
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن / تصویر آئی اے این ایس
ریٹائرڈ استاد کے کے سریندرن وزیرِ اعلیٰ وی ڈی ستیسن کے پاس کسی ذاتی رعایت کی درخواست لے کر نہیں پہنچے تھے۔ حکومت اور نظام کے خلاف 23 برس تک قانونی جنگ لڑنے کے بعد وہ صرف اتنا کہنا چاہتے تھے۔ ’’براہِ کرم اب میرے خلاف مزید کوئی اپیل دائر نہ کی جائے۔‘‘
2003 میں وائناڈ کے سلطان بتھری میں واقع ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ میں استاد سریندرن کو متھنگا قبائلی تحریک کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اپنی زمین اور قدرتی وسائل سے بے دخل کیے گئے قبائلی اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے اور سریندرن نے انہیں اخلاقی حمایت دی تھی۔ پولیس نے ان پر مظاہرین کے ساتھ ملی بھگت، تشدد اور توڑ پھوڑ کی سازش کے الزامات عائد کیے۔ تاہم عدالت میں یہ فوجداری مقدمہ برقرار نہ رہ سکا اور سی بی آئی کی تحقیقات میں بھی وہ بے قصور پائے گئے۔
اس کے بعد سریندرن کی ایک اور طویل قانونی جنگ شروع ہوئی، جو حراست کے دوران مبینہ غیر انسانی تشدد کے معاوضے سے متعلق تھی۔ 2021 میں زیریں عدالت نے پانچ لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا، لیکن اس وقت کی پنارائی وجین حکومت نے یہ رقم اس دلیل کے ساتھ ادا نہیں کی کہ معاوضہ دینے سے پولیس کا حوصلہ پست ہوگا۔ مارچ 2026 میں اپیل عدالت نے سود سمیت معاوضے کی رقم بڑھا کر 12.5 لاکھ روپے کر دی اور اسے ذمہ دار پولیس اہلکاروں سے وصول کرنے کی ہدایت دی۔
ایل ڈی ایف حکومت نے اس فیصلے کے خلاف بھی اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن اسمبلی انتخابات کے باعث یہ عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ ریاست میں یو ڈی ایف کے اقتدار میں آنے کے بعد دوستوں کے مشورے پر سریندرن 9 جولائی کو ستیسن سے ملے۔ وزیرِ اعلیٰ نے انہیں یقین دلایا کہ معاوضے کی رقم جلد از جلد ان کے اکاؤنٹ میں پہنچائی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کار دامودر پرساد کے مطابق یہ واقعہ بظاہر چھوٹا ہے، لیکن کسی بھی پالیسی دستاویز کے مقابلے میں ستیسن کے طرزِ حکمرانی کو زیادہ بہتر انداز میں بیان کرتا ہے۔ معروف مصنف اور سیاسی مبصر پروفیسر ایم۔ این۔ کاراسری کہتے ہیں کہ اس واقعے میں ایک بڑا سیاسی پیغام پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق ستیسن محض سیاسی مخالفین کی غلطیوں کو درست نہیں کر رہے، بلکہ سابق حکومت کی ایک تاریخی غلطی کی ذمہ داری بھی قبول کر رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ ستیسن کی حکومت کے چار ماہ مکمل ہونے پر ترواننت پورم میں حکمرانی کے انداز میں یہ تبدیلی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ سیکریٹریٹ کے دروازے عوام کے لیے اس طرح کھلے ہیں جیسے پنارائی وجین کے دس سالہ دورِ حکومت میں نہیں تھے۔ وزیرِ اعلیٰ کے دفتر نے شہریوں کے لیے ستیسن سے براہِ راست ملاقات کے اوقات مقرر کیے ہیں، جن میں بزرگوں اور معذور افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ دورے پر ہوں تو بھی عوامی شکایات کا سیل فعال رہتا ہے۔
کیرالہ ہائی کورٹ کے وکیل اور وسطی کیرالہ کے اریجالاکوڈا کے رہنے والے سوجن جیمز کے مطابق، سیکریٹریٹ آنے والے ہر شخص کے مسئلے کا جادوئی حل شاید ستیسن کے پاس نہ ہو، لیکن لوگوں میں یہ اعتماد ضرور پیدا ہوا ہے کہ حکومت ان کی بات سننے، ان کا احترام کرنے اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے موجود ہے۔
کیرالہ کے عوام طویل عرصے سے وزرائے اعلیٰ کے گرد سکیورٹی کے ناقابلِ عبور حصار اور عام شہری سے اقتدار کے بڑھتے ہوئے فاصلے کے عادی ہو چکے تھے۔ ستیسن کی جانب سے اپنے قافلے اور سکیورٹی کے انتظامات میں کمی کا فیصلہ محض انتظامی تبدیلی نہیں ہے۔ اس سے اقتدار اور عوام کے درمیان فاصلے کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جب لوگ اپنی درخواستیں لے کر وزیرِ اعلیٰ کی گاڑی کی طرف بڑھے اور ستیسن نے اپنا قافلہ رکوا دیا۔ یہ منظر ماضی کی اس سادگی کی یاد دلاتا ہے جب وزیرِ اعلیٰ گاڑی سے اتر کر عام لوگوں کے پاس پیدل جاتے اور ان کے ہاتھ سے خود درخواستیں وصول کرتے تھے۔
لوک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے کے باوجود برسوں سے تقرری کا انتظار کرنے والی وی۔ کے۔ شائنی کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وہ رینک لسٹ کی مدت ختم ہونے کے خلاف جاری احتجاج میں شامل تھیں، جب اچانک ستیسن نے اپنا قافلہ رکوا کر خود گاڑی سے باہر آ کر مظاہرین سے بات کی۔ شائنی کے لیے یہ منظر یقین کرنا مشکل تھا۔
پنارائی وجین کے دور میں وزیرِ اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ ’کلف ہاؤس‘ ایک ناقابلِ عبور قلعے کی مانند سمجھی جاتی تھی۔ ستیسن نے وہاں پہنچتے ہی افسران کو ہدایت دی کہ غیر ضروری اخراجات یا شاہانہ تزئین و آرائش نہیں کی جائے گی اور صرف ضروری مرمت کرائی جائے گی۔ یوں کلف ہاؤس کو ایک ’اوپن ہاؤس‘ کی شکل دینے کی کوشش کی گئی۔
سینئر صحافی سنی کٹی ابراہام کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کے میڈیا سے رابطے کے انداز میں بھی بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق ستیسن ہر کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے ملاقات کرتے ہیں، کبھی کبھار نہیں بلکہ ہر ہفتے باقاعدہ طور پر۔ پریس کانفرنس میں وہ کابینہ کے فیصلوں، تنازعات، تقرریوں، سرکاری خزانے کی صورتِ حال اور سیاسی کشیدگی سے متعلق براہِ راست سوالات کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں، بحث کرتے ہیں اور کبھی کبھار ناراض بھی دکھائی دیتے ہیں، لیکن سوالات سے فرار اختیار نہیں کرتے۔
سنی کٹی کے مطابق اس کی اہمیت اس ریاست میں مزید بڑھ جاتی ہے جہاں گزشتہ ایک دہائی سے سیاسی مکالمے پر سخت پہرہ محسوس کیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق ستیسن ان وزرائے اعلیٰ کے اس ماڈل کو آگے بڑھا رہے ہیں جس میں ای۔ ایم۔ ایس۔ نمبودری پاد، کے۔ کروناکرن، سی۔ اچیوتا مینن، ای۔ کے۔ نینار، وی۔ ایس۔ اچیوتانندن، اے۔ کے۔ اینٹنی اور اومن چانڈی جیسے رہنما شامل رہے ہیں۔
پنارائی وجین کے دور کو جہاں اقتدار کے مضبوط مرکزی کنٹرول سے جوڑا جاتا رہا، وہیں ستیسن کی موجودہ طرزِ حکمرانی میں عوامی رسائی اور شفافیت پر زور نظر آتا ہے۔ یہ فرق سابق حکومت سے وراثت میں ملنے والے منصوبوں سے نمٹنے کے طریقے میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
’سلور لائن‘ نیم تیز رفتار ریل منصوبہ اس کی ایک اہم مثال ہے۔ ہزاروں خاندانوں کے لیے ان کے صحن، باورچی خانوں کے قریب، کنوؤں کے کنارے اور زرخیز کھیتوں میں نصب کیے گئے پیلے سروے پتھر خوف کی علامت بن گئے تھے۔ سلور لائن کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت جدید کیرالہ کی نمایاں عوامی تحریکوں میں شمار ہوئی۔ ستیسن حکومت نے منصوبہ منسوخ کر دیا، اراضی کے حصول کا عمل روک دیا اور ان پیلے پتھروں کو ہٹانے کے احکامات جاری کیے۔
تاہم ستیسن نے سیاسی عداوت کی بنیاد پر سابق حکومت کے ہر منصوبے کو ختم نہیں کیا۔ ای۔ سری دھرن کی جانب سے تجویز کردہ نئے ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کو بھی سلور لائن کے متبادل کے طور پر فوری منظوری نہیں دی گئی۔ حکومت نے ریلوے، مالیات اور ماحولیات کے ماہرین پر مشتمل چار رکنی کمیٹی قائم کی تاکہ منصوبے کی عملی افادیت، اخراجات، فوائد اور چیلنجز کا آزادانہ جائزہ لیا جا سکے۔ کمیٹی نے تجویز کو نامکمل قرار دیا، جس کے بعد تفصیلی مطالعے تک منصوبہ روک دیا گیا۔
حال ہی میں ستیسن اپنی پوری کابینہ کے ساتھ مصنوعی ذہانت، موسمیاتی موافقت، آفات سے نمٹنے اور مالیاتی اصلاحات پر ایک حکمتِ عملی ورکشاپ میں شرکت کے لیے آئی آئی ایم کوژیکوڈ پہنچے۔ وزرا کا دوبارہ کلاس روم کا رخ کرنا اس بات کا اشارہ تھا کہ محض اقتدار میں ہونے سے کوئی حکومت یہ فرض نہیں کر سکتی کہ اسے ہر معاملے کا مکمل علم ہے۔
ویژنجام کی چھ سالہ بچی روانی کا معاملہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پر ویڈیو بنا کر ایسے پکے مکان کی درخواست کی تھی جس کی چھت بارش کے دوران اس کے پرانے گھر کی طرح نہ ٹپکے۔ اس کی اپیل ستیسن تک پہنچی تو وزیرِ اعلیٰ نے فوری طور پر بچی کی والدہ سے فون پر بات کی اور خاندان کو پکا مکان فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اسی طرح سیتالکشمی اماں، جنہیں لوگ محبت سے ’املو اماں‘ کہتے ہیں، کا واقعہ بھی سامنے آتا ہے۔ 2018 کے سیلاب کے دوران ان کی ملاقات ستیسن سے ہوئی تھی، جب وہ پاراور کے رکنِ اسمبلی کی حیثیت سے امدادی کاموں میں مصروف تھے۔ کئی برس بعد جب ستیسن نے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تو املو اماں ایک پرانی تصویر سینے سے لگائے ترواننت پورم کی تقریب میں پہنچیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ستیسن ان کے کیا لگتے ہیں تو انہوں نے انہیں بیٹے جیسا کہنے کے بجائے اپنا بیٹا قرار دیا۔ ستیسن نے بھی ہجوم میں انہیں فوراً پہچان لیا، گلے لگایا اور احترام کے ساتھ اسٹیج پر اپنے پاس بٹھایا۔
پالکڑ کے تاجر جوشی تھامس ایک کاروباری دستاویز کے لیے ایک سال سے دفاتر کے چکر لگا رہے تھے۔ ان کی پریشانی ایک مقامی اخبار کے فیس بک پیج پر کیے گئے تبصرے کے ذریعے وزیرِ اعلیٰ کے دفتر تک پہنچی۔ بتایا جاتا ہے کہ اگلے ہی روز تمام ضروری دستاویزات ان کے حوالے کر دی گئی تھیں۔
تاہم ستیسن حکومت کو آنے والے دنوں میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ شفافیت، عوامی رابطے اور حساسیت کی یہ ابتدائی کوششیں انتظامی کارکردگی، مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر عوامی خدمات میں بھی تبدیل ہوتی ہیں۔ بڑے انتظامی تغیرات اکثر چھوٹے قدموں سے شروع ہوتے ہیں اور شہریوں اور اقتدار کے درمیان فاصلے کم کرنا یقیناً ایسا ہی ایک قدم ہو سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔