
علامتی تصویر / اے آئی
شری رام جنم بھومی تیرتھ کیشتر ٹرسٹ کو ہندوستان کی عوامی زندگی میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ایودھیا تنازع پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 5 فروری 2020 کو مرکزی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے اس ٹرسٹ کو رام مندر کی تعمیر اور انتظام کی ذمہ داری سونپی گئی، جو بلاشبہ آزاد ہندوستان کے سیاسی اعتبار سے سب سے اہم مذہبی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
18 اکتوبر 2023 کو اس ٹرسٹ کو نئی دہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخ کے ذریعے غیر ملکی عطیات وصول کرنے کے لیے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے) کے تحت اجازت دی گئی۔ ملک بھر میں ایف سی آر اے کے تحت رجسٹرڈ تمام اداروں کو غیر ملکی چندہ اسی شاخ کے ذریعے وصول کرنا ہوتا ہے۔ اس نظام میں رازداری کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، کیونکہ ہر لین دین الیکٹرانک طور پر ریکارڈ ہوتا ہے اور متعلقہ حکام اسے فوری طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
Published: undefined
تاہم، رام مندر ٹرسٹ اس وقت ایک مشکل صورتِ حال سے دو چار ہے۔ عقیدت مندوں کی جانب سے چڑھائے گئے سونے، چاندی اور دیگر عطیات میں مبینہ خردبرد کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو مزید وقت دیا گیا ہے۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے چکے ہیں، جبکہ ٹرسٹ کے آٹھ ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ چمپت رائے ابتدائی مرحلے میں پولیس میں شکایت درج کرانے کے لیے روانہ ہوئے تھے، لیکن راستے میں ایک ٹیلی فون کال موصول ہونے کے بعد واپس لوٹ آئے، جس کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ اب یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ ایف سی آر اے کی مبینہ خلاف ورزیوں کی جانچ کے لیے مرکزی تفتیشی بیورو اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو بھی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔
Published: undefined
پارلیمنٹ کے گزشتہ بجٹ اجلاس کے دوران حکومت نے ایف سی آر اے میں ایسی ترامیم پیش کی تھیں جن کے تحت حکام کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کی جائیدادیں ضبط کرنے اور نیلام کرنے کے اختیارات مل جاتے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان مجوزہ ترامیم میں مبینہ خلاف ورزی کی کوئی کم از کم حد مقرر نہیں کی گئی تھی۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو اس کا طریقۂ کار ہے۔ ایک نامزد افسر، جو ضلع مجسٹریٹ کے درجے کا یا اس سے بھی نچلے درجے کا ہو سکتا ہے، کسی ادارے کی جائیداد ضبط کرنے اور اس کی نیلامی کا حکم جاری کر سکتا ہے، جبکہ اس سے حاصل ہونے والی رقم حکومتِ ہند کے سرکاری خزانے میں جمع ہوگی۔ اس کے لیے کسی عدالتی فیصلے کی پیشگی ضرورت نہیں ہوگی۔
Published: undefined
شاید ہی کوئی سنجیدگی سے یہ تصور کرے کہ کبھی رام مندر کی نیلامی ہوگی، اور نہ ہی کسی کو ایسے انجام کی خواہش ہونی چاہیے۔ یہ مندر لاکھوں عقیدت مندوں کے ایمان اور تعاون کی بنیاد پر تعمیر ہوا ہے، جنہوں نے ٹرسٹ کو ایف سی آر اے کی منظوری ملنے سے پہلے ہی مبینہ طور پر ساڑھے تین ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا عطیہ دیا تھا۔
تاہم قوانین کسی ایک ادارے کے لیے نہیں بلکہ تمام اداروں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ آج جو اختیارات انتظامیہ کو دیے جا رہے ہیں، ان کا استعمال کل کسی مختلف سیاسی ماحول میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایف سی آر اے پہلی بار 1976 میں ایمرجنسی کے دوران نافذ کیا گیا تھا۔ غالباً اس معاملے کی سیاسی حساسیت کو سمجھتے ہوئے حکومت نے اپوزیشن کی شدید تنقید کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ان ترامیم کو آگے نہیں بڑھایا، بلکہ ماتحت قواعد و ضوابط کے ذریعے ان میں سے کئی مقاصد حاصل کر لیے۔
Published: undefined
ان نئے قواعد نے جواب دہی کا دائرہ کافی وسیع کر دیا ہے۔ پہلے قانون پر عمل درآمد کی ذمہ داری بنیادی طور پر کسی ادارے کے چیف ایگزیکٹو یا سربراہ عہدیدار پر ہوتی تھی، لیکن اب گورننگ بورڈ کے صدر اور ہر رکن کو بھی انفرادی طور پر جواب دہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کسی فلاحی یا خیراتی ادارے کے بورڈ میں خدمات انجام دینا قانونی اعتبار سے ایک پرخطر ذمہ داری بنتا جا رہا ہے، اور اس کے اثرات اب واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
’چرچز آکزیلیئری فار سوشل ایکشن‘ (کاسا)، جو ہندوستان کے قدیم ترین اور معتبر انسانی خدمت کے اداروں میں شمار ہوتا ہے، کئی دہائیوں تک ملک بھر میں امدادی گودام چلاتا رہا۔ چاہے بہار میں سیلاب آیا ہو، گجرات میں زلزلہ آیا ہو یا مشرقی ساحل پر سمندری طوفان، اس کے رضاکار چند ہی گھنٹوں میں ضروری امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ لیکن آج ہنگامی انسانی امداد بھی ضابطہ جاتی تقاضوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔ اگر کسی ریاست میں پہلے سے منظوری حاصل نہ ہو تو امدادی کام شروع کرنے سے قبل ادارے کو متعلقہ قانونی کارروائیاں مکمل کرنا پڑ سکتی ہیں۔ قدرتی آفات کے دوران اس تاخیر کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
Published: undefined
ایف سی آر اے میں یکے بعد دیگرے کی گئی ترامیم کے مجموعی اثرات نہایت گہرے رہے ہیں۔ رضاکارانہ تنظیموں میں کام کرنے والے ہزاروں افراد، جو ضروری نہیں کہ عیسائی یا مسلمان ہی ہوں، اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ کئی ایسے ادارے، جو حکومت کی فلاحی سرگرمیوں کے معاون تھے، اب اپنی بقا کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان ضوابط کا دائرہ مالی جواب دہی سے بڑھ کر ان اداروں سے وابستہ افراد کی ذاتی زندگی تک پہنچ گیا ہے۔ یہاں تک کہ بورڈ کے ارکان کی لکھی ہوئی کتابوں اور مضامین کی تفصیلات بھی حکام کو فراہم کرنا پڑ سکتی ہیں۔ مالی نگرانی ایک الگ چیز ہے، لیکن فکری اور علمی سرگرمیوں کی نگرانی بالکل مختلف معاملہ ہے۔
عام سیاسی مباحث میں مسلسل یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ عیسائی اداروں کو مذہب کی تبلیغ یا تبدیلیٔ مذہب کے لیے بیرونِ ملک سے بھاری رقوم موصول ہوتی ہیں، لیکن ایف سی آر اے کا پورا نظام خود اس دعوے کی نفی کرتا ہے۔ ہر غیر ملکی عطیہ ایک مخصوص بینک شاخ کے ذریعے وصول ہوتا ہے، جہاں متعلقہ حکام حقیقی وقت میں اس کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ اگر کہیں غیر قانونی فنڈنگ ہو تو اس کا سراغ تقریباً فوری طور پر لگایا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ دعویٰ کہ ہندوستانی شہری صرف بیرونی مالی وسائل کی بنیاد پر اپنا مذہب تبدیل کر سکتے ہیں، خود ہندوستانی عوام کی شعوری صلاحیت اور وقار کو کم تر ثابت کرتا ہے۔ مذہبی عقیدہ شاذ و نادر ہی اتنا تجارتی یا مالی مفاد سے وابستہ ہوتا ہے۔
Published: undefined
عیسائی رضاکارانہ تنظیموں کی خدمات کا غیر جانب دارانہ جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔ کئی نسلوں سے ان اداروں نے اسکول، اسپتال، جذام کے مریضوں کے مراکز، یتیم خانے اور سماجی ترقی کے منصوبے قائم کیے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں خود ریاست کی موجودگی نہایت محدود تھی۔ ولیم کیری تعلیم کو سماجی اصلاح کا بنیادی ذریعہ سمجھتے تھے۔ سینٹ اسٹیفنز نے دہلی میں جدید طبی خدمات کی بنیاد رکھی، جبکہ بے شمار مشنری اسکولوں نے پہلی نسل کے ایسے طلبہ کو تعلیم دی جو شاید کبھی کسی تعلیمی ادارے تک نہ پہنچ پاتے۔
راقم الحروف نے تقریباً 25 برس تک ایک عیسائی رضاکارانہ تنظیم میں سربراہ یا چیف ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ اس ادارے کے زیرِ سرپرستی چلنے والے اسکولوں اور تعلیمی مراکز کے ذریعے لاکھوں محروم طلبہ نے اپنی تعلیم مکمل کی، جن میں سے بہت سے اپنے خاندان کے پہلے پڑھے لکھے افراد تھے۔ تاہم، ان میں سے کسی نے بھی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے عیسائیت قبول نہیں کی۔ مصنف کے مطابق ان کا ذاتی تجربہ اس عام تصور کے بالکل برعکس ہے کہ تعلیمی خدمات کے ذریعے مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔
Published: undefined
مدر ٹریسا کی قائم کردہ ’مشنریز آف چیریٹی‘ کا معاملہ بھی اس حوالے سے قابلِ غور ہے۔ 2018 میں جھارکھنڈ میں سسٹر کونسیلیا اور ان کے دو ساتھیوں کو بچوں کی اسمگلنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان گرفتاریوں نے سنسنی خیز سرخیاں اور پرائم ٹائم ٹیلی ویژن مباحث کو جنم دیا، جبکہ اس ادارے کی بچوں کی نگہداشت سے متعلق سرگرمیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ گزشتہ ماہ برسوں تک جاری قانونی کارروائی کے بعد معمر راہبہ کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا، لیکن ان کی بریت کی خبر قومی میڈیا میں بمشکل ہی جگہ پا سکی۔ عوامی غصہ بھڑکانا کسی شخص کی بے گناہی کو نمایاں کرنے سے کہیں زیادہ آسان ثابت ہوتا ہے۔
ملک کی کئی ریاستوں میں عیسائی دعائیہ اجتماعات اور تعلیمی اداروں پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ خود ساختہ نگرانی کرنے والے چھوٹے چھوٹے گروہ عبادت میں خلل ڈالتے ہیں، اجتماعات کو خوف زدہ کرتے ہیں اور کسی واضح قانونی خوف کے بغیر زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ اکثر متاثرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی توجہ ہنگامہ برپا کرنے والوں کے بجائے انہی پر مرکوز رہتی ہے۔
Published: undefined
راجستھان کے ضلع ڈونگرپور کے پٹیلا میں واقع سینٹ پال اسکول کی منظوری حال ہی میں منسوخ کر دی گئی، جس کے نتیجے میں طلبہ کو دوسرے اداروں میں داخلہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ مصنف کے مطابق اس اقدام نے عدم تحفظ کے احساس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان کے بقول یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کئی ریاستوں میں ہزاروں سرکاری اسکول پہلے ہی بند کیے جا چکے ہیں، جس سے غریب بچوں کے لیے تعلیم کے مواقع مزید محدود ہو گئے ہیں۔
عیسائیوں کے نزدیک عبادت انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ گھروں میں دعائیہ اجتماعات ہمیشہ سے مذہبی اظہار کا ایک تسلیم شدہ طریقہ رہے ہیں، لیکن اب ہندوستان کے بعض حصوں میں گھروں میں ہونے والی مختصر دعائیہ نشستوں پر بھی غیر قانونی مذہب تبدیلی کے الزامات لگنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
مصنف کے مطابق قانون اور انتظامی اختیارات کے اس مسلسل پھیلتے ہوئے دائرے کو مستقبل میں کسی امریکی صدی یا کسی تاریخی دور کے خاتمے کے طور پر نہیں، بلکہ ایسے عہد کے طور پر یاد کیا جائے گا جہاں قوانین اور اختیارات محض منتخب انداز میں کنٹرول قائم رکھنے کا ذریعہ بن گئے۔
Published: undefined
کوئی بھی جمہوریت اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب عبادت جیسے معمول کے مذہبی اعمال بھی شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھے جانے لگیں۔ ریاست کو غیر ملکی فنڈنگ کو منظم کرنے کا حق حاصل ہے۔ شفافیت ضروری ہے اور ہر ادارے کو قانون کی پابندی کرنی چاہیے، لیکن قوانین ایسے ہونے چاہییں جو غیر جانب دار اور متناسب ہوں اور شہریوں کو من مانی انتظامی کارروائی سے تحفظ فراہم کریں۔
ہندوستان کا آئین مذہبی آزادی، انجمن سازی کی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ آزادیاں صرف آئین کے صفحات پر درج ہونے سے برقرار نہیں رہتیں، بلکہ اس وقت حقیقی معنوں میں زندہ سمجھی جاتی ہیں جب شہری اور ادارے اپنی مذہبی تعلیمات کی تبلیغ، نیز تعلیم، صحت اور سماجی خدمت جیسے کام، ہر وقت انتظامیہ یا کسی دوسرے دباؤ کے خوف کے بغیر انجام دے سکیں۔
جب عطیات کو شک کی نگاہ سے، خدمت کو بے اعتمادی سے اور عبادت کو خوف و اندیشے سے دیکھا جانے لگے تو جمہوریت خود اپنی ایک قیمتی خصوصیت کھونے لگتی ہے۔ آج کے ہندوستان کی سب سے افسوس ناک ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض مقامات پر دعا اور عبادت بھی گویا ملک دشمنی کے عمل جیسی محسوس ہونے لگی ہے۔
(مضمون نگار اے جے فلپ سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں)
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined