شہر

دہلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب۔۔۔

دہلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب۔۔۔

دہلی کی تاریخی جامع مسجد کی ایک تصویر (گیٹی امیج)
دہلی کی تاریخی جامع مسجد کی ایک تصویر (گیٹی امیج) 

بچپن سے ہم یہ سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ دن میں پانچ مرتبہ موذن مسجد کے مینار سے اذان دیتے ہیں تاکہ وہ لوگ جو بہ جماعت نماز پڑھنا چاہتے ہیں انھیں یہ پیغام مل جائے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے اور انھیں مسجد پہنچ جانا چاہیے۔

یہ بات اتنی بار سنی اور پڑھی کہ کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا کہ بڑی اور عالیشان مسجدوں کو چھوڑ دیا جائے تو قصبوں اور محلوں میں بنی ہوئی ہزاروں مسجدوں میں یا تو مینار ہیں ہی نہیں اور اگر ہیں بھی تو اس وضع قطع کے ہیں کہ ان میں نہ اندر کوئی زینہ ہے نہ باہر اور اگر کوئی اللہ کا بندہ جی کڑا کر کے کسی طریقے سے ایسے کسی مینار پر چڑھ بھی گیا تو کھڑا کہاں ہوگا؟ اذان کہاں سے دے گا؟

مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا اس طرح کے واہیات خیال کبھی ذہن میں آئے ہی نہیں، کیونکہ یہ فلسفہ کہ مینار سے اذان دی جاتی ہے ذہن پر اتنا حاوی ہو چکا تھا کہ اس سے اختلاف رکھنے والے خیالات کی دماغ میں داخل ہونے کی گنجائش ہی نہیں بچی تھی۔

یہ خیال پھر کس طرح ذہن میں داخل ہوا اور اس کے بعد برصغیر کے فن تعمیر کے بارے میں کس طرح کے سوال پیدا ہوئے انھیں آنے والے دنوں میں میں اس کالم کے ذریعہ آپ کی خدمات میں پیش کروںگا، اس امید کے ساتھ کہ شاید گفتگو کا ایک سلسلہ بنے اور بہت سے بے بنیاد مفروضے جنھیں ہم نے تقریباً مذہبی عقیدے کی شکل دے دی ہے ان پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہمیں محسوس ہو۔

اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں یہ مناسب ہوگا کہ میں اس پس منظر کو بیان کر دوں جس میں یہ خیال پیدا ہوئے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم کوئی 12-15 برس پیچھے لوٹ چلیں، جہاں یہ سلسلہ شروع ہوا تھا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں ’لیپ ائیرس‘ کے نام سے بچوں کے لیے قائم کیے گئے ایک ادارے میں کام کر رہا تھا۔ بچے اسکول کے بعد موسیقی، رقص، مصوری، فوٹوگرافی اور دیگر فنون لطیفہ سے متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں فٹ بال، کرکٹ اور ٹینس سیکھنے یا لائبریری میں پڑھنے کے لیے بھی آتے تھے۔

بچوں سے بات چیت کے دوران یہ معلوم ہوا کہ دہلی میں جو بچے بڑے ہو رہے ہیں انھیں دہلی کی تاریخ کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے، ان میں وہ سارے بچے بھی شامل تھے جو اچھے اچھے اسکولوں میں پڑھ رہے تھے۔

میں نے فوراً ہی دہلی کی دریافت کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا اور بچوں کو ہر 15 دن میں ایک بار دہلی کے آثارف قدیمہ، دہلی کے جنگل اور دہلی کے باغوں کی سیر کروانے کا سلسلہ شروع کیا۔

یہ ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ دہلی میں پڑھنے والے بچے سال میں 46 ہفتے تو اسکول جاتے ہیں اور گرمیوں کی چھٹیوں میں والدین کے ساتھ اپنے نانیہال یا دادیہال چلے جاتے ہیں یا کسی اور شہر میں، پہاڑوں پر اور جن کے پاس پیسے کی کمی نہیں ہے وہ بیرون ممالک کے سفر پر نکل جاتے ہیں۔ نتیجتاً اس تاریخی شہر کو دیکھنے کا کوئی موقع کبھی نہیں آتا۔ ’لیپ ائیرس‘ نے یہ موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کے چند قطعی غیر متوقع نتائج برآمد ہوئے اور ان کا ذکر یہاں کر دینا بیجا نہ ہوگا۔ یہ سلسلہ شروع ہوا ہی تھا کہ کچھ والدین یہ تجویز لے کر آئے کہ وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، میں نے ان سے عرض کیا کہ بچوں کو جس طرح کی معلومات دی جاتی ہیں وہ عام طور پر بالغوں کی دلچسپی کی نہیں ہوں گی، بہتر یہ ہوگا کہ وہ اپنے دوستوں کو تیار کر لیں تو ان کے ساتھ بھی یہ سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

وہ فوراً تیار ہو گئے اور اس طرح آج سےت قریباً 12 برس پہلے مہرولی، تغلق آباد، حوض خاص، بیگم پور، کھڑکی، جہاں پناہ، فیروز شاہ کا کوٹلہ، قلعہ کہنہ یعنی دین پناہ یا شیر گڑھ، شاہ جہان آباد، قطب صاحب، ظفر محل، حوض شمسی، سلطان گھری، پیر غائب، بستی حضرت نظام الدین اولیا، چراغ دہلی، ہمایوں اور عبدالرحیم خان خاناں کا مقبرہ، لودی گارڈن اور 1857 سے متعلق عمارات کو دیکھنے دکھانے کا سلسلہ دہلی میں رہنے والوں کے لیے شروع ہوا۔

12 برس کے اس وقفے میں کئی ہزار لوگوں کو ان کے شہر سے متعارف کروایا جا چکا ہے اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر شہر میں مجھے کچھ نہ کچھ نئی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ بہت سے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے جنھوں نے اپنی ذاتی دلچسپی کی بنا پر سلاطین اور مغل بادشاہوں کے بارے میں اور ان کے فن تعمیر کے بارے میں نہایت دلچسپ معلومات کا ذخیرہ جمع کیا ہوا ہے اور وہ بڑی فراخ دلی سے اس بیش قیمتی دولت کو تقسیم کرتے ہیں۔

کئی اسکولوں اور کالجوں کے بچوں کے ساتھ ’دلّی کی دریافت‘ کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ بچوں اور بالغوں کے ساتھ ان کھنڈروں میں گھومتے پھرتے اور ان امارات کی تواریخ کے بارے میں اس شہر کے بارے میں، جسے بجا طور پر ’عالم میں انتخاب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، بہت کچھ نیا جاننے اور سمجھنے کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔

مسجدوں اور میناروں کے باہمی رشتے سے جڑے ہوئے بہت سے سوال بھی اسی جستجو کے پیداوار ہیں۔ بات جہاں سے شروع ہوئی تھی گھوم پھر کر وہیں آ گئی ہے، آغازِ گفتگو اور اختتام کے درمیان جو روداد میں نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہے، اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ سلسلہ جو ’قومی آواز‘ کی مہربانی سے ہمارے درمیان ایک مکالمے کی شکل میں قائم ہو رہا ہے، اس کی وجہ تسمیہ سے آپ کو روشناس کروا دیا جائے۔

اب کیوں کہ ’قومی آواز‘ کے مدیر جناب ظفر آغا صاحب کا حکم ہے کہ میں اپنی گفتگو کو ضرورت سے زیادہ طول نہ دوں، اور یہ مناسب بھی ہے، اس لیے اس تعارف تحریر کو یہیں ختم کرتا ہوں۔ ہر مہینے میں دو بار آپ کی خدمت میں حاضر رہوں گا، مینار اور مسجد کے تعلق سے جو گفتگو اس تحریر میں شروع کی گئی ہے اسے اگلی قسط میں اختتام تک پہنچایا جائے گا۔

Published: 12 Aug 2017, 9:30 AM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 12 Aug 2017, 9:30 AM IST