
بلڈوزر کے ذریعے انہدامی کارروائی کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
ظلم کسی پر بھی ہو وہ ناقابل قبول ہے۔ خواہ مسلمان ہو یا ہندو یا سکھ یا عیسائی یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو۔ ظلم کی مذمت ہر شخص کو کرنی چاہیے۔ اگر آپ ایک طبقے پر ہونے والے ظلم کو خاموشی سے دیکھتے رہیں گے بلکہ خوشی منائیں گے تو کیا پتہ اگلا نمبر آپ کا آجائے۔ جب اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست میں بلڈوزر کارروائی کا آغاز کیا اور احتجاجوں میں شرکت کی پاداش میں مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں کو غیر قانونی قرار دے کر توڑنا شروع کیا تو ایک طبقہ یہ کہتا رہا ہے کہ جہاں بھی غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ہوں گی وہاں بابا کا بلڈوزر ضرور چلے گا۔ حالانکہ یہ کارروائی سراسر ناانصافی پر مبنی تھی۔
اسے بلڈوزر جسٹس کا نام دیا گیا۔ عدالت میں کارروائی کے بغیر مکانات منہدم کیے جانے لگے۔ یہ جواز پیش کیا جاتا تھا کہ وہ غیر قانونی تعمیرات ہیں اور انتظامیہ سے اجازت کے بغیر بنائی گئی ہیں۔ متاثرین کو کوئی نوٹس بھی نہیں دیا جاتا اور آناً فاناً میں انھیں چھت سے محروم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ انسانی حقوق کے ماہرین اور قانون دانوں کی جانب سے اس کارروائی کی مذمت کی جاتی رہی اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے رہے۔ لیکن حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ بالآخر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کو اس کے خلاف سخت فیصلے دینے پڑے۔
Published: undefined
اس کو یہ کہنا پڑا کہ بلڈوزر جسٹس کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ کارروائی آئین و دستور کے منافی ہے۔ اگر کسی نے سرکاری زمین پر قبضہ کر بھی لیا ہے تو پہلے اسے اپنا موقف رکھنے کا موقع دینا ہوگا اور اگر انہدامی کارروائی بالکل ضروری ہو جائے تو پہلے متاثرہ شخص کے لیے متبادل رہائش کا انتظام کرنا ہوگا۔ اس نے ایسی متعدد ریاستوں کو جہاں بلڈوزر کارروائی کرکے بہت سے لوگوں کو بے گھر اور بے روزگار کر دیا گیا ہے، نوٹس جاری کیے اور بلڈوزر کارروائی کے لیے گائیڈ لائن جاری کی۔ لیکن سپریم کورٹ کے سخت فیصلوں کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا اور بالخصوص بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں بلڈوزر دندناتا پھرتا رہا بلکہ اب بھی دندنا رہا ہے۔
اب یہ بلڈوزر مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے اور بی جے پی کو ہمیشہ ووٹ دینے والوں کے گھروں اور دکانوں کو بھی نیست و نابود کر رہا ہے۔ یہ کارروائی اترپردیش اور دیگر ریاستوں میں تو چل ہی رہی تھی اب دہلی میں بھی شروع ہو گئی ہے۔ اس کارروائی کو وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی خاموش حمایت حاصل ہے۔ متاثرین کی اکثریت بی جے پی رائے دہندگان پر مشتمل ہے۔ اب وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمارا کیا قصور ہے جو ہمارے مکان توڑے جا رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک متاثرہ شخص نے کہا کہ اگر حکومت کو مسلمانوں سے دشمنی ہے تو وہ ان کے مکان توڑے ہمارے کیوں توڑ رہی ہے۔ ہم تو جنم سے ہی بی جے پی کو ووٹ دیتے رہے ہیں۔
Published: undefined
معمر افراد کا کہنا ہے کہ ہم پہلے جن سنگھ کو ووٹ دیتے تھے اور جب بی جے پی بن گئی تو اسی وقت سے بی جے پی کو ووٹ دے رہے ہیں۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے۔ کیا بی جے پی کو ووٹ دینا ہمارا قصور ہے جو ہمارے مکانوں کو غیر قانونی قرار دے کر توڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم لوگ یہاں پچاس ساٹھ برسوں سے رہ رہے ہیں۔ ہم نے زمین خرید کر مکانات بنائے ہیں۔ انہی پتوں پر آئی کارڈ ہیں، آدھار کارڈ ہیں، بجلی کا میٹر ہے۔ سب کچھ ہے کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہے تو پھر ہمارے مکان کیوں گرائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ دہلی میں اب تک جن علاقوں میں انہدامی کارروائی کی جا چکی ہے ان میں وزیر پور، کالکا جی، اشوک وہار، سنگم وہار، چھترپور، بھوم ہین کیمپ، ترکمان گیٹ، بیگم پور، شالیمار باغ، براڑی، روشن آرا باغ، علی گاوں، جہانگیر پوری، بوانہ، پرتاپ نگر، اندر لوک اور مدراسی کیمپ وغیرہ ہیں۔ جبکہ ابھی کئی کالونیاں نشانے پر ہیں۔ ان میں سے متعدد کالونیوں کو غیر قانونی قرار دے کر توڑا گیا ہے۔ کچھ کو سڑک چوڑی کرنے کے نام پر اور کچھ کو دہلی کو خوبصورت بنانے کے نام پر۔
Published: undefined
اسی طرح اترپردیش کے بنارس میں منی کارنیکا گھاٹ پر درجنوں مندر توڑ دیے گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ کاریڈور بنایا جائے گا۔ جن مندروں کو توڑا گیا ہے ان میں کئی مندر چار پانچ سو سال پرانے تھے۔ اس کارروائی پر وہاں کے لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ اس سے کچھ برس پہلے کاشی وشوناتھ مندر کے پاس درجنوں مندر توڑ کر کاریڈور بنایا گیا تھا۔ بنارس کے دال منڈی محلے میں بھی مکانوں کو سڑک چوڑی کرنے کے نام پر توڑا جا رہا ہے۔
اترپردیش کے میرٹھ میں بھی غیر مسلموں کی دکانیں توڑی گئی ہیں۔ پورا مارکیٹ صاف کیا جا رہا ہے۔ اب تو بہار میں بھی بلڈوزر کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ مدھیہ پردیش، گجرات، چھتیس گڑھ اور بی جے پی اقتدار والی دیگر ریاستوں میں بھی بلڈوزر ایکشن چل رہا ہے۔ پہلے صرف مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں کو منہدم کیا گیا اور اب سب کے مکان و دکان منہدم کیے جا رہے ہیں۔ اب وہی لوگ شکایت کر رہے ہیں کہ ہمارا کیا قصور ہے۔ اب ان کی سمجھ میں آرہا ہے کہ یہ حکومت کسی کی ہمدرد نہیں ہے۔ وہ غریبوں اور کمزوروں کا نام لیتی ہے لیکن انھی کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔
Published: undefined
جب مسلمانوں کے مکان توڑے جا رہے تھے تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہمارے پاس تمام دستاویزات ہیں۔ اس پتے پر آدھار کارڈ ہے۔ بجلی کا بل ہے۔ دیگر کاغذات ہیں۔ لیکن انتظامیہ ایک نہیں سنتی تھی۔ یہاں تک کہ نوٹس دیے بغیر کارروائی کی جا رہی تھی۔ ان کو اپنا سامان نکالنے کی فرصت بھی نہیں دی جا رہی تھی۔ اب غیر مسلموں کو یہی شکایت ہے کہ انھیں اپنا سامان نکالنے کی مہلت تک نہیں دی جا رہی ہے۔ وہ لوگ اس سرد موسم میں کھلے آسمان کے نیچے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ بغیر بجلی کے ان کو رہنا پڑ رہا ہے۔ ترکمان گیٹ پر مسجد فیض الٰہی کے قریب رات کی تاریکی میں دو بجے جا کر انہدامی کارروائی کی گئی۔ پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا۔ احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
حکومتوں کا کام عوام کو راحت پہنچانے کا ہوتا ہے، انھیں تکلیف پہنچانے کا نہیں۔ اور پھر روٹی کپڑا اور مکان انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔ ہندوستانی آئین کے مطابق انھیں اس کا حق دیا گیا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بے گھر لوگوں کو گھر فراہم کرے، نہ کہ انھیں اجاڑے۔ کانگریس کی حکومتوں میں شہریوں کو ایسی پریشانی میں مبتلا نہیں کیا جاتا تھا۔ خود دہلی جیسے شہر میں جہاں یومیہ ہزاروں افراد دیگر ریاستوں سے روزی روٹی حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں ان کے لیے رہائش کا انتظام ہونا چاہیے۔ شیلا دیکشت کی حکومت نے ایسے لوگوں کو رہائش فراہم کی تھی۔ ان کے دور میں متعدد غیر قانونی کالونیوں کو مستقل کیا گیا تھا تاکہ انھیں شہری و انسانی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ لیکن اب موجودہ حکومت نہ صرف ان کالونیوں کو بلکہ دیگر کالونیوں میں بھی تعمیر شدہ عمارتوں اور بازاروں کو غیر قانونی قرار دے کر توڑ رہی ہے۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں سیاست کا عمل دخل زیادہ ہے۔
Published: undefined
بہرحال یہ سراسر غیر انسانی کارروائی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مظلوموں کے صبر کا امتحان نہ لے۔ جو لوگ مسلمانوں کے خلاف انہدامی کارروائی پر چپ تھے یا خوش ہو رہے تھے، انھیں اب ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ وہ جس حکومت کو اپنی حکومت سمجھتے تھے اب وہی ان کی دشمن بن گئی ہے۔ بابا کا بلڈوزر کہہ کہہ کر جو لوگ خوشیاں منا رہے تھے اب وہ بھی اسی بلڈوزر کی زد پر ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر نواز دیوبندی کا یہ قطعہ یاد آرہا ہے:
جلتے گھر کو دیکھنے والو، پھونس کا چھپر آپ کا ہے،
آگے پیچھے تیز ہوا ہے، آگے مقدر آپ کا ہے۔
اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا،
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہو، اگلا نمبر آپ کا ہے۔
Published: undefined