فکر و خیالات

ایک تجارتی معاہدہ یا 500 ارب ڈالر کا سوال؟

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ 500 ارب ڈالر کی درآمدات، روسی تیل، صفر ٹیرف اور اسٹریٹجک خودمختاری جیسے معاملات پر سخت بحث جاری ہے

<div class="paragraphs"><p>ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ /&nbsp;تصویر اے آئی</p></div>

ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ / تصویر اے آئی

 

از:

ہندوستان اور امریکہ ایک ایسے تجارتی معاہدے پر ’متفق‘ ہوئے جسے بظاہر باہمی رضامندی کا نتیجہ قرار دیا گیا لیکن درحقیقت یہ امریکی صدر کے دباؤ کے تحت سامنے آیا۔ ایک ماہ قبل اس معاہدے کے بنیادی نکات کا یکطرفہ انکشاف ہوا، جسے ’مشترکہ بیان‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد امریکی سپریم کورٹ نے صدر کے ’ہنگامی‘ ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ ان سب پیش رفتوں کے باوجود یہ کثیر الجہت تجارتی معاہدہ آج بھی اتنا ہی غیر واضح ہے جتنا مٹیالا پانی۔

اب یہ ایک معمول بن چکا ہے کہ چاہے معاملہ تجارت کا ہو یا جنگ کا، دنیا کو سب سے پہلے خبر صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب سے امید تھی کہ صورت حال واضح ہو جائے گی، مگر ایسا نہ ہوا۔ اپنے پورے خطاب میں وہ ٹیرف پالیسیوں کی کامیابی کا ذکر کرتے رہے اور عندیہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ دوسرے قوانین کے ذریعے بھی انہیں نافذ کریں گے۔

Published: undefined

اگرچہ امریکی سپریم کورٹ نے ان کے ٹیرف اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا، مگر ٹرمپ نے اس کے باوجود دعویٰ کیا کہ ’انڈیا ڈیل‘ جاری ہے اور ان کے ’عظیم دوست‘ وزیر اعظم نریندر مودی اسے مکمل کریں گے۔ تقریباً 48 گھنٹے بعد انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر خبردار کیا کہ کوئی بھی ملک عدالتی فیصلے کو بہانہ بنا کر ان کے ساتھ کھیلنے کی کوشش نہ کرے۔

صدر ٹرمپ نے 1974 کے امریکی تجارتی قانون (یو ایس ٹریڈ ایکٹ) کی دفعہ 122 کے تحت 15 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا۔ یہ ایک کم استعمال ہونے والا قانون ہے جو صدر کو 150 دنوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 فیصد ٹیرف لگانے کی اجازت دیتا ہے، جس کے بعد کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ تاہم ٹرمپ کے مطابق اس معاملے میں کانگریس کی منظوری ضروری نہیں ہوگی۔

Published: undefined

ٹرمپ نے مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدوں کو ’تاریخی‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ امریکی معیشت کے لیے فائدہ مند ہیں، کیونکہ اس سے غیر ملکی منڈیاں امریکی مصنوعات کے لیے کھل رہی ہیں۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ عارضی رکاوٹ ہے اور بالآخر ان کی انتظامیہ ہی کامیاب ہوگی۔

اگرچہ ہندوستان نے ’عبوری معاہدے’ پر مزید گفتگو کے لیے اپنے تجارتی وفد کا دورہ ملتوی کر دیا مگر معاہدے کی شرائط پر دوبارہ بات چیت آسان نہیں ہوگی۔ ان شرائط میں بعض تعزیری نکات شامل ہیں، مثلاً روس سے خام تیل خریدنے کے خودمختار حق کو ترک کرنا۔ مزید یہ کہ ہندوستان نے آئندہ پانچ برسوں میں 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات درآمد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ واحد تجارتی شراکت دار ہے جس نے بیشتر امریکی اشیا پر صفر ٹیرف عائد کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جبکہ امریکہ ہندوستانی مصنوعات پر 18 فیصد ٹیرف برقرار رکھے گا۔

Published: undefined

ہندوستان نے اپنے حساس بازار بھی امریکی درآمدات کے لیے کھول دیے، اور اس وقت بھی کوئی مضبوط احتجاج نہیں کیا جب بنگلہ دیش جیسے حریف ممالک کے ساتھ امریکی معاہدوں نے ہندوستانی کپاس اور ٹیکسٹائل کے لیے مشکلات پیدا کیں۔

امریکی حکام کے اشارے بتاتے ہیں کہ وہ ان شرائط کو باضابطہ دستخط سے قبل ہی پابند سمجھتے ہیں۔ 6 فروری کو جاری کردہ ’عبوری فریم ورک‘ یا مشترکہ بیان پر بھی دستخط موجود نہیں تھے۔ ایسے وقت میں جب امریکی ٹیرف کی آئینی حیثیت غیر یقینی ہے اور دیگر ممالک اپنے متبادل تلاش کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کے پاس دوبارہ مذاکرات پر زور دینے کی سیاسی قوت ہے؟

یہ بھی غور طلب ہے کہ وزیر اعظم مودی اچانک ایسے یکطرفہ معاہدے پر رضامند کیوں ہوئے؟ 2025 کے بیشتر عرصے میں ہندوستان انتظار کرتا دکھائی دیا، جبکہ برطانیہ، یورپی یونین، ملائیشیا، جاپان اور ویتنام نے اپنے معاہدے طے کر لیے۔ نومبر 2025 میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک نے معاہدے میں تاخیر پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ صرف یہ ہے کہ مودی نے صدر ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔

Published: undefined

2 فروری کو، جب بجٹ اجلاس جاری تھا، ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ ان کے ’عظیم دوست‘ نریندر مودی نے فون کر کے بتایا ہے کہ ہندوستان تجارتی معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی نے روسی تیل کی درآمد کم کرنے اور امریکہ سے خریداری بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرے گا اور روس سے خام تیل خریدنے پر عائد 25 فیصد اضافی جرمانہ ختم کیا جائے گا، جبکہ ہندوستان امریکی درآمدات پر ’صفر‘ محصول عائد کرے گا۔

سابق مالیاتی سکریٹری سبھاش چندر گرگ کے مطابق ایک مثالی تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہونا چاہیے، لیکن موجودہ شرائط سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زیادہ تر امریکہ کے حق میں ہیں۔ امریکہ کی موجودہ مجموعی قومی پیداوار ہندوستان سے سات گنا زیادہ ہے، جبکہ فی کس آمدنی تیس گنا سے بھی زائد ہے۔ ماہرِ معاشیات پرسن جیت بوس سوال اٹھاتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت نے ایک کہیں بڑے اور زیادہ خوشحال ملک کے ساتھ ’باہمی اور متوازن تجارت‘ کا عہد کیوں کیا؟

Published: undefined

امریکہ طویل عرصے سے ہندوستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی رہا ہے۔ 2024-25 میں امریکہ کو ہندوستانی برآمدات 86 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو مجموعی 437 ارب ڈالر کی برآمدات کا 19 فیصد سے زیادہ ہیں۔ اسی سال ہندوستان کا کل تجارتی خسارہ 283 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، تاہم امریکہ کے ساتھ 40 ارب ڈالر کا سرپلس برقرار رہا۔ اپریل تا دسمبر 2025-26 کے دوران امریکہ کے ساتھ تجارتی سرپلس 26 ارب ڈالر تھا۔ اس لیے اگرچہ ہندوستان کو اپنی برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن امریکہ کے ساتھ معاہدے سے مکمل دستبرداری حقیقت پسندانہ آپشن نہیں ہے۔ تاہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت مذاکرات سے گریز بھی مناسب نہیں۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس (13 تا 15 فروری) میں جب وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان نے روسی تیل پر امریکی پابندی تسلیم کر لی ہے، تو انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے توانائی سے متعلق فیصلے قومی مفاد اور ’اسٹریٹجک خودمختاری‘ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ وزیر تجارت پیوش گوئل نے یہ کہہ کر سوال ٹال دیا کہ تیل کمپنیاں اپنے فیصلے خود کرتی ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا 2019 میں امریکہ کے دباؤ پر ہندوستان نے ایران سے سستا تیل خریدنے کا حق ترک نہیں کیا تھا؟ اور کیا 2026 میں بھی وہ اسی نوعیت کے دباؤ کے سامنے جھک نہیں رہا؟

Published: undefined

اگر ’اسٹریٹجک خودمختاری‘ واقعی ہندوستانی خارجہ پالیسی کا رہنما اصول ہے، تو پھر ہندوستان کو وینزویلا (بالواسطہ طور پر امریکہ کے اثر و رسوخ میں) سے تیل خریدنے پر کیوں آمادہ ہونا پڑا؟ ’بائے امریکن‘ عہد کا عملی مطلب کیا ہے؟ ہندوستان کو امریکہ سے کوئلہ درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے؟ اور ایک خودمختار ملک کے لیے اس کا کیا مفہوم ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ہندوستان کی خام تیل درآمدات پر نظر رکھے؟

وزارتِ تجارت و صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق روس سے ہندوستان کی خام تیل درآمدات 2022-23 میں 50.85 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2023-24 میں 83.02 ملین میٹرک ٹن اور 2024-25 میں 87.54 ملین میٹرک ٹن ہو گئیں۔ اپریل 2022 سے مارچ 2025 کے درمیان فی بیرل قیمت 79.41 ڈالر سے کم ہو کر 66.49 ڈالر رہ گئی۔ ہندوستان کی مجموعی خام تیل درآمدات میں روسی یورالز تیل کا حصہ، جو 2020-21 میں دو فیصد سے بھی کم تھا، 2024-25 میں 35 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔ اندازہ ہے کہ 2025-26 کے اختتام تک یہ حصہ 20 فیصد سے نیچے آ جائے گا۔

Published: undefined

ان مذاکرات کے نتیجے میں ہندوستان کو کیا حاصل ہوا؟ عبوری معاہدے میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیا خریدنے کی ہندوستان کی ’نیت‘ یا ’خواہش‘ کا ذکر ہے، جیسا کہ پیوش گوئل نے کہا لیکن امریکہ کی جانب سے ہندوستانی برآمدات میں اضافہ کرنے کی کوئی باہمی اور واضح ضمانت شامل نہیں۔

گرگ کے مطابق ہندوستان کو اپنے محنت کش شعبوں، جیسے ٹیکسٹائل، چمڑا، جوتے، پلاسٹک، ربڑ اور دستکاری کی مصنوعات پر صفر ٹیرف کے لیے زیادہ مضبوط مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ یہ مصنوعات پہلے 0 سے 3 فیصد محصول کے دائرے میں تھیں مگر اب انہیں 10 سے 18 فیصد تک ٹیرف کا سامنا ہے۔

آخرکار سوال وہی ہے، کیا ہندوستان اس معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کر سکتا ہے؟ یہی دراصل 500 ارب ڈالر کا اصل سوال ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined