فکر و خیالات

تمل ناڈو میں کمل کھلنے سے قبل ہی کیچڑ خشک ہو گیا...ہیل انجم

تمل ناڈو میں بی جے پی کے سابق ریاستی صدر اناملائی کے استعفے اور نئی تحریک کے آغاز نے ہلچل پیدا کر دی ہے۔ مضمون میں ان کے مستقبل، بی جے پی کے امکانات اور ممکنہ سیاسی حکمت عملی پر بحث کی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>اناملائی کے پوسٹر / آئی اے این ایس</p></div>

اناملائی کے پوسٹر / آئی اے این ایس

 

بی جے پی چاہتی ہے کہ جس طرح تقریباً پورا ملک اس کے زیر نگیں آ چکا ہے اسی طرح جنوبی ہند کی ریاستیں بھی اس کے کنٹرول میں آ جائیں۔ اس کے لیے وہ مختلف حربے اختیار کرتی رہی ہے۔ لیکن ان ریاستوں میں اس کا ایک بھی حربہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ حالانکہ اس کی کوششیں اس حد تک رنگ لے آئی ہیں کہ وہاں بھی اس کے کارکن بن گئے ہیں۔ لیکن ابھی وہ اس خطے پر قبضہ جمانے میں ناکام ہے۔ جنوبی ہند کی ایک ریاست تمل ناڈو بھی ہے جہاں حالیہ اسمبلی انتخابات میں اس نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کیا تھا تاکہ اس کے دوش پر سوار ہو کر ایوان اقتدار تک پہنچ جائے۔ لیکن اس کی یہ کوشش بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ اب وہاں اس کو ایک شدید دھچکہ لگا ہے۔ اس کے سابق ریاستی صدر کے اناملائی نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

Published: undefined

تمل ناڈو نے اسمبلی انتخابات میں ایک تاریخ رقم کی ہے۔ اب لگتا ہے وہ ایک اور تاریخ رقم کرنے کے جا رہا ہے۔ انتخابات میں جو تاریخ رقم ہوئی ہے اس کے ہیرو ہیں فلمی دنیا کے ہیرو تھلاپتی وجے اور اب جو تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے اس کے ہیرو بن سکتے ہیں سابق آئی پی ایس افسر کے انا ملائی۔ انھوں نے بی جے پی سے استعفیٰ دینے کے بعد ایک عوامی تحریک ”وی دی لیڈر“ کا آغاز کیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس تحریک کے شروع ہونے کے چوبیس گھنٹے کے اندر ہی 14 لاکھ سے زائد افراد اس سے منسلک ہو گئے ہیں۔ کے انا ملائی نے 2011 میں سول سروس کا امتحان پاس کیا تھا اور آئی پی ایس بنے تھے۔ انھوں نے اس عہدے پر رہتے ہوئے کچھ ایسے کارنامے انجام دیے کہ ان کو ”سنگھم“ کا خطاب دیا گیا۔ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے متاثر ہوئے اور پھر ملازمت ترک کرکے سیاسی میدان میں کود پڑے۔ انھوں نے بی جے پی جوائن کر لی۔ انھیں پہلے ریاستی نائب صدر اور پھر صدر مقرر کیا گیا۔ وہ ایک جوجھارو سیاست داں کے طور پر دیکھے گئے۔ انھوں نے اپنی سرگرمیوں سے ریاست میں بی جے پی کو اتنا مضبوط کر دیا کہ اس کا وجود محسوس کیا جانے لگا۔

Published: undefined

لیکن بعض امور پر بی جے پی اعلیٰ کمان اور ان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ بی جے پی نے تمل ناڈو میں بھی ہندوتوا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اس نے وہاں کے عوام پر ہندی تھوپنے کی بھی سعی کی۔ ریاست میں ان دونوں باتوں کے لیے بی جے پی کی شدید مخالفت کی جانے لگی۔ حکمراں جماعت ڈی ایم کے نے ہندی تھوپنے کی وزیر داخلہ امت شاہ کی کوششوں پر شدید تنقید کی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انا ملائی بھی ان پالیسیوں سے خوش نہیں تھے۔ ان کا یہ بیان کہ میں ادھر کچھ دنوں سے خود سے یہ سوال پوچھنے لگا تھا کہ میں بی جے پی لیڈر ہوں یا تمل ہوں۔ میرے دل نے کہا کہ میں پہلے تمل ہوں اور پھر ایک قوم پرست ہندوستانی بھی ہوں۔ یعنی وہ بھی تمل ناڈو کے تشخص کی بقا کے حق میں ہیں اور اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بی جے پی کی ہندوتوا کی پالیسی کے مخالف ہیں۔ ان کے مطابق انھوں نے بی جے پی اس لیے جوائن کی تھی تاکہ صاف ستھری سیاست کی جا سکے۔ لیکن شاید ان کو اس کا کوئی امکان نظر نہیں آیا لہٰذا انھوں نے بی جے پی سے ناطہ توڑ لیا۔

Published: undefined

بہرحال ان کی کوششوں سے ریاست میں بی جے پی کو قدم جمانے کا موقع مل رہا تھا۔ 2022کے شہری بلدیاتی انتخابات ان کی قیادت میں لڑے گئے۔ بی جے پی چنئی کے بیس وارڈوں میں دوسری پوزیشن پر رہی۔ نتائج آنے کے بعد بی جے پی کے لیڈر کہنے لگے تھے کہ پارٹی ریاست میں کافی مضبوط ہو رہی ہے۔ ان انتخابی نتائج نے بی جے پی میں خوداعتمادی پیدا کر دی۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اس کو گیارہ فیصد ووٹ ملے۔ لیکن وہ ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔ اب جبکہ اناملائی نے استعفیٰ دے دیا ہے تو آنے والے بلدیاتی انتخابات میں ان کے حامیوں کا الیکشن لڑنے کا قوی امکان ہے۔

اناملائی کے استعفیٰ کے بعد متعدد بی جے پی لیڈران دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس سے پارٹی کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس منظرنامہ پیش کر رہے ہیں۔ ایسی خبریں ہیں کہ بڑی تعداد میں ان کے حامی بی جے پی چھوڑ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے اس کااثر بی جے پی پر تو پڑنا ہی ہے۔ بی جے پی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے کسی عوامی تحریک کی یعنی اناملائی کی تحریک کی حمایت نہیں کی ہے۔ یہ بیان چغلی کھا رہا ہے کہ ان کے جانے سے بی جے پی یقیناً پریشان ہے۔ وہ پہلے سے ہی استعفیٰ دینا چاہ رہے تھے۔ انھوں نے دسمبر 2025 ہی میں پارٹی اعلیٰ کمان سے کہہ دیا تھا کہ وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن یہ کہہ کر ان کو روکا گیا کہ اس سے بی جے پی کے انتخابی امکانات پر اثر پڑے گا اس لیے وہ انتخابات تک رک جائیں۔

Published: undefined

ابھی تک اناملائی نے کوئی سیاسی پارٹی نہیں بنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک تحریک شروع کی ہے جس کا مقصد صاف ستھرا سماج قائم کرنا ہے لیکن اگر عوامی دباؤ پڑا تو وہ اپنی تحریک کو سیاسی پارٹی میں بھی بدل سکتے ہیں۔ بہرحال جہاں ایک طبقہ ان کے اس قدم کی ستائش کر رہا ہے وہیں ایک دوسرا طبقہ شکوک وشبہات میں مبتلا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اگر وہ اپنی تحریک کو سیاسی روپ دیتے ہیں تو کوئی ضروری نہیں کہ وہ سیاست میں بھی کامیاب ہو جائیں۔ تحریکیں اٹھتی ہیں، ان کو عوامی حمایت ملتی ہے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ دم توڑ دیتی ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ کانگریس کی حمایت سے ریاست میں چلنے والی وجے کی ٹی وی کے حکومت اگر اچھا کام کرے گی تو عوام کسی اور پارٹی کو کیوں موقع دیں گے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ڈی ایم کے رہنما کے کروناندھی اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی رہنما جے للتا نے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ہی طویل عرصے تک ریاست میں حکومت کی۔ لہٰذا اگر تھلاپتی وجے عوامی توقعات پر کھرے اترتے ہیں تو رائے دہندگان کسی دوسری پارٹی کو کیوں موقع دیں گے۔

Published: undefined

البتہ یہ بات شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے کہ اناملائی نے استعفیٰ دیتے وقت بی جے پی رہنماؤں سے کیوں اجازت طلب کی۔ انھوں نے صدر نتن نبین اور دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ انھوں نے ان کے آشیرواد سے استعفیٰ دیا۔ اگر وہ بی جے پی کی پالیسی سے خوش نہیں تھے اور تمل ناڈو کے تشخص کا دفاع چاہتے تھے تو پارٹی سے نکل جاتے۔ استعفیٰ منظور ہو یا نہ ہو۔ جانے کتنے سیاست داں پارٹی چھوڑتے ہیں اور استعفیٰ نامہ بھی نہیں دیتے ہیں۔ انھوں نے استعفیٰ دیتے وقت بی جے پی رہنماؤں سے اتنے خوشگوار مراسم کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ بی جے پی کے اشارے پر کر رہے ہیں۔

سیاست میں کوئی چیز بعید نہیں ہوتی۔ ممکن ہے بی جے پی اعلیٰ کمان نے ان سے کہا ہو کہ آپ الگ پارٹی بنائیں، ریاست میں اپنے قدم جمائیں اور جب آپ مضبوط ہو جائیں تو اپنے حامیوں کے ساتھ پارٹی میں واپس آجائیں۔ حالانکہ سردست اس کا امکان کم ہے لیکن ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ بی جے پی کسی بھی ریاست میں اپنے قدم جمانے کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کر سکتی ہے۔ وہ مختلف ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کے کندھے پر چڑھ کر ہی یہاں تک پہنچی ہے۔ وہ تمل ناڈو میں بھی اپنی حکومت چاہتی ہے اس لیے یہ ایک درپردہ کھیل بھی ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined