صنعت و حرفت

ہندوستانی شیئر بازار میں ہاہاکار، سینسیکس 2400 پوائنٹ ٹوٹا، نفٹی بھی لڑھکا، بازار 10 ماہ کی نچلی سطح پر

شیئر بازار میں شدید گراوٹ آئی، سینسیکس 2400 سے زیادہ پوائنٹ ٹوٹ گیا جبکہ نفٹی میں بھی تقریباً 700 پوائنٹ کی کمی درج ہوئی۔ عالمی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کی گھبراہٹ کو گراوٹ کی بڑی وجہ بتایا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>

علامتی تصویر

 

ہندوستانی شیئر بازار میں ہفتے کے پہلے کاروباری دن زبردست گراوٹ دیکھنے میں آئی جس سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بازار کھلتے ہی بڑے اشاریوں پر دباؤ بڑھ گیا اور کچھ ہی دیر میں شیئر بازار شدید مندی کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس اچانک گراوٹ کے سبب بازار تقریباً دس ماہ کی نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔

Published: undefined

بامبے اسٹاک ایکسچینج کا 30 شیئروں پر مشتمل اشاریہ سینسیکس اپنے گزشتہ بند 78 ہزار 918 اعشاریہ 90 پوائنٹ کے مقابلے میں گراوٹ کے ساتھ 77 ہزار 56 اعشاریہ 75 پوائنٹ پر کھلا۔ کاروبار شروع ہونے کے بعد فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا جس کے نتیجے میں سینسیکس تیزی سے نیچے آیا اور کچھ ہی دیر میں یہ تقریباً 76 ہزار 424 پوائنٹ تک پہنچ گیا۔ اس طرح سینسیکس میں 2400 پوائنٹ سے زیادہ کی کمی درج کی گئی جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوئی۔

Published: undefined

نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا اہم اشاریہ نفٹی پچاس بھی اس گراوٹ سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ گزشتہ جمعہ کو نفٹی 24 ہزار 450 پوائنٹ پر بند ہوا تھا، تاہم پیر کو بازار کھلتے ہی یہ کمزوری کے ساتھ 23 ہزار 868 پوائنٹ پر پہنچ گیا۔ ابتدائی کاروبار کے دوران فروخت کا رجحان مزید تیز ہوا اور نفٹی تقریباً 700 پوائنٹ نیچے آ کر 23 ہزار 697 پوائنٹ کے آس پاس پہنچ گیا۔

بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گراوٹ کے پیچھے کئی عالمی عوامل کارفرما ہیں۔ خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی بازاروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی حالات غیر یقینی ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں اور انہوں نے بڑے پیمانے پر شیئر فروخت کیے، جس کا براہ راست اثر ہندوستانی بازار پر بھی پڑا۔

Published: undefined

اس سے پہلے گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری دن بھی بازار دباؤ میں رہا تھا۔ جمعہ کو سینسیکس تقریباً 1097 پوائنٹ کی کمی کے ساتھ بند ہوا تھا جبکہ نفٹی میں بھی تقریباً 315 پوائنٹ کی گراوٹ درج کی گئی تھی۔ مسلسل دوسرے دن بھاری گراوٹ کے سبب بازار میں بے یقینی کا ماحول بن گیا ہے اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی حالات میں استحکام آنے تک بازار میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔ فی الحال سرمایہ کاروں کی نظریں بین الاقوامی پیش رفت اور عالمی مالیاتی رجحانات پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی عوامل کے مطابق آنے والے دنوں میں بازار کی سمت طے ہونے کا امکان ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined