
مصنوعی ذہانت / Getty Images
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور اس کے عالمی اثرات کا ایک جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ جہاں یہ ٹیکنالوجی طبی تحقیق، تعلیم اور زراعت میں انقلاب برپا کر رہی ہے، وہیں یہ غلط معلومات کے پھیلاؤ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عالمی عدم مساوات جیسے سنگین خطرات بھی پیدا کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی پر اختیار چند ممالک تک محدود ہے، جو ترقی پذیر ممالک کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ قوانین اس برق رفتار ترقی کو کنٹرول کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ لہٰذا، ایک ایسے بین الاقوامی فریم ورک کی ضرورت ہے جو اس ٹیکنالوجی کے محفوظ، شفاف اور انسانیت کے لیے فائدہ مند استعمال کو یقینی بنا سکے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) آج محض ایک سائنسی تخیل نہیں بلکہ ہماری تہذیب کے ہر شعبے میں سرایت کر جانے والی ایک برق رفتار حقیقت بن چکی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی نے جہاں انسانی صلاحیتوں کو نئے افق بخشے ہیں، وہاں ایک سنگین اخلاقی اور انتظامی بحران بھی پیدا کر دیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس ’بے لگام گھوڑے‘ کی رفتار اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے بنائے جانے والے ضوابط سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ اقوام متحدہ جیسے معتبر اداروں کی حالیہ رپورٹس ایک خطرناک خلا کی نشاندہی کر رہی ہیں: ہم ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کی تعمیر کر رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی تو جدید ہے لیکن اس کی لگامیں اب بھی مفقود ہیں۔ کیا ہم واقعی اس ٹیکنالوجی کے معمار ہیں، یا ہم ایک ایسی تجربہ گاہ کا حصہ بن چکے ہیں جس کے نتائج سے ہم خود بے خبر ہیں؟
مصنوعی ذہانت کی موجودہ لہر کو ماہرین ایک ایسی "غیر آزمودہ دوا" سے تشبیہ دے رہے ہیں جسے طبی آزمائش (کلینکل ٹرائیل) کے بغیر ہی کروڑوں انسانوں کو دے دیا گیا ہو۔ پالیسی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس وقت دنیا کو "شواہد کے مخمصے"کا سامنا ہے؛ یعنی جب تک کسی ٹیکنالوجی کے نقصانات کے ٹھوس سائنسی شواہد سامنے آتے ہیں، ٹیکنالوجی اتنی آگے نکل چکی ہوتی ہے کہ روایتی قانون سازی کے دور اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک خطرناک ’پالیسی ویکیوم‘ پیدا کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس اخلاقی بحران پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے:"کسی بچے کو غیر منظم مصنوعی ذہانت کی تجربہ گاہ نہیں بننا چاہیے۔ جب کسی بچے کو نقصان پہنچے تو جواب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایسا الگورتھم کے سبب ہوا۔"
مصنوعی ذہانت اب صرف سوالوں کے جواب دینے والے سادہ چیٹ بوٹس تک محدود نہیں رہی۔ اب ہم "خود مختار ایجنٹس"کے دور میں داخل ہو چکے ہیں، جو نہ صرف ڈیجیٹل آلات استعمال کر سکتے ہیں بلکہ انسانی مداخلت کے بغیر پیچیدہ منصوبہ بندی اور سافٹ ویئر لکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ جہاں اس ٹیکنالوجی نے سائنسی میدان میں 20 کروڑ پروٹینز کی ساخت کی پیش گوئی کر کے ادویات سازی میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں اس کی خود مختاری ایک نیا چیلنج ہے۔ ماہرین کے مطابق اے آئی سسٹمز کی پیچیدہ کام کرنے کی صلاحیت ہر چند ماہ بعد دوگنا ہو رہی ہے، جو انسانی نگرانی (ہیومن اوورسائٹ) کے تصور کو کمزور کر رہی ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے وسائل کی تقسیم ایک سنگین "ساختیاتی عدم مساوات"(اسٹرکچرل اِن اِکوالٹی) کو جنم دے رہی ہے۔ اس وقت دنیا کی کل کمپیوٹنگ پاور کا بڑا حصہ صرف دو ممالک کے پاس مرکوز ہے، جو عالمی ڈیجیٹل تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ کمپیوٹنگ پاور کی عالمی حصہ داری پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ 75 فیصد امریکہ اور 15 فیصد چین کے بعد باقی دنیا کے پاس محض 10 فیصد صلاحیت موجود ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک صرف اس ٹیکنالوجی کے صارف (کنزیومر) بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ ایسے ماڈلز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں جنہیں وہ نہ تو خود جانچ سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی مقامی زبانوں اور معاشرتی اقدار کے مطابق ڈھال (لوکلائز) سکتے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر ایک نئی قسم کی ڈیجیٹل محکومی کو جنم دے رہی ہے۔
آن لائن پلیٹ فارمز پر نوجوانوں اور بچوں کو درپیش خطرات، جیسے کہ ڈیپ فیکس اور ہراسانی، محض تکنیکی خرابیاں یا ’اتفاقی‘ نہیں ہیں۔ یہ دراصل ان مخصوص کاروباری ماڈلز کا منطقی نتیجہ ہیں جو "توجہ کی معیشت" (اٹینشن اکانومی) پر مبنی ہیں۔ یہ الگورتھم صارفین کی توجہ کو قید کر کے منافع کمانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، جہاں اکثر اوقات "اطلاعاتی دیانت"اور انسانی حقوق کو کاروباری مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ جب ٹیکنالوجی کا ڈیزائن نوجوانوں کی ذہنی صحت اور حقوق کے بجائے صرف ’انگیجمنٹ‘ کو ترجیح دیتا ہے، تو معاشرتی بگاڑ ایک ناگزیر حقیقت بن جاتا ہے۔
ڈیجیٹل پالیسی ماہرین کے مطابق، ہمیں اس ٹیکنالوجی کے ایک بڑے تضاد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں مصنوعی ذہانت ماحولیاتی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو رہی ہے، وہیں یہ خود کرہ ارض پر ایک بوجھ بن رہی ہے۔ اے آئی کے وسیع ڈیٹا سینٹرز توانائی کی اتنی بڑی مقدار استعمال کرتے ہیں کہ ان سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) میں اضافے کا براہِ راست سبب بن رہی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم جس ’ذہین مستقبل‘ کی تعمیر کر رہے ہیں، اس کی قیمت ہمارا ماحول چکا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت بلا شبہ انسانیت کے لیے ایک عظیم موقع ہے، لیکن اس کے فوائد کو چند ہاتھوں میں مرکوز ہونے اور اس کے نقصانات کو بے لگام ہونے سے روکنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے تحت قائم کردہ آزاد سائنسی پینل کی سفارشات اور عالمی معیار کی تشکیل ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اس عالمی مکالمے کا باقاعدہ آغاز 6 جولائی 2026 کو جنیوا میں ہوا ، جہاں رکن ممالک اس ٹیکنالوجی کی ضابطہ بندی کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے۔ آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگاکہ کیسے ہم ٹیکنالوجی کو انسانی اقدار اور اخلاقیات کے تابع کر یں ، ورنہ ہم ترقی کے اس جنون میں اپنی انسانی شناخت اور کنٹرول، دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔