
علامتی تصویر / اے آئی
دنیا کی توجہ اکثر ایک نئے بحران کے اٹھتے ہی پرانے زخموں سے ہٹ جاتی ہے، لیکن افغانستان میں انسانی حقوق، بالخصوص خواتین کی بقا کا مسئلہ ایک ایسے موڑ پر آ پہنچا ہے جسے تاریخ کا "سنگین ترین صنفی بحران" قرار دیا جا رہا ہے۔ جب عالمی برادری کی نظریں دیگر جغرافیائی تنازعات کی طرف مڑتی ہیں، تو پیچھے رہ جانے والی کروڑوں افغان خواتین کے لیے استبدادی قدغنیں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ افغانستان میں گھر عقوبت خانے بن گئے ہیں اور دنیا خاموش تماشائی۔ ہمیں اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ یہ محض ایک پالیسی کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک پوری جنس کو سماجی اور قانونی وجود سے محروم کرنے کی منظم کوشش ہے۔
Published: undefined
افغانستان میں ’یو این ویمن‘کی موجودگی ایک عجیب تضاد کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف طالبان نے افغان خواتین عملے اور ٹھیکیداروں کے اقوام متحدہ کے دفاتر میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، اور دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ خواتین تک امداد پہنچانے کا فریضہ صرف خواتین ہی سرانجام دے سکتی ہیں۔ اس ادارہ جاتی رکاوٹ کے باوجود، یو این ویمن نے پیچھے نہ ہٹنے کا غیر متزلزل عزم ظاہر کیا ہے۔
یو این ویمن کی ایک اعلیٰ عہدیدار سوزن فرگوسن کے مطابق، سال 2025 میں اس ادارے نے کٹھن حالات کے باوجود 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد خواتین اور لڑکیوں تک زندگی بچانے والی خدمات پہنچائیں اور تقریباً 200 ایسی سول سوسائٹی تنظیموں کی پشت پناہی کی جن کی باگ ڈور خواتین کے ہاتھ میں ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاں ریاست دروازے بند کرتی ہے، وہاں انسانی ہمدردی کے جذبے نئے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔ فرگوسن کا موقف ہے کہ پابندیوں اور جاری تنازعات کے باوجود، حالات چاہے کچھ بھی ہوں، یو این ویمن افغانستان میں اپنی خدمات کی فراہمی جاری رکھے گی۔
Published: undefined
رواں برس جاری ہونے والے ایک فرمان نے افغانستان میں صنفی مساوات کی رہی سہی بنیادوں کو بھی منہدم کر دیا ہے۔ یہ فرمان محض ایک انتظامی حکم نہیں بلکہ خواتین کی قانونی حیثیت کی بیخ کنی ہے۔ اس کے تحت قانون کی نظر میں مرد اور عورت کی برابری کے تصور کو باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو اس فرمان کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ یہ شوہروں کو جسمانی سزا اور تشدد کی کھلی اجازت دیتا ہے۔ اس قانونی تبدیلی نے افغان خواتین کے لیے "گھر" جیسے مقدس اور محفوظ مقام کو ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ایک ایسے عقوبت خانے میں تبدیل کر دیا ہے جہاں تشدد کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جب ریاست خود تشدد کو جواز فراہم کرے، تو مظلوم کے لیے انصاف کے تمام دروازے مستقل طور پر بند ہو جاتے ہیں۔
سوزن فرگوسن نے عالمی برادری کو ایک ایسے پوشیدہ خطرے سے آگاہ کیا ہے جو کسی بھی فوجی حملے سے زیادہ مہلک ثابت ہو سکتا ہے: "نارملائزیشن" یا صورتحال کے معمول بن جانے کا احساس۔ جب ہم کسی مستقل جبر کو ایک ناقابلِ تغیر حقیقت سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں، تو ہم شعوری طور پر اس کے خلاف جدوجہد سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔لہٰذا، یہ نفسیاتی شکست افغان خواتین کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ اگر عالمی برادری نے افغانستان میں خواتین کی قید کو ایک "علاقائی روایت" یا "ناگزیر حقیقت" کے طور پر تسلیم کر لیا، تو تبدیلی کی رہی سہی امید بھی دم توڑ دے گی۔ فرگوسن نے خبردار کیا کہ جب ہم اسے ایک معمول کے طور پر قبول کرنے لگتے ہیں، تو ہم اس یقین سے محروم ہو جاتے ہیں کہ تبدیلی ممکن ہے... تبدیلی اب بھی ممکن ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب دنیا افغان خواتین کے ساتھ کھڑی رہے۔
Published: undefined
افغان خواتین اس وقت صرف سیاسی جبر کا شکار نہیں ہیں، بلکہ وہ فوجی کشیدگی، معاشی بدحالی اور قدرتی آفات کی تہری مار جھیل رہی ہیں۔ 16 مارچ کو کابل میں ہونے والے پاکستانی فضائی حملے میں انسانی جانوں کا بھاری نقصان ہوا، جبکہ پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 289 عام شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس عسکری کشیدگی سے 64 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں نصف سے زائد خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ بہت سی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے اگست 2025 کے زلزلے اور معاشی بحران کے باعث ایک ہی سال میں دو یا تین بار نقل مکانی کی ہے۔ اس وقت تقریباً ایک کروڑ خواتین کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ یو این ویمن کو 2026 کے لیے درکار فنڈز میں 50 فیصد کی تشویشناک کمی کا سامنا ہے۔ زمینی جائزوں کے مطابق، خواتین کی فوری ضروریات میں شدید موسم اور نقل مکانی کے پیشِ نظر محفوظ پناہ گاہیں؛ زچگی اور ذہنی صحت کے لیے بنیادی صحت کی سہولیات اور وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے پینے کا صاف پانی شامل ہیں۔
Published: undefined
دوسری جانب امریکہ اور طالبان کے درمیان سفارتی تناؤ اب ’یرغمالی سفارت کاری‘ کے الزامات تک پہنچ چکا ہے۔ حال ہی میں امریکی ماہرِ تعلیم ڈینس کوائل کی رہائی، جو جنوری 2025 سے زیرِ حراست تھے، نے اس بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔ اگرچہ طالبان اسے عید الفطر کے موقع پر ایک عدالتی فیصلے اور سپریم کورٹ کی جانب سے سزا کی مدت پوری ہونے کا نتیجہ قرار دیا ہے لیکن واشنگٹن کا نظریہ اس سے مختلف ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو "غلط حراستی عمل"کا مرتکب قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ طالبان سیاسی مراعات حاصل کرنے کے لیے امریکی شہریوں کو یرغمال بناتے ہیں۔ انہوں نے محمود حبیبی اور پال اووربی جیسے دیگر امریکی شہریوں کا بھی ذکر کیا جن کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لیکن افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اسے خالصتاً قانونی اور عدالتی عمل قرار دیتے ہیں۔ اس پیچیدہ سفارتی کھیل میں قطر اور متحدہ عرب امارات کی ثالثی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، لیکن سیاسی کشیدگی امدادی کاموں کے لیے درکار فنڈز اور اعتماد کی فضا کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔
Published: undefined
افغانستان کی صورتحال محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ ایک طرف یو این ویمن جیسے ادارے 50 کروڑ ڈالر کے مجموعی مالیاتی خسارے کے باوجود وہاں ڈٹے ہوئے ہیں، اور دوسری طرف افغان خواتین کی ہمت ہے جو ہر روز ایک نئی پابندی کے سامنے سینہ سپر ہوتی ہیں۔ سیاسی سودے بازیوں اور سرحدوں کی کشیدگی کے درمیان، ان ایک کروڑ خواتین کی آواز نہیں دبنی چاہیے جن کے لیے ہر گزرتا دن بقا کی ایک نئی جنگ ہے۔ امید ہے عالمی برادری افغانستان میں درپیش اس انسانی بحران کو ’معمول‘ سمجھ کر فراموش نہیں کرے گی بلکہ ان خواتین کی آواز بن کر جبر کو روکنے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کرے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined