
اے آئی فائنانشیل سروسز کے بانی محمد عاشق امام
بڑے شہروں میں جب ہم اپنے آس پاس دیکھتے ہیں تو کئی ایسی سچی کہانیاں مل جاتی ہیں، جو مثالی اور تعریف کی مستحق ہوتی ہیں۔ ہمیں کئی ایسی ہستیوں کا پتہ چلتا ہے جنھوں نے چھوٹے و پسماندہ علاقوں میں اپنی آنکھیں کھولیں اور پھر اپنی سخت محنت و جدوجہد سے بڑے شہروں میں ایک الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں جو ’انفرادی کامیابی‘ سے اوپر اٹھ کر ایک بڑے طبقہ کے لیے کام کرتے ہوئے روزگار پیدا کرتے ہیں۔ آج ہم ایسی ہی ایک شخصیت کی محنت شاقہ اور جانفشانی سے متعارف ہوں گے۔ اس شخصیت کا نام ہے محمد عاشق امام، جنھوں نے معاشی مسائل میں پھنسے لوگوں کی مدد کے لیے ایک ادارہ قائم کیا۔ ادارہ کا نام ہے ’اے آئی فائنانشیل سروسز‘۔ یہاں ’اے آئی‘ سے مراد ’آرٹیفیشیل انٹلیجنس‘ نہیں ہے، بلکہ یہ ’عاشق امام‘ کا مخفف ہے۔
Published: undefined
35 سالہ عاشق امام کی محنت اور جدوجہد کو جاننے سے پہلے ہم ان کی کمپنی ’اے آئی فائنانشیل سروسز‘ کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ اس کا دفتر نوئیڈا (سی بلاک، سیکٹر 2) میں موجود ہے جو کہ دہلی-این سی آر کا مشہور علاقہ ہے۔ یہاں کئی بڑی و چھوٹی کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں۔ 2024 میں رجسٹرڈ ہوئی یہ کمپنی لائف انشورنس، ہیلتھ انشورنس، ہوم لون، پراپرٹی لون، گولڈ لون، کیش بیک کریڈٹ کارڈس، ریوارڈ کریڈٹ کارڈس، فیوئل کریڈٹ کارڈس، شاپنگ کارڈس جیسی درجنوں خدمات کے بارے میں لوگوں کو بتاتی ہے اور ان کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے بہتر رہنمائی کرتی ہے۔ یہ سبھی پلان سرکردہ بینکوں سے جڑے ہوتے ہیں، لیکن عام شہریوں کو ان کے بارے میں مکمل جانکاری نہیں ہوتی۔ دراصل کسی کے لیے بھی یہ سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ اگر انھیں ہیلتھ انشورنس کرانا ہے تو ان کی مالی حیثیت کے مطابق کون سا پلان زیادہ مناسب ہے۔ اسی طرح گھر بنانے کے لیے قرض لینا ہے تو کس بینک سے اور کتنی رقم لی جائے کہ قرض کی ادائیگی بھی ہو جائے اور زندگی بھی دشوار نہ ہو۔
Published: undefined
عاشق امام بتاتے ہیں کہ معاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہزاروں لوگوں کی مشکلیں وہ آسان کر چکے ہیں اور یہ صرف بزنس نہیں ہے، بلکہ خدمت کا جذبہ بھی ہے۔ انھوں نے ایک پریشان حال شخص کی کہانی بھی بیان کی، جو ’اے آئی فائنانشیل سروسز‘ کی رہنمائی سے اب خوشگوار زندگی گزار رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ایک تنخواہ دار شخص نے مجھے فون کیا۔ اس کے پاس ایک مستحکم ملازمت تھی، لیکن وہ کئی طرح کی ای ایم آئی، ذاتی قرضوں، کریڈٹ کارڈز اور دیگر ضروریات کی وجہ سے شدید دباؤ میں تھا۔ اس کی تنخواہ کا تقریباً 60-70 فیصد ای ایم آئی میں خرچ ہو رہا تھا۔ وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں مشکل مشکلات کا سامنا کر رہا تھا اور اسے کوئی بچت بھی نہیں ہو رہی تھی۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں کہ ’’جب اس نے مجھ سے رابطہ کیا تو وہ بہت پریشان تھا اور اس نے پوچھا- کیا میں اس صورتحال سے نکل سکتا ہوں؟ پہلے ہم نے اس کی مکمل مالی حالت کو سمجھا۔ اس کی آمدنی، اخراجات اور ضروریات کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ فوری طور پر ہم نے کچھ بھی بیچنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ ہم نے اسے قدم بہ قدم رہنمائی فراہم کی۔ ہم نے اس بتایا کہ وہ اپنے قرضوں کو ایک منظم ای ایم آئی میں یکجا کرے، اور پھر بہتر مالی منصوبہ بندی کے بارے میں مشورہ دیا۔ چند ماہ بعد اس کا ای ایم آئی بوجھ کم ہو گیا، اس کی نقد روانی بہتر ہو گئی اور اسے بچت بھی ہونے لگی۔‘‘ بعد میں اس شخص نے عاشق امام سے کہا ’’اب میں خود کو پرسکون اور اپنے مستقبل کے بارے میں پُراعتماد محسوس کرتا ہوں۔‘‘ یہ الفاظ عاشق امام کے لیے انتہائی جذباتی تھے۔ وہ بتاتے ہیں ’’اس شخص کی بات سن کر مجھے یقین ہو گیا کہ ہم صرف کاروبار نہیں کر رہے، بلکہ لوگوں کی پریشانی کم کرنے اور ان کی زندگی بہتر بنانے میں مدد کر رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
اب تھوڑا محمد عاشق امام کے بارے میں جان لیتے ہیں۔ ان کا تعلق بہار کے مئو قاضی محلہ سے ہے۔ بہار کے سمستی پور ضلع میں موجود یہ علاقہ آج بھی اہم بنیادی سہولیات سے دور ہے۔ چند سال قبل تک یہاں لوگ سواری کے لیے گھوڑا گاڑی کا استعمال کرتے تھے اور بجلی کا آنا جانا تو آج بھی معمول کی بات ہے۔ اس خطہ میں اعلیٰ تعلیم کی سہولت بھی نہیں ہے، جس کی وجہ سے بچوں کی بڑی تعداد ہائی اسکول کے بعد ہی تعلیم ترک کر کھیتی، خاندانی کاروبار یا ذریعۂ معاش کے لیے مزدوری وغیرہ میں لگ جاتی ہے۔ لیکن عاشق امام نے بچپن میں ہی اس خطہ سے نکل کر اپنی الگ پہچان بنانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ پنجرے میں رہ کر پرواز بھرنا ممکن نہیں ہے، اس لیے ودیاپتی نگر واقع ’ودیاپتی ہائی اسکول‘ سے 2007 میں دسویں مکمل کرنے کے بعد دلسنگھ سرائے کے ’آر بی کالج‘ سے بارہویں کا امتحان پاس کیا، اور پھر بہار کو خیر باد کہہ دیا۔
Published: undefined
گریجویشن کے لیے عاشق امام نے ہریانہ کا رخ کیا جو کہ مشکل بھرا فیصلہ تھا۔ یہاں سے ان کی اصل جدوجہد شروع ہوئی، کیونکہ گھر میں رہ کر محنت کرنا اور باہر نکل کر محنت کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ انھیں یہ فیصلہ کرنے میں شدید دشواری ہوئی کہ گریجویشن کا سبجیکٹ کیا رکھا جائے۔ جدید ٹیکنالوجی سے دلچسپی کے باعث عاشق امام نے ہریانہ واقع ’ایم ڈی یو روہتک‘ سے بی ٹیک (میکانیکل) کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انجینئرنگ کے شعبہ میں اپنا مستقبل روشن کر سکے۔ حالانکہ دیہی علاقوں میں لوگوں کی غربت اور ان کے معاشی مسائل دیکھ کر کچھ الگ کرنے کا ارادہ بھی تھا، لیکن کوئی راستہ دکھائی نہیں دیا۔ ایم ڈی یو روہتک میں ریگولر کلاس کرتے وقت ان کی ملاقات کئی ایسے لوگوں سے ہوئی جو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ معیشت کی گہری سمجھ بھی رکھتے تھے۔ کچھ دوستوں سے سنجیدہ گفتگو ہوئی اور پھر 2015 میں بی ٹیک مکمل کرنے کے بعد انھوں نے مشینوں، مینوفیکچرنگ و ڈیزائن سے منسلک صنعتوں میں قسمت آزمائی کی جگہ بینکنگ سیکٹر کو سمجھنے کا ارادہ کیا۔ ذہن میں یہی چل رہا تھا کہ معاشی سمجھ سے عاری گاؤں کے لوگوں کی اگر رہنمائی کی جائے تو ان کے لیے قرض اور ای ایم آئی کی ادائیگی آسان ہو سکتی ہے۔ شہروں میں بھی متوسط طبقہ کو معاشی و صحت سے جڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے میں انھیں میڈیکل انشورنس، پراپرٹی لون، کریڈٹ کارڈس کی اہمیت کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات کی جانکاری دے کر زندگی آسان بنائی جا سکتی ہے۔
Published: undefined
2017 کی بات ہے جب عاشق امام نے ’پیسہ بازار مارکیٹنگ اینڈ کنسلٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ میں ملازمت اختیار کی۔ مقصد تھا بازار کو سمجھنا اور مارکیٹنگ کی باریکیوں سے واقف ہونا۔ اگلے 4-5 سالوں تک تین چار الگ الگ کمپنیوں میں کام کر کے کئی طرح کے تجربات حاصل کیے، اور پھر انفرادی طور پر فائنانشیل خدمات دینی شروع کر دی۔ عاشق امام نے بتایا کہ ’’کمپنی شروع کرنا بہت مشکل بھرا کام تھا۔ پہلے میں نے دلسنگھ سرائے میں ایک دفتر تیار کیا اور ایک درجن ملازمین رکھ کر انھیں فائنانشیل سروسز کی تربیت دی۔ ارادہ تھا کہ پہلے اپنے گاؤں کے لوگوں کی مدد کی جائے، جنھیں میں نے ہمیشہ قرض میں ڈوبا دیکھا ہے۔ ان کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں، لیکن علاقے کا ماحول اور ملازمین کا مزاج رخنہ انداز ثابت ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سال میں ہی دفتر بند کرنا پڑا۔‘‘ اس ناکامی نے عاشق امام کو ایک شدید دھچکا دیا، لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ سمجھ گئے کہ گاؤں میں چھوٹی سطح سے فائنانشیل سروسز شروع کرنا غلط فیصلہ تھا۔ اس لیے راجدھانی دہلی کا رخ کیا اور این سی آر واقع نوئیڈا میں کرایہ پر دفتر لے کر ’اے آئی فائنانشیل سروسز‘ کی بنیاد ڈالی۔ اس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے تقریباً 2 سال قبل اس کمپنی کا آغاز اس ویژن کے ساتھ کیا کہ لوگوں کو آسان، قابل اعتماد اور ایماندارانہ طریقے سے مالیاتی مسائل کے حل فراہم کیے جائیں۔ ہماری توجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم صارفین کی ضروریات کو سمجھیں اور انہیں مناسب فائنانشیل پروڈکٹس/پلان کے بارے میں درست رہنمائی کریں۔‘‘
Published: undefined
اپنی جدوجہد اور کمپنی کے ابتدائی دنوں کو عاشق امام کبھی نہیں بھول سکتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ابتدا میں چیزیں آسان نہیں تھیں۔ میں نے محدود وسائل کے ساتھ صفر سے شروعات کی۔ میرا پس منظر سیلز میں تھا، جس نے مجھے صارفین کے رویے اور مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھنے میں مدد دی۔ شروع میں مجھے خود ہی گاہکوں تک پہنچنا پڑتا تھا، اپنی خدمات کے بارے میں بتانا ہوتا تھا اور اعتماد قائم کرنا پڑتا تھا۔ کئی ایسے دن دیکھنے پڑے جب کوئی کاروبار نہیں ہوا، لیکن میں مستقل مزاج اور پُرعزم رہا۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہر اسٹارٹ اپ کی طرح ہمیں بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ صحیح ٹیم کا انتخاب مشکل تھا اور آپریشنز کو سنبھالنا بھی آسان نہیں تھا۔ نشیب و فراز آتے رہے، کبھی کاروبار سست ہو جاتا تھا اور کبھی گاہکوں کو مطمئن نہیں کر پاتے تھے۔ ہر چیلنج میرے لیے ایک سیکھنے کا موقع بن گیا۔ آہستہ آہستہ حالات بہتر ہونے لگے۔ ہمارے ایماندارانہ انداز اور لگن نے صارفین کے ساتھ مضبوط اعتماد قائم کرنے میں مدد دی۔ اب حالات ایسے ہیں کہ ہم گاہکوں تک نہیں جاتے بلکہ گاہک خود اپنی ضروریات کے ساتھ ہمارے پاس آتے ہیں۔ ہم انہیں درست رہنمائی کے ساتھ بہترین ممکنہ حل فراہم کرتے ہیں۔
Published: undefined
بہرحال، عاشق امام کو جو ناکامی دلسنگھ سرائے میں ملی تھی، دہلی-این سی آر نے اسے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پہلی ناکامی کو دیکھ کر انھیں یقین نہیں تھا کہ 2 سالوں میں ترقی کی اتنی سیڑھیاں چڑھ جائیں گے۔ آج ان کے پاس تقریباً 2 درجن ملازمین پر مشتمل ایک مضبوط ٹیم ہے، جس میں ٹیم لیڈرز اور مینیجرز شامل ہیں۔ کمپنی اپنے ملازمین پر تنخواہ کی شکل میں ماہانہ تقریباً 6 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے اور انسینٹیو کی شکل میں بھی ماہانہ تقریباً 3 لاکھ روپے کی ادائیگی ہوتی ہے۔ اس کمپنی نے کامیابی کے زینہ پر قدم رکھ دیا ہے اور اب مسلسل ترقی کی طرف گامزن ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined