
منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق ادارہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ یعنی ای ڈی کے طریقۂ کار پر تو عوام کی اکثریت ایک عرصے سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہے، بلکہ وہ یہ مان کر چل رہی ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی میں ایماندار نہیں ہے۔ اس کی وجہ اس کی جانب سے صرف اپوزیشن رہنماؤں پر چھاپے اور گرفتاری کی کارروائی کرنا اور حکمراں جماعت کو کھلی چھوٹ دے دینا ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں اس سلسلے میں اس وقت ایک نیا موڑ آ گیا جب اس کا بھانڈہ بیچ چوراہے پر پھوٹ گیا۔ اس کا بھانڈہ پھوڑا ہے راجستھان کے اینٹی کرپشن بیورو یعنی اے سی بی نے۔ اس کے اہلکاروں نے ای ڈی کے ایک افسر نول کشور مینا کو اپنے ایک رفیق کار بابو لال مینا کے ساتھ پندرہ لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
ذرا سوچیے کہ جو ادارہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کی نام نہاد مہم چلا رہا ہے وہی کرپشن میں ملوث پایا گیا ہے۔ حالانکہ حکومت کہتی ہے کہ یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ ایک ایک بدعنوان شخص کو جیل میں نہیں ڈال دیا جائے گا۔ وہ اسی ادارے کی بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہی ہے جس کے دو اہلکاروں کو رشوت لیتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ کیا اب عوام کو ای ڈی پر کوئی بھروسہ رہے گا کہ وہ واقعی بدعنوانی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ یا اب یہ پیغام جائے گا کہ وہ تو خود بدعنوانی میں مبتلا ہے، وہ کیا بدعنوانی ختم کر پائے گی۔
دونوں اہلکاروں نے منی پور سے متعلق ایک کیس میں یہ کہہ کر رشوت لی تھی کہ اس طرح ان لوگوں کی گرفتاری نہیں ہوگی۔ یعنی جب آپ رشوت لے کر کسی کو گرفتاری سے چھوٹ دینا چاہتے ہیں تو کیا ایسا نہیں ہوگا کہ آپ اسی طرح کی کسی دوسری وجہ سے اپوزیشن رہنماؤں کو پریشان کر رہے اور ان کو گرفتار کر رہے ہیں۔ یہ وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے دباؤ بھی ہو سکتا ہے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ای ڈی کے جو افسران اپوزیشن لیڈروں کو جیل میں ڈالیں گے ان کو اس کا انعام دیا جائے گا۔ یہ انعام کسی بھی شکل میں ہو سکتا ہے۔
ای ڈی کی کارروائی کو حکومت کی انتقامی کارراوئی سمجھنے کی یوں تو کئی وجوہات ہیں۔ لیکن تازہ وجہ اس گرفتاری کے بعد ہی سامنے آ گئی۔ جب ای ڈی کے افسروں کی گرفتاری کی خبر پورے ملک میں پھیل گئی تو اس کو لگا ہوگا کہ اس کی بدنامی ہو رہی ہے لہٰذا اس کے اگلے دن ہی چھتیس گڑھ میں اس نے ایک کارروائی کر دی اور الزام عاید کر دیا کہ مہادیو سٹے بازی ایپ کے مالکوں نے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کو 508 کروڑ روپے کی رشوت دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پانچ کروڑ روپے سے زائد نقد رقم کے ساتھ پکڑے گئے ایک شخص نے بھوپیش بگھیل کو مذکورہ رشوت دیے جانے کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے بیان کی جانچ کی ضرورت ہے۔
اس طرح ای ڈی نے گرفتاری سے اپنے دامن پر لگے گاغ کو دھونے کی کوشش کی لیکن اس عمل میں اس نے مزید داغ لگا لیے۔ وزیر اعلیٰ بگھیل نے اس بیان کو اپنی امیج کو خراب کرنے والا قرار دیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی سرکاری ایجنسیوں کے سہارے الیکشن لڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرکزی حکومت کانگریس کی ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ای ڈی نے اس معاملے میں ان کے کئی قریبی لوگوں کے خلاف پہلے ہی کارروائی کر رکھی ہے اور اب انھیں بدنام کرنے کے لیے اس نے یہ الزام لگا دیا ہے۔
ان کے مطابق یہاں سب کچھ الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے۔ پولیس کے علاوہ سی آر پی ایف کے جوان بھی تعینات ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اتنی بڑی رقم لے کر لوگ کس طرح چھتیس گڑھ آ رہے ہیں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اس معاملے میں کہیں مرکزی ایجنسیوں کی ساز باز تو نہیں ہے۔ کہیں یہ رقم ان صندوقوں میں بھر کر تو نہیں لائی گئی ہے جو ای ڈی کے افسروں اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ خصوصی جہاز سے لائے گئے ہیں۔ یہ سوال آزاد تجزیہ کار بھی اٹھا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ چپے چپے پر پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں تعینات ہیں تو پھر اتنی بڑی رقم لے کر کوئی کیسے آ جا سکتا ہے۔
ویسے یہ بات تو کوئی معمولی شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ ای ڈی کا استعمال سیاسی انتقام لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ چن چن کر اپوزیشن لیڈروں کو کیوں نشانہ بناتی۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ 2024 کا الیکشن آتے آتے حکومت تمام بڑے اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دے گی۔ اس سلسلے میں وہ عام آدمی پارٹی کے دو رہنماؤں منیش سسودیا اور سنجے سنگھ کو جیل میں ڈالنے کے بعد وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو پوچھ تاچھ کے لیے سمن جاری کونے کی مثال دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کے کئی بڑے لیڈروں نے کہا ہے کہ ای ڈی کیجریوال کو گرفتار کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں اور مبصروں کا کہنا ہے کہ کیجریوال کی گرفتاری کے بعد دوسروں کا نمبر آئے گا۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ کیجریوال کے بعد جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور تیجسوی یادو اور اس کے بعد کیرالا کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد دوسرے لیڈروں کا نمبر آئے گا۔ چونکہ جھارکھنڈ اور کیرالہ میں بی جے پی حکمراں جماعتوں سے جیت نہیں پائے گی اور بہار میں تیجسوی نے بی جے پی اور حکومت پر حملہ بول رکھا ہے اس لیے حکومت ان تمام لوگوں کو اندر کر کے اپنے لیے راہ عافیت ڈھونڈنا چاہتی ہے۔ کانگریس کی حکومتوں کو بھی پریشان کیا جا رہا ہے۔ چھتیس گڑھ اور راجستھان میں ای ڈی کی کارروایاں جاری ہی ہیں۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ جس طرح ای ڈی کا غلط استعمال ہو رہا ہے وہ ملک کے لیے بہت نقصاندہ ہے۔ اس سے سیاسی انتقام کی ایک ایسی آندھی آ سکتی ہے جس سے کوئی نہیں بچ پائے گا۔ اگر 2024 کے الیکشن میں بی جے پی کی شکست ہوتی ہے، جس کا قوی امکان ہے، تو اس بات کا بھی امکان ہے کہ مرکز میں جو بھی حکومت آئے گی وہ اسی طرح بی جے پی کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ اور پھر ایک سلسلہ چل پڑے گا جو جلد رکے گا نہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے کو روکے۔ ہاں اگر کوئی واقعی بدعنوان ہے اور اس نے قانون شکنی کی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وہ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا بدعنوان لیڈران صرف اپوزیشن میں ہیں، بی جے پی کے تمام لوگ دودھ کے دھلے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آنے والے انتخابات میں عوام اس سوال کا جواب ضرور مانگیں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔