فکر و خیالات

کامن سنس: خدا تک پہنچنے کا راستہ...ایف اے مجیب

آج کے دور میں خدا کے وجود پر بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ جدید انسان نے کائنات کے بارے میں حیرت انگیز معلومات حاصل کرلی ہیں، مگر معلومات اور حکمت ایک چیز نہیں۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

انسان نے جب سے آنکھ کھولی ہے، اس کے سامنے دو بنیادی حقیقتیں موجود رہی ہیں: ایک وہ دنیا جسے وہ دیکھتا، چھوتا اور محسوس کرتا ہے، اور دوسری وہ حقیقت جسے وہ اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا مگر جس کے آثار ہر طرف پھیلے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے زندگی، موت، شعور، محبت، اخلاق اور کائنات کا حیرت انگیز نظم انسان کو مسلسل اس سوال کی طرف لے جاتے ہیں کہ آخر اس سب کے پیچھے کیا ہے؟ یہ سوال فلسفے کی کتابوں سے پہلے بھی انسان کے ذہن میں موجود تھا اور آج بھی موجود ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج انسان کے پاس معلومات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، مگر معلومات کی کثرت نے بنیادی سوال کو ختم نہیں کیا۔ بلکہ بعض حوالوں سے اسے اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔

خدا کے وجود پر گفتگو کرتے ہوئے ہم اکثر پیچیدہ فلسفیانہ اصطلاحات، دقیق منطقی استدلال اور علمی نظریات کا سہارا لیتے ہیں، حالاں کہ خدا تک پہنچنے کا پہلا راستہ شاید اتنا پیچیدہ نہیں جتنا ہم نے اسے بنا دیا ہے۔ انسان کے پاس ایک سادہ مگر غیر معمولی صلاحیت موجود ہے جسے عام زبان میں کامن سنس یا عام فہم عقل کہا جاتا ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے انسان روزمرہ زندگی میں ان گنت فیصلے کرتا ہے، بغیر کسی فلسفیانہ کتاب کا مطالعہ کیے۔ اگر یہی عام فہم عقل کائنات، زندگی اور اپنے وجود پر سنجیدگی سے غور کرے تو خدا کا سوال محض مذہبی دعویٰ نہیں رہتا، بلکہ ایک معقول اور فطری نتیجے کی صورت اختیار کرنے لگتا ہے۔

ہم روزمرہ زندگی میں ایک نہایت سادہ اصول تسلیم کرتے ہیں: جو چیز وجود میں آتی ہے، اس کے وجود کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ ایک گھر دیکھ کر ہم یہ نہیں کہتے کہ اینٹیں، ریت، سیمنٹ اور لوہا اتفاقاً جمع ہوگئے اور گھر بن گیا۔ ایک کتاب ملے تو ہم جانتے ہیں کہ اسے کسی نے لکھا ہے۔ موبائل فون کی پیچیدہ ساخت دیکھ کر ہم فوراً سمجھ لیتے ہیں کہ اس کے پیچھے ذہانت منصوبہ بندی اور انجینئرنگ موجود ہے۔ اگر کسی جنگل میں ہمیں زمین پر گھڑی پڑی ملے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ لاکھوں سال تک دھاتیں، پرزے اور قدرتی حرکات ایک دوسرے سے ٹکراتی رہیں اور بالآخر گھڑی بن گئی۔ اس کا ڈیزائن ہمیں ڈیزائنر کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

پھر سوال یہ ہے کہ جس کائنات میں ایک معمولی گھڑی سے کہیں زیادہ پیچیدہ نظام موجود ہے، اس کے بارے میں ہمارا رویہ اچانک کیوں بدل جاتا ہے؟ انسانی جسم کے اندر اربوں خلیے، پیچیدہ حیاتیاتی نظام، جینیاتی معلومات، دماغ میں نیورونز کا حیرت انگیز نیٹ ورک اور زندگی کو قائم رکھنے والے بے شمار مربوط نظام موجود ہیں۔ زمین سورج کے گرد ایک مخصوص نظام کے تحت گردش کرتی ہے، چاند زمین کے گرد حرکت کرتا ہے، کششِ ثقل سے لے کر روشنی اور مادے کے بنیادی قوانین تک ہر جگہ ایک قابلِ فہم نظم دکھائی دیتا ہے۔ کامن سنس کا تقاضا ہے کہ جہاں غیر معمولی نظم نظر آئے وہاں اس نظم کے پس پردہ کسی بنیادی سبب کے امکان پر بھی غور کیا جائے۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ خدا پر ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سائنسی سوال کا جواب "خدا" کہہ کر تحقیق ختم کردی جائے۔ سائنس یہ بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں؛ خدا کا سوال اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ پوچھتا ہے کہ آخر کچھ ہے ہی کیوں؟ کائنات کے قوانین کیسے کام کرتے ہیں، یہ سائنس کا میدان ہے؛ لیکن قوانین کا وجود ہی کیوں ہے، اس سوال کو محض سائنسی فارمولے سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح کائنات کے ابتدائی مراحل کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے، مگر یہ بنیادی سوال اپنی جگہ رہتا ہے کہ وجود کی آخری بنیاد کیا ہے۔

کامن سنس ہمیں ایک اور نہایت اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے: کائنات خود اپنی وضاحت نہیں ہوسکتی اگر ہم اس کے وجود کی آخری وجہ تلاش کر رہے ہوں۔ اگر ہر چیز کے وجود کی وجہ اس سے پہلے موجود کسی دوسری چیز کو قرار دیا جائے تو سوال مسلسل پیچھے جاتا رہے گا۔ ایک مقام پر ہمیں ایسی حقیقت کا تصور کرنا پڑے گا جو خود کسی دوسری مادی چیز کی محتاج نہ ہو، بلکہ دوسری تمام چیزوں کے وجود کی بنیاد ہو۔ مذہبی زبان میں اسی بنیادی، غیر محتاج حقیقت کو خدا کہا جاتا ہے۔

لیکن خدا تک پہنچنے کا راستہ صرف کائنات کے بیرونی مشاہدے سے نہیں گزرتا؛ انسان اپنے اندر بھی اس راستے کے آثار دیکھ سکتا ہے۔ انسان صرف گوشت، ہڈیوں اور خون کا مجموعہ نہیں۔ اس کے اندر شعور ہے۔ وہ اپنے وجود پر سوال اٹھاتا ہے، اپنے ماضی کو یاد کرتا ہے، مستقبل کا تصور کرتا ہے، خوب صورتی کو محسوس کرتا ہے، انصاف اور ناانصافی میں فرق کرتا ہے اور اپنے ہی اعمال پر اخلاقی فیصلہ صادر کرتا ہے۔ ایک مشین معلومات کو پروسیس کرسکتی ہے، لیکن انسانی تجربے میں شعور، ارادہ، معنی اور اخلاق کا سوال کہیں زیادہ گہرا ہے۔

اخلاقیات بھی خدا کے سوال کو اہم بناتی ہیں۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں اخلاقی اصولوں کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں، مگر تقریباً ہر معاشرہ کسی نہ کسی درجے میں ظلم، خیانت، دھوکے اور بے گناہ کو نقصان پہنچانے کو برا سمجھتا ہے، جبکہ انصاف، سچائی، وفاداری اور رحم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کائنات صرف بے شعور مادے اور طبیعی قوانین کا مجموعہ ہے تو پھر "اچھا" اور "برا" محض ہماری پسند اور ناپسند سے زیادہ کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ اگر اخلاق صرف طاقتور اکثریت کا بنایا ہوا ضابطہ ہے تو پھر کسی ظالم اکثریت کے خلاف اخلاقی مزاحمت کو ہم درست کیوں سمجھتے ہیں؟ خدا کا تصور اخلاقی حقیقت کو ایک ایسی بنیاد فراہم کرتا ہے جو انسانی خواہشات اور اجتماعی مفادات سے بلند ہے۔

یہاں انسان کی اپنی زندگی بھی ایک دلیل بن جاتی ہے۔ جب کوئی شخص شدید بحران میں مبتلا ہوتا ہے اور اسے دنیا کی تمام ظاہری طاقتیں بے بس دکھائی دیتی ہیں تو اس کے اندر ایک ایسی امید پیدا ہوتی ہے جو مادی اسباب سے بڑی محسوس ہوتی ہے۔ یہ محض جذباتی کیفیت نہیں؛ انسانی تاریخ میں دعا عبادت اور کسی اعلیٰ ہستی سے تعلق کا رجحان تقریباً ہر تہذیب میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر مذہبی دعویٰ خود بخود درست ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کا تصور انسانی شعور کے لیے کوئی اجنبی خیال نہیں۔

اصل مسئلہ شاید خدا کی موجودگی سے زیادہ انسان کی اپنی ترجیحات کا ہے۔ انسان بعض اوقات اس لیے خدا کو نہیں ماننا چاہتا کہ اگر خدا کو مان لیا تو اسے اپنے اعمال، اپنی خواہشات اور اپنی زندگی کے مقصد کے بارے میں بھی جواب دینا پڑے گا۔ خدا کا وجود صرف ایک نظریاتی مسئلہ نہیں؛ اس کے اخلاقی نتائج بھی ہیں۔ اگر انسان مان لے کہ وہ ایک با مقصد کائنات میں موجود ہے اور اس کے اعمال بے معنی نہیں تو پھر زندگی کو صرف خواہش دولت، طاقت اور لذت کے پیمانے سے ناپنا مشکل ہوجاتا ہے۔

یہاں دین کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ کامن سنس انسان کو خدا کے وجود کے امکان اور ضرورت تک پہنچا سکتی ہے، مگر خدا نے انسان سے کیا چاہا، زندگی کا مقصد کیا ہے، موت کے بعد کیا ہوگا اور انسان کو کس اخلاقی راستے پر چلنا چاہیے، ان سوالات کے لیے وحی اور نبوت کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ عقل راستہ تلاش کرسکتی ہے، مگر وحی منزل کی واضح سمت بتاتی ہے۔ عقل چراغ ہے، وحی راستہ دکھانے والا نقشہ۔ دونوں کو ایک دوسرے کا دشمن سمجھنا انسانی فکر کی بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے۔

اسلام کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ ایمان کو اندھی تقلید کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ انسان کو کائنات، اپنے نفس، تاریخ اور زندگی کی حقیقت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام میں خدا کوئی محدود قومی، نسلی یا جغرافیائی تصور نہیں بلکہ پوری کائنات کا خالق اور انسان کا رب ہے۔ اسی لیے توحید کا تصور محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں رہتا بلکہ پوری حقیقتِ وجود کو ایک مرکز فراہم کرتا ہے: کائنات ایک ہے، اس کا نظم ایک ہے انسانیت کی بنیادی ساخت ایک ہے اور اس سب کا خالق بھی ایک ہے۔

آج کے دور میں خدا کے وجود پر بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ جدید انسان نے کائنات کے بارے میں حیرت انگیز معلومات حاصل کرلی ہیں، مگر معلومات اور حکمت ایک چیز نہیں۔ ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ستارے کیسے بنتے ہیں، دماغ کے کون سے حصے کس کام میں فعال ہوتے ہیں اور جینیاتی نظام کس طرح کام کرتا ہے، مگر اس سے یہ سوال خود بخود حل نہیں ہوتا کہ انسان کو اپنی زندگی کس مقصد کے لیے گزارنی چاہیے۔ ٹیکنالوجی نے ہمارے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، مگر زندگی کا مقصد متعین نہیں کیا۔ ترقی نے سفر تیز کردیا ہے، مگر منزل کا تعین نہیں کیا۔

شاید اسی لیے خدا تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلے کسی پیچیدہ فلسفے کی نہیں بلکہ ایک دیانت دار ذہن کی ضرورت ہے۔ انسان اپنے تعصبات کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھ کر صرف اتنا سوچے کہ یہ کائنات کیوں ہے، اس میں نظم کیوں ہے، زندگی کیسے وجود میں آئی، شعور کیوں پیدا ہوا،اخلاقی احساس کہاں سے آیا اور خود انسان کے اندر معنی کی تلاش کیوں موجود ہے؟ اگر وہ ان سوالات سے فرار اختیار کرنے کے بجائے ان کا سامنا کرے تو کامن سنس اسے کم از کم اتنا ضرور بتا دے گی کہ کائنات محض ایک بے معنی حادثہ مان لینے سے سوال ختم نہیں ہوتا۔

خدا تک پہنچنے کا راستہ شاید آسمان سے اترنے والی کسی غیر معمولی علامت سے زیادہ قریب ہمارے اپنے اندر ہے۔ ایک بچہ جب پوچھتا ہے کہ یہ دنیا کس نے بنائی، ایک سائنس دان جب کائنات کے قوانین کے حیرت انگیز نظم پر غور کرتا ہے، ایک فلسفی جب وجود کی آخری وجہ تلاش کرتا ہے اور ایک عام انسان جب خاموشی میں اپنے دل سے پوچھتا ہے کہ "میں یہاں کیوں ہوں؟" تو یہ سب دراصل ایک ہی دروازے کے قریب پہنچ رہے ہوتے ہیں۔

کامن سنس کا کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو ہر سوال کا فوری جواب نہیں دیتی؛ وہ اسے صحیح سوال تک پہنچاتی ہے۔ اور شاید خدا تک پہنچنے کا سفر بھی یہی ہے۔ جب انسان کائنات کو صرف چیزوں کا مجموعہ سمجھنے کے بجائے ایک معنی خیز حقیقت کے طور پر دیکھنا شروع کرتا ہے، جب وہ اپنے وجود کو محض اتفاق نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھنے لگتا ہے، جب عقل غرور کے بجائے حقیقت کی تلاش کا ذریعہ بن جاتی ہے، تب خدا کا تصور دور آسمانوں کی کوئی اجنبی حقیقت نہیں رہتا۔ وہ اس سوال کا منطقی انجام بننے لگتا ہے جس سے انسانی شعور کبھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوسکا: وجود کی اس پوری کہانی کے پیچھے آخر کون ہے؟

شاید خدا تک پہنچنے کے لیے انسان کو سب سے پہلے اپنی عقل پر نہیں اپنی عقل کے دیے ہوئے اس سادہ اصول پر اعتماد کرنا ہوگا کہ جہاں اثر ہے وہاں سبب ہے، جہاں نظم ہے وہاں نظم دینے والا ہے، جہاں معنی کی پیاس ہے وہاں معنی کی تلاش بے مقصد نہیں، اور جہاں انسان اپنے وجود کی آخری وجہ پوچھنے پر مجبور ہے، وہاں اس سوال کو خاموش کرا دینا جواب نہیں۔ کبھی کبھی خدا تک پہنچنے کا سب سے سیدھا راستہ یہی عام سی سمجھ بوجھ ہوتی ہے، جسے ہم روزمرہ زندگی میں کامن سنس کہتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔