فکر و خیالات

ہم ہیں کامیاب-5: تین دوستوں کے مضبوط کندھوں پر ترقی کے زینے چڑھ رہا ’لسان انڈیا‘

’لسان انڈیا‘ ایک متحرک ٹیم کی طرح کام کرتی ہے جو دنیا بھر میں لسانی تنوع کو فروغ دینے کا عزم رکھتی ہے۔ ٹیم میں کم و بیش 100 زبانوں میں ترجمہ و دیگر لسانی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

<div class="paragraphs"><p>’لسان انڈیا‘ کے شریک بانیان آصف اقبال خان، سعداللہ اور فہیم احمد (دائیں سے بائیں)</p></div>

’لسان انڈیا‘ کے شریک بانیان آصف اقبال خان، سعداللہ اور فہیم احمد (دائیں سے بائیں)

 

ایک مشہور محاورہ ہے ’تین تگاڑا، کام بگاڑا‘۔ یعنی 3 لوگوں کے گروپ میں کام اکثر بگڑ جاتا ہے، یا پھر غیر منظم ہو جاتا ہے۔ لیکن اس مضمون میں ہم جس کمپنی سے آپ کا تعارف کرانے جا رہے ہیں، وہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ کمپنی کا نام ہے ’لسان انڈیا‘، جس کی بنیاد 3 دوستوں فہیم احمد، سعداللہ اور آصف اقبال خان نے رکھی۔ یہ تینوں کام بگاڑتے نہیں ہیں، بلکہ بگڑتے ہوئے کام کو سنوارنے کا ہنر جانتے ہیں۔ یہ ’ایک سے بھلے دو، دو سے بھلے تین‘ کی مصداق بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 11 سالوں کی قلیل مدت میں ’لسان انڈیا‘ ایک بھروسہ مند کمپنی بن چکی ہے۔

Published: undefined

’لسان انڈیا‘ کے شریک بانیان سعداللہ، آصف اقبال خان اور فہیم احمد دفتر میں ایک خاص موقع پر جشن کی تیاری کرتے ہوئے (دائیں سے بائیں)

’لسان انڈیا‘ نئی دہلی میں قائم ایک ’لینگویج سروس پروائیڈر‘ کمپنی ہے، جس کی بنیاد 2015 میں ڈالی گئی تھی۔ اُس وقت فہیم، سعداللہ اور آصف نے کمپنی قائم کرنے کے مقصد سے قدم تو بڑھا دیا، لیکن اس کے مستقبل سے بے خبر تھے۔ طالب علمی کا زمانہ جوش سے بھرپور ہوتا ہے، اور تینوں دوستوں نے ہی اس جوش کا مظاہرہ کمپنی کو مضبوطی دینے میں کیا۔ 2015 میں جُلینا (نئی دہلی) کی ایک تنگ گلی میں کرایہ کا ایک کمرہ لیا، جسے دفتر کی شکل دی۔ دھیرے دھیرے مختلف زبانوں میں ترجمہ، سب ٹائٹلنگ، لوکلائزیشن، ٹرانسکرئیشن وغیرہ کے لیے فری لانسرز کی ایک چھوٹی سی ٹیم تیار ہوئی۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا، لیکن کام حاصل کرنا مشکل امر تھا جس نے تینوں پارٹنرس کا خوب امتحان لیا۔ کچھ مواقع ایسے آئے جب کمپنی کو بحران والے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں ایک دوست کی ہمت ٹوٹتی نظر آئی تو دوسرے نے حوصلہ بڑھایا، اور دوسرے دوست کو بے یقینی نے پریشان کیا تو تیسرے نے ہمت افزائی کی۔ اس طرح تینوں نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کو سنبھالتے ہوئے ’لسان انڈیا‘ کو آج اس مقام پر پہنچا دیا ہے، جہاں پہنچنے کے بارے میں انھوں نے شاید سوچا بھی نہیں تھا۔

Published: undefined

آپ ’لسان انڈیا‘ کی ویب سائٹ پر جائیں گے تو پتہ چلے گا کہ یہ کمپنی ایک متحرک ٹیم کی طرح کام کرتی ہے جو دنیا بھر میں لسانی تنوع کو فروغ دینے کا عزم رکھتی ہے۔ اس کے پاس ایسی ٹیم ہے جس میں دنیا بھر کے مختلف خطوں کی کم و بیش 100 زبانوں میں ترجمہ و دیگر لسانی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ فری لانسرز کی بات کریں تو مجموعی طور پر 1000 سے زائد لینگویج ایکسپرٹس کی ٹیم ہے، جس میں ہندوستانی زبان کے ماہرین کی تعداد 200 سے زیادہ ہے۔ ’لسان انڈیا‘ کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ’کوالٹی مینجمنٹ سسٹمز‘ (ISO 9001:2015 QMS اور ISO 17100:2015 Translation Services) کے ساتھ ساتھ منظم ’ٹرانسلیشن ورک فلو‘ کی پیروی کرتی ہے۔ ’لسان انڈیا‘ کے کم وقت میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ کمپنی کی بنیاد رکھنے والے تینوں پارٹنرس بذات خود ماہر ترجمہ نگار ہیں۔ ایک طرف آصف اور فہیم انگریزی، عربی و اردو زبان میں مہارت رکھتے ہیں، وہیں دوسری طرف سعداللہ کو انگریزی، اردو و ہندی زبان میں قدرت حاصل ہے۔

Published: undefined

’لسان انڈیا‘ ٹیم کے اراکین شہزاد ندوی، نایاب سنبل اور ممتاز عالم (دائیں سے بائیں)

اس کمپنی کی بنیاد ضرور 2015 میں رکھی گئی، لیکن فہیم، سعداللہ اور آصف الگ الگ ذرائع سے ترجمہ نگاری کا کام پہلے سے ہی کر رہے تھے۔ فہیم احمد کا آبائی وطن اعظم گڑھ ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مقصد سے 2009 میں دہلی آئے تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے انھوں نے عربی زبان میں بی اے اور ایم اے کیا۔ بعد ازاں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے حاصل کی۔ فہیم احمد نے تقریباً 2 سال تک نوئیڈا واقع ’امیٹی یونیورسٹی‘ میں عربی زبان کی تعلیم بھی دی۔ آصف اقبال کا تعلق بہار کی راجدھانی پٹنہ سے ہے، اور یہ بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مقصد سے ہی دہلی آئے۔ 2011 سے وہ مستقل دہلی میں ہیں اور جامعہ سے عربی زبان میں گریجویشن کرنے کے بعد جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سعداللہ کا آبائی وطن پرسا (سرائے مظفر، ضلع سارن، بہار) ہے اور وہ 2013 میں دہلی آنے سے قبل بہار کے مشہور روزنامہ ’قومی تنظیم‘ سے منسلک تھے۔ وہ پٹنہ و دہلی میں تقریباً 2 دہائیوں تک بڑے میڈیا اداروں سے منسلک رہے اور ترجمہ کے میدان میں بھی طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ تینوں دوستوں میں سعداللہ ہی ایسے تھے جو بہتر ذریعۂ معاش کی تلاش میں دہلی آئے۔ چند سال پرائیویٹ دفاتر میں کام کیا، لیکن پھر ’لسان انڈیا‘ کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے ملازمت چھوڑ کر پورا وقت کمپنی کو عروج پر پہنچانے میں لگا دیا، اور نتیجہ آج سبھی کے سامنے ہے۔

Published: undefined

’لسان انڈیا‘ کا دفتر 2018 میں جُلینا سے تاریخی شاہین باغ علاقہ میں منتقل ہوا، اور یہی وہ وقت تھا جب کمپنی کو پروان چڑھانے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔ تینوں شریک بانیوں نے جان توڑ محنت شروع کی اور کچھ ملازمین رکھے گئے تاکہ کمپنی کو رفتار دینے میں آسانی پیدا ہو۔ اس طرح ایک اچھی ٹیم تیار ہو گئی جو انتہائی خوشگوار ماحول میں کام کرنے لگی۔ پھر 2020 کا وہ وقت آیا جب کورونا کی وبا نے اپنا قہر برپا کر دیا۔ اس نے ’لسان انڈیا‘ کی رفتار پر بھی بریک لگایا۔ جو ملکی و غیر ملکی کمپنیاں ’لسان انڈیا‘ کو کام دیتی تھیں، وہ خود بھی مسائل میں مبتلا ہو چکی تھیں۔ کورونا نے کچھ ایسے حالات پیدا کر دیے کہ ملازمین کی تعداد کم کیے جانے پر غور ہونے لگا۔ لیکن ایک فیملی کی طرح کام کر رہے ملازمین کو ’خیر باد‘ کہنے کی ہمت تینوں پارٹنرس میں نہیں ہوئی۔ اس کی جگہ پوری ٹیم نے زیادہ محنت کرنے اور نئے روابط پیدا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ جہد مسلسل نے اپنا رَنگ دکھایا اور دھیرے دھیرے حالات بہتر ہونے لگے۔ ایک ڈیڑھ سال ضرور مشکل بھرے رہے، لیکن اس کے بعد چیزیں قدرے آسان ہوتی چلی گئیں۔

Published: undefined

موجودہ وقت میں ’لسان انڈیا‘ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کر خود کو مزید اعلیٰ معیاری بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ سعداللہ بتاتے ہیں کہ ’’اے آئی آنے کے بعد مارکیٹ میں بہت کنفیوژن پیدا ہو گئی تھی، جس نے وقتی طور پر کاروبار کو متاثر کیا۔ ہمارے سامنے اصل چیلنج یہ تھا کہ ہم اے آئی کو اپنے فائدے کے لیے ایک موثر ٹول کے طور پر کس طرح استعمال کریں۔ ہم تینوں دوستوں نے مشورہ کر اے آئی ٹولز کو اپنے ورک فلو میں شامل کیا اور پروجیکٹ منیجرز کو اے آئی کی تربیت دی۔ اس طرح اے آئی ٹرانسلیشن اور ایڈیٹنگ سروسز کا آغاز کیا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’اے آئی نے ہمارے ورک فلو کو مزید مضبوط کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ آنے والے وقت میں یہ پوری انڈسٹری میں بہتری کا باعث بنے گا۔‘‘

Published: undefined

’لسان انڈیا‘ کے شریک بانیوں سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی گئی کہ ایک اچھا مترجم یا سَب ٹائٹلر بننے کے لیے کیا اہلیت ہونی چاہیے۔ فہیم احمد نے اس تعلق سے بتایا کہ ’’ترجمہ یا دیگر سروسز کے لیے مادری زبان سب سے اہم ہے۔ ساتھ میں کسی ایک بیرون ملکی زبان (مثلاً انگریزی) پر مہارت ضروری ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہندوستان میں ہندی، اُردو اور مراٹھی سمیت دیگر مقامی زبانوں میں ترجمہ وغیرہ کا کام بہت ہے۔ معیاری کام وہی لوگ کر پاتے ہیں جو ترجمہ نگاری اپنی مادری زبان سے مہارت رکھنے والی دوسری زبان میں، یا دوسری زبان سے مادری زبان میں کرتے ہیں۔‘‘ فہیم احمد کی باتوں سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کمپنیاں ’نیٹیو ٹرانسلیٹر‘ یعنی مقامی مترجم کی خدمات حاصل کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہی وجہ کہ بڑی کمپنیاں لینگویج سروس پرووائیڈر سے رابطہ کرتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس ’نیٹیو ٹرانسلیٹرس‘ کی ٹیم ہوتی ہے۔

Published: undefined

بہرحال، ’لسان انڈیا‘ اپنے کام کے معیار کو لے کر جتنا سنجیدہ ہے، اتنا ہی سنجیدہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو سہولت آمیز و خوشگوار ماحول فراہم کرنے کے لیے بھی ہے۔ خاص طور سے دفتر میں سبھی مل جل کر کام کرتے ہیں، بالکل اس طرح جیسے ہر مالک ملازم ہے، اور ہر ملازم مالک ہے۔ آصف اقبال خان کی مانیں تو دفتر میں ایسی فضا قائم ہونی چاہیے کہ یہاں کام کرنے والوں کو شخصیت سازی کا بھی احساس ہو اور ترقی کا بھی۔ آپس میں ایک ایسی مثبت مقابلہ آرائی، تعاون اور حوصلہ ملے جو انھیں ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے اور اچھی کارکردگی پیش کرنے کی ترغیب دے۔ آصف نے بتایا کہ ٹیم ممبرس کو کچھ ایسی چیزوں میں مصروف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بظاہر چھوٹی معلوم ہوتی ہیں، لیکن سبھی کی زندگی میں بڑے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ مثلاً سبھی ایک ساتھ ظہرانہ کرتے وقت مختلف موضوعات پر بے باک تبادلۂ خیال کرتے ہیں؛ دفتر میں کچن موجود ہے جہاں درجنوں اقسام کی چائے پتیاں رکھی ہوئی ہیں، ان سے تجربات کیے جاتے ہیں؛ ثقافتی معاملوں پر مذاکرہ ہوتا ہے... یہ سبھی ایسی چیزیں ہیں جس نے دفتر کے ماحول کو صحت مند بنانے میں مدد کی ہے۔ آصف کے مطابق ان سرگرمیوں نے پوری ٹیم کو ایک ایسے دھاگے میں باندھا ہے، جو کمپنی کے ساتھ ساتھ ٹیم اراکین کے بھی مفاد میں ہے۔

Published: undefined

اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ کسی کمپنی کی ترقی میں سبھی کارکنان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ بحران والے حالات جس طرح ہر فرد کی زندگی میں آتے ہیں، اسی طرح کمپنیوں کو بھی وقتاً فوقتاً مشکل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’لسان انڈیا‘ اب ان چیلنجز کا سامنا کرنا سیکھ چکی ہے اور پوری ٹیم مضبوطی کے ساتھ ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے، آپسی اختلافات ہو جائیں، یا کوئی بات بگڑ جائے، تو پھر فہیم، سعداللہ اور آصف موجود ہیں... یہ بگڑی بات بنائیں گے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined