
قومی پرچم، تصویر آئی اے این اایس
اس سال ہمارا قومی پرچم اپنے سر کو بلند رکھ سکتا ہے، حالانکہ بلاشبہ یہ ترنگے کی بدقسمتی ہے کہ اس سال بھی لال قلعہ سے اسے لہرانے کی ذمہ داری اس انسان کو ملی ہے، جو اسے تھامنے کے بھی قابل نہیں۔ پھر بھی اس 15 اگست کو ترنگا زیادہ آزاد ہوا میں سانس لے پایا کیونکہ ملک کے نوجوانوں نے اسے اس کے حقیقی معنوں سے کسی حد تک جوڑ دیا ہے۔
15 اگست کو لال قلعہ پر ترنگا لہرائے جانے کا منظر مجھ جیسے ادھیڑ عمر انسان کو متاثر نہیں کرتا، جس نے کئی وزرائے اعظم اور صدور کو ترنگا لہراتے دیکھا ہے، جن میں سے کچھ تو قطعی اس کے قابل نہیں تھے۔ جو بات مجھے جذباتی کر دیتی ہے، وہ نوجوانوں کی وہ تصاویر ہیں جن میں ان کے ہاتھ میں ترنگا ہے اور ہونٹوں پر انصاف کا مطالبہ۔ ان لمحات میں ترنگا صرف قوم کے فخر کی علامت نہیں رہ جاتا۔ وہ آزادی کے جذبے، آزادی کی تڑپ، ناانصافی کے خلاف مزاحمت اور اپنی خود اعتمادی سے ظالم کی تشدد پسندی کا سامنا کرنے کی ہمت کی علامت بن جاتا ہے۔
ایسا نہیں کہ حالیہ برسوں میں یہ پہلی بار ہوا ہو۔ ہم نے 5 سال پہلے بھی دہلی کے دروازوں پر ڈیرہ ڈالے کسانوں کو دیکھا تھا۔ وہ ناانصافی پر مبنی زرعی قوانین کے خلاف لڑتے ہوئے پورے ایک سال تک ڈٹے رہے۔ 750 سے زیادہ لوگوں نے اس کے لیے جان دے دی، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے۔ شاہین باغ کی مسلم عورتوں نے بھی ہاتھ میں ترنگا اور آئین تھامے اپنی زمین بچائے رکھی، جب وہ ہندوستانی شہریت کی فرقہ وارانہ تحریف کی مخالفت کر رہی تھیں۔ حالانکہ وہ کسانوں اور طلبا جتنی خوش قسمت نہیں رہیں۔ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد اور کووڈ وبا نے ان کے اس متاثر کن اور یادگار احتجاج کا خاتمہ کر دیا۔ وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکیں، لیکن ان کا ظالم اقتدار کے سامنے کھڑا ہونا کمزوروں کی طاقتور للکار تھی۔ اس جدوجہد کے دوران ترنگا مسلسل ان کا ساتھی رہا۔
ہمارا ترنگا اپنی عظمت طاقت کی دھونس سے حاصل نہیں کرتا، نہ ہی اسے یہ اقتدار کے نظام سے ملتی ہے۔ اسے اپنی اخلاقی طاقت ان لوگوں سے ملتی ہے جو اقتدار کے نظام کی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہیں۔ ترنگا غیر مسلح لوگوں کی قوتِ ارادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ جواہر لال نہرو نے 1931 کے کانگریس اجلاس میں یہی کہا تھا: ’’قومی پرچم کو آزادی کی علامت سمجھیں، نہ کہ 3 رنگوں والے کپڑے کا ایک ٹکڑا۔ یہ کسی راجہ یا شہنشاہ کا پرچم نہیں، یہ ہندوستان کے کروڑوں لوگوں کی اتحاد اور طاقت کی نمائندگی کرتا ہے۔‘‘ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا: ’’میں ’یونین جیک مردہ باد‘ کے نعروں کی مذمت کرتا ہوں۔‘‘
جب ہندوستان کے لوگ انگریزوں کے خلاف لڑ رہے تھے، تب ایسا کہنے کے لیے اخلاقی وضاحت اور ہمت کی ضرورت تھی۔ نہرو اور ان کے ساتھیوں میں یہ کہنے کی ہمت تھی کہ ترنگا کسی دوسرے پرچم کو نیچا نہیں دکھاتا کہ یہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں زیب نہیں دیتا جو دوسروں سے نفرت کرتے ہیں، جو دوسروں کو خود سے کمتر سمجھتے ہیں۔
ترنگا آزادی کی ابدی تلاش کی علامت ہے۔ جو لوگ ’آزادی‘ کا مطالبہ کرنے والے نعرے سن کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں، انہیں نہرو کے ان الفاظ کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے، جو دستور ساز اسمبلی کی جانب سے ترنگے کو قبول کیے جانے کے وقت کہے گئے تھے۔ نہرو نے اسمبلی کو یاد دلایا تھا کہ اس لمحے کا جشن مناتے ہوئے بھی یہ نہ بھولنا اہم ہے کہ آزادی کا سفر مسلسل جاری ہے: ’’یہ بالکل مناسب اور فطری ہے کہ اس تاریخی لمحے میں ہم اپنی کامیابی اور آزادی کی اس علامت کو اپنا رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مجموعی طور پر اور پوری انسانیت کے لیے اس آزادی کا حقیقی مطلب کیا ہے؟ آزادی آخر ہے کیا، اس کے لیے جدوجہد کیا ہے، اور یہ سفر کہاں جا کر مکمل ہوتا ہے؟ جیسے ہی آپ ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں اور کوئی مقصد حاصل کرتے ہیں، تو آگے کے راستے آپ کے سامنے کھلتے جاتے ہیں۔ اس ملک میں یا پوری دنیا میں اس وقت تک مکمل آزادی نہیں آ سکتی، جب تک ایک بھی انسان محکوم ہے۔ جب تک اس ملک میں ایک بھی مرد، عورت یا بچے کے سامنے بھوک، مفلسی، لباس کی کمی، زندگی کی بنیادی ضروریات کا فقدان اور ترقی کے مواقع کی کمی رہے گی، تب تک آزادی کو کبھی مکمل نہیں مانا جا سکتا۔ (...) جب ہم لوگوں کی خوشی میں اضافہ کرتے ہیں، تو ہم کئی معنوں میں ان کا قد بڑھاتے ہیں، اور ہم اپنے مقصد کی طرف بڑھتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کوئی اختتام ہے یا نہیں، لیکن ہم ایک طرح کی تکمیل کی طرف بڑھتے ہیں...۔‘‘
اس فاتحانہ لمحے میں بھی نہرو اتنے منکسر المزاج رہے کہ یہ تسلیم کر سکیں کہ آزادی کو نوآبادیاتی اقتدار سے آزادی حاصل کرنے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ خود مختاری (اقتدار کی منتقلی) تو محض ایک واقعہ تھی، لیکن آزادی ایک مسلسل سفر تھا اور آج بھی ہے۔
اس سال یومِ آزادی کی شام، مجھے پی سائی ناتھ کے الفاظ یاد آتے ہیں، جنہوں نے آزادی کے مجاہدین کی آپ بیتی درج کرنے کے لیے ملک کے کونے کونے کا سفر کیا۔ ان میں سے ایک نے ان سے بڑی بے باکی سے کہا تھا کہ وہ خود مختاری اور آزادی کے لیے لڑے تھے۔ جو حاصل ہوا وہ خود مختاری تھی، لیکن آزادی کی جدوجہد تو اب بھی جاری ہے۔
ترنگا ان لوگوں کے ہاتھوں میں اچھا لگتا ہے جو اپنی خود مختاری کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی دوسروں پر حاوی نہیں ہونا چاہتے۔ غلبہ پسند رجحانات ہر قوم کی سطح کے نیچے سوئے رہتے ہیں، اور اس خطرے کے تئیں بیدار رہنا پڑتا ہے۔ نہرو اس ترغیب سے باخبر تھے: ’’...اچانک خود مختار ہونے والے ملک میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ پاؤں پھیلاتے ہوئے دوسروں پر حملہ کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ قوم پرستی کے سامراجی رجحان کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ لیکن وہ توسیع پسندانہ خواہش کسی قوم کے اندر، لوگوں کے اس گروہ کے اندر رہ سکتی ہے جو اپنی بھاری تعداد سے حوصلہ پا کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انہیں دوسرے گروہوں کو یہ بتانے کا حق ہے کہ انہیں کس طرح زندگی گزارنی چاہیے۔
نہرو کی تنبیہ بے بنیاد نہیں تھی۔ لکشدیپ کے جزیروں میں ترنگا اس وقت غلبے کی علامت بن جاتا ہے جب ہندوستانی افسران، یومِ آزادی پر اسے لہراتے ہوئے، مقامی لوگوں کے قائم شدہ طرزِ زندگی کو بدلنے کی خواہش بھی ظاہر کرتے ہیں۔ کشمیر میں ترنگا اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ وہاں کے باشندے اپنی مرضی کا استعمال نہیں کر سکتے۔ جب مدارس کو ترنگا لہرانے کے ساتھ ’وندے ماترم‘ گانے کا حکم دیا جاتا ہے، تو یہ جبر کی علامت بن جاتا ہے۔
بیرونی نوآبادیات کو پہچاننا آسان ہے، لیکن داخلی نوآبادیات قوم پرستی کے تانے بانے میں آتی ہے۔ بستر کے قبائلیوں، انڈمان نکوبار کے باشندوں یا ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ ان کی خود مختاری چھین لیے جانے کے مترادف ہے... جہاں اپنی پسند سے زندگی گزارنے کی گنجائش مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ ترنگے کی اس سے بڑی توہین اور کیا ہوگی کہ پولیس کے جوان ایک مسلمان کو قومی ترانہ گانے پر مجبور کرتے ہوئے وحشیانہ طور پر پیٹیں؟ اس منظر کو دیکھ کر گاندھی کی روح کانپ اٹھی ہوتی۔ یہ گاندھی ہی تھے جنہوں نے صاف کہا تھا– گیتا مجھے جان سے بھی زیادہ عزیز ہے، لیکن اگر کوئی میری کنپٹی پر پستول تان کر مجھے اس کا پاٹھ کرنے پر مجبور کرے گا، تو میں صاف انکار کر دوں گا۔
جب ہم نے اس سال ترنگا لہرایا، تو کیا ہم نے یہ تسلیم کیا کہ ہم، ایک قوم کے طور پر، آزادی کے اس جذبے کا احترام کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں رہے ہیں جس کی یہ نمائندگی کرتا ہے؟
(اپوروانند مصنف اور ماہر تعلیم ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔