آئی اے این ایس
نیپال اور چین کی سرحدی پٹی پر گلیشیئر گرنے سے آنے والے خوفناک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں چٹانوں اور برف کے تودے گرنے سے دریاؤں کی سطح میں اچانک کئی میٹر اضافہ ہوا، جس نے بستیاں اور تجارتی راستے ملیا میٹ کر دیے۔ امریکی حکومت نے اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امداد بڑھا کر 36 لاکھ ڈالر کر دی ہے، جبکہ ہندوستان اور چین کی ماہر ٹیمیں بچاؤ کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ماہرین اس آفت کو موسمیاتی تبدیلیوں اور گلیشیائی ماحول میں ہونے والی خطرناک تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ دریاؤں کے قریبی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نے جانی و مالی نقصان کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب بھی کئی علاقے کٹ کر رہ گئے ہیں اور امدادی کارکن کیچڑ تلے دبے مزید متاثرین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں کا اس طرح اچانک زمین بوس ہونا کسی لرزہ خیز خواب سے کم نہ تھا۔ بدھ 26 اگست کی صبح جب دنیا ابھی بیدار ہو رہی تھی، نیپال اور چین کی سرحد پر واقع گلیشیئرز کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے آ گرا۔ یہ محض ایک معمولی زمینی سلائیڈنگ نہیں تھی بلکہ ایک ایسا جغرافیائی المیہ تھا جس نے چند ہی منٹوں میں رسوا، نوواکوٹ اور دھادنگ جیسے اضلاع کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ ملبے کے ڈھیر میں دبی ایک بچی کی ڈرامائی زندگی بچانے کی ویڈیو اور چینی سرحد پر کیچڑ میں پڑا ایک بچے کا کھلونا (خرگوش) اس انسانی المیے کی وہ تصاویر ہیں جو لفظوں سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔
اس تباہی کے اعداد و شمار دل دہلا دینے والے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 670 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد، جن میں امریکی اور دیگر غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، تاحال لاپتہ ہیں۔ نیپال اور چین کی سرحد پر ملبے کے ڈھیر اور کیچڑ میں دبی بستیاں اس المیے کی شدت کی گواہی دے رہی ہیں جہاں بچ جانے والے اب اپنے پیاروں اور بکھرے ہوئے سامان کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کس طرح پہاڑی علاقوں میں انسانی تحفظ کے تمام پرانے اصولوں کو مٹا کر نئے خطرات رقم کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حادثہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ زمین کی ’برفانی ساخت‘ کے کمزور ہونے کا واضح اعلان ہے۔ مندرجہ ذیل اہم نکات اس تباہی کو ماضی کے سیلابوں سے بالکل مختلف ثابت کرتے ہیں۔
اس آفت کی سب سے حیران کن سائنسی حقیقت یہ تھی کہ دنیا بھر کے زلزلہ پیما آلات نے 5.2 شدت کے جھٹکے ریکارڈ کیے۔ ابتدائی طور پر اسے ایک روایتی زلزلہ سمجھا گیا، لیکن امریکی جیولوجیکل سروے کی حتمی تحقیق نے ہوش ربا انکشاف کیا کہ یہ لرزہ زمین کی تہوں کی حرکت سے نہیں بلکہ پہاڑ کے ایک بہت بڑے حصے کے گرنے سے پیدا ہوا تھا۔
ہمالیہ کی 5200 میٹر کی بلندی پر واقع گلیشیئر کے نیچے موجود بنیادی چٹان (بیڈراک) اپنی ساخت برقرار نہ رکھ سکی، جس کے نتیجے میں برف اور چٹانوں کا ایک ضخیم حصہ تقریباً 1200 میٹر نیچے وادی میں گرا۔ اس گراؤنڈ فالٹ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے ایک طاقتور زلزلے جیسی لہریں پیدا کیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ گرنے والے ملبے کی کمیت اور رفتار کس قدر غیر معمولی تھی۔
عام طور پر ہمالیہ میں سیلاب اس وقت آتے ہیں جب گلیشیائی جھیلیں دھیرے دھیرے بھر کر پھٹتی ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ کی یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ موسمیات ڈاکٹر چھاپاگین کے مطابق، اس بار قدرت نے اپنا روایتی اسکرپٹ ہی تبدیل کر دیا۔ اس تباہی کی سب سے ہولناک علامت یہ تھی کہ ترشولی دریا کی سطح محض 30 منٹ کے اندر 9 میٹر تک بلند ہو گئی، جس نے نیچے بستیوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اس تباہی میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کا درمیانی مرحلہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ پہاڑ کا حصہ براہِ راست ’لیندے دریا‘ میں گرا، جس نے فوری طور پر پانی کو ایک سونامی کی شکل دے دی۔
سائنسدانوں کے لیے یہ صورتحال ایک بھیانک چیلنج ہے کیونکہ گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی تو ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہے، لیکن بلندیوں پر موجود "بنیادی چٹانوں" کی اندرونی کمزوری کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہے، جو ایسی آفات کی پیشگوئی کو ناممکن بنا دیتا ہے۔
ماضی میں نیپال کے لوگ اپنے گھر پہاڑوں کی محفوظ ڈھلوانوں پر بناتے تھے، لیکن اب ایک "خطرناک تصادم" جنم لے رہا ہے۔ ڈاکٹر چھاپاگین کے مطابق، یہ تبدیلی محض شوق نہیں بلکہ ایک "جبری منتقلی" ہے، کیونکہ پہاڑوں کی بلندیوں پر پانی کے روایتی چشمے خشک ہو رہے ہیں، جو لوگوں کو نیچے وادیوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
انسانی آبادیوں کا رخ اب دریا کی وادیوں کی طرف ہونے کی وجوہات میں سڑکوں کی تعمیر اہم ہے۔ تجارتی شاہراہوں اور اقتصادی مراکز کی وجہ سے بستیاں دریاؤں کے ساتھ ساتھ بسائی جا رہی ہیں۔ پن بجلی کے منصوبےجیسے بھوٹے کوشی اور ترشولی کی راہداری میں واقع ہائیڈرو پاور پلانٹس نے بڑی سرمایہ کاری اور لیبر کو براہِ راست خطرے کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بلندیوں پر پانی کے ذرائع کا خشک ہونا لوگوں کو دریا کے قریب جانے پر مجبور کر رہا ہے۔
امریکہ نے صورتحال کی نزاکت دیکھتے ہوئے محض اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اپنی انسانی ہمدردی کی امداد کو 5 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 36 لاکھ ڈالر کر دیا ہے۔یہ فنڈز 10 ہزار متاثرہ خاندانوں کو تین ماہ تک ہنگامی خوراک اور زندگی بچانے والی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وقف کیے گئے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا، "امریکہ نیپال کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور 36 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی زندگی بچانے والی انسانی امداد فراہم کر رہا ہے۔
تباہی کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ پہاڑ گرنے والے مقام پر ملبے نے دریا کا راستہ روک کر ایک نئی اور انتہائی غیر مستحکم جھیل بنا دی ہے۔ ماہرِ ارضیات آلٹن بائرز نے خبردار کیا ہے کہ اس جھیل کو روکنے والا بند صرف کچے ملبے سے بنا ہے جس کا کوئی ٹھوس سہارا نہیں ہے۔
اس بحران کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیرِ اعظم لی چیانگ نے خود اس آپریشن کی نگرانی سنبھالی ہے اور امدادی ٹیموں کو سائنسی بنیادوں پر مانیٹرنگ کا حکم دیا ہے۔ نیپال نے صورتحال کی نزاکت کے پیشِ نظر ہندوستان اور چین سے خصوصی "ٹنل ریسکیو ٹیموں" کی درخواست بھی کی ہے۔
یہ سیلاب صرف نیپال کا المیہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان 2.1 ارب انسانوں کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے جو ہندو کش ہمالیہ کے دریاؤں پر اپنی زندگیوں کا انحصار کرتے ہیں۔ جب دنیا کا یہ "پہاڑوں کا برفانی ڈھانچہ" کمزور ہو کر ٹوٹنے لگے، تو یہ پورے خطے کی آبی اور غذائی سلامتی کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب صدیوں سے منجمد رہنے والے پہاڑ اپنی جگہ چھوڑنے لگیں، تو انسانیت کو ان بدلتے ہوئے جغرافیائی حالات میں اپنی بقا کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔