات کی ایک بڑی تعداد ہے، جنھوں نے اپنی مسلسل جدوجہد سے خود کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچایا۔ یہ شخصیات دنیائے صنعت کے آسمان پر آفتاب و ماہتاب بھلے نہ ہوں، لیکن ستارے ضرور ہیں۔ ان ستاروں میں کچھ انتہائی روشن ہیں، تو کچھ مدھم۔ انہی ستاروں میں ایک نام آفتاب عالم ہے، جن کا شاپنگ کمپلیکس ’عالم مارٹ‘ کامیابی کی ایک دلکش کہانی سمیٹے ہوئے ہے۔

Published: undefined

آفتاب عالم ایک خوش مزاج شخصیت کے مالک ہیں۔ ہونٹوں پر ہمیشہ مسکراہٹ تیرتی رہتی ہے۔ وہ جب کسی سے ملتے ہیں تو خندہ پیشانی کے ساتھ اور انتہائی دوستانہ انداز میں۔ اکثر کامیاب کاروباریوں میں تکبر کا عنصر دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن آفتاب عالم اس سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ ان کی انتھک محنت کا ثمرہ ’عالم مارٹ‘ دہلی میں اوکھلا کے جامعہ نگر کی شان تصور کیا جاتا ہے۔ یہ شاپنگ کمپلیکس ابوالفضل انکلیو میں کالندی کنج روڈ پر ٹھوکر نمبر 3 میں موجود ہے، جہاں ہر طرح کے الیکٹرانک گھریلو سامان دستیاب ہیں۔ فریج، اے سی، انڈکشن، چمنی، پنکھے، کولر، ٹی وی، سلائی مشین، مکسر، گیس چولہا، آئرن، کوکر، مائیکرو ویو، واٹر پیوریفائر، واشنگ مشین، انورٹر... گھریلو سامانوں کی ایک بڑی تعداد یہاں دکھائی دیتی ہے، جو مشہور اور اعلیٰ معیاری کمپنیوں کے ہیں۔

Published: undefined

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، ’عالم مارٹ‘ انتھک محنت اور جہد مسلسل کا پھل ہے۔ یعنی آفتاب عالم موجودہ وقت میں جس بلندی پر پہنچ چکے ہیں، وہاں تک پہنچنے کا راستہ ایک امتحان کی مانند تھا۔ آفتاب عالم بتاتے ہیں کہ 70 کی دہائی میں ان کے والدین نے مع اہل خانہ آبائی وطن اتر پردیش کے بجنور سے دہلی ہجرت کی۔ پہلی رہائش ترلوک پوری میں رہی، جہاں والد پھل فروشی کرتے تھے۔ آفتاب عالم کی عمر تقریباً 17 سال ہوگی، جب انھوں نے ذریعہ معاش کے لیے بطور ہیلپر کام کرنا شروع کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے بیٹری کی سپلائی بھی شروع کی، جس نے انھیں ترقی کی ایک راہ دکھائی۔ آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ انھوں نے الیکٹریشین کا کام بھی سیکھا ہوا ہے اور گاڑی سروسنگ، ری پیئرنگ کے علاوہ آٹو بھی چلایا۔ 1997 ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا، جب سبھی بھائیوں نے مل کر ابوالفضل میں اپنا گھر لے لیا۔ یہاں انورٹر بیٹری کا کاروبار جاری رکھا اور گاڑی سروسنگ وغیرہ میں اپنی ایمانداری سے لوگوں میں ایک الگ پہچان بنائی۔

Published: undefined

’عالم مارٹ‘ کی بنیاد آفتاب عالم کی زندگی کا دوسرا اہم موڑ تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ تقریباً 11 سال قبل الیکٹرانک گھریلو سامانوں کو فروخت کرنا شروع کیا۔ اس وقت اوکھلا ہیڈ پر چھوٹی سی دکان تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دکان کو شروع کرنے کے لیے آفتاب عالم کو بہت زیادہ مشقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انھوں نے بتایا کہ ’عالم مارٹ‘ ایک طرح سے بغیر سرمایہ لگائے وجود میں آنے والی کمپنی ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ گاڑی سروسنگ اور بیٹری کاروبار میں کسی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہی کاروباروں سے حاصل رقم کو دھیرے دھیرے الیکٹرانک گھریلو سامانوں کو خریدنے اور فروخت کرنے میں لگایا گیا۔ اللہ کا کرم ہوا کہ کامیابی ملتی چلی گئی اور آج ایک بہترین شاپنگ کمپلیکس وجود میں آ چکا ہے۔ اوکھلا ہیڈ والی جگہ چھوٹی پڑی تو ’عالم مارٹ‘ کو ابوالفضل میں ہی ٹھوکر نمبر 4 پر منتقل کیا گیا، اور پھر مزید وسعت کی ضرورت پڑی تو ٹھوکر نمبر 3 پر جماعت اسلامی ہند کی ملکیت والی دکانوں میں سے ایک کو کرایہ پر لے کر شاپنگ کمپلیکس کی شکل دے دی۔ اس شاپنگ کمپلیکس میں آفتاب عالم نے نصف درجن سے زائد لوگوں کو تو روزگار دیا ہی ہے، سیمسنگ اور بجاج جیسی درجن بھر ہوم ایپلائنس و فائنانس سے جڑی کمپنیوں نے بھی اپنے ملازمین یہاں بیٹھا رکھے ہیں۔

Published: undefined

آفتاب عالم اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرحلہ دشوار گزار ضرور تھا لیکن کبھی بھی محنت سے وہ پیچھے نہیں ہٹے۔ ایک طرف اپنے کاروبار کو دلجمعی کے ساتھ آگے بڑھاتے رہے، اور دوسری طرف اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر انھیں اچھی زندگی دی۔ ان کی بڑی بیٹی 21 سال کی ہے، جو بی بی اے کر رہی ہے۔ دوسری بیٹی بارہویں کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کر چکی ہے اور ایک بیٹا (جو سب سے چھوٹا ہے) حفظ کرنے کے بعد اسکولی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ آفتاب عالم اِس وقت 52 سال کے ہو چکے ہیں اور اللہ وحدہٗ کے شکرگزار نظر آتے ہیں، جس نے انھیں کاروبار میں بھی کامیابی عطا کی اور بچوں کی بہتر پرورش میں بھی آسانیاں میسر کیں۔ اس کامیابی کے بعد بھی وہ اپنی محنت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ صبح سے رات تک ’عالم مارٹ‘ میں موجود رہتے ہیں، تاکہ خریداروں کو پیش آنے والے مسائل بھی حل کر سکیں اور اگر ملازمین کو کسی طرح کی پریشانی ہو جائے، تو اس سے بھی نجات دلائیں۔ ان کے اندر موجود منکسر المزاجی قابل تعریف ہے۔ یہ بتانا دلچسپ ہوگا کہ میں اپنے رفیق کار قاضی محمد راغب کے ساتھ جب ’عالم مارٹ‘ پہنچنے والا تھا، تو تقریباً 10 منٹ پہلے فون پر اس کی اطلاع آفتاب صاحب کو دی۔ جب ہم دونوں وہاں پہنچے، تو ابھی بیٹھے بھی نہیں تھے اور چائے حاضر تھی۔ اسے منکسر المزاجی نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے!

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined