
نئی دہلی: مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) نے انکم ٹیکس قانون میں آرڈی ننس کے ذریعہ کارپوریٹ دنیا کو ایک لاکھ 45 ہزار کروڑ روپے کی چھوٹ دئیے جانے کی سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت معیشت کوسدھارنے کے نام پر صنعت کاروں کے لئے عوام کے پیسے کو لوٹ رہی ہے۔
Published: 20 Sep 2019, 9:10 PM IST
سی پی ایم پولٹ بیورو نے آج یہاں جاری بیان میں کہا کہ مودی حکومت نے کارپوریٹ دنیا پر عائد ہونے والے ٹیکس اورمحصو لات کو39.94 فیصد سے گھٹا کر 25.17 فیصد کردیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر دس فیصد کی چھوٹ دی گئی ہے جو کمپنیا ں یکم اکتوبر سے نئی سرمایہ کاری کریں گی انہیں سرچارج ملاکر 17.01 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔
Published: 20 Sep 2019, 9:10 PM IST
پارٹی نے کہا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ اقتصادی مندی کودور کرنے کیلئے عوام کی قوت خرید میں اضافہ کرتی اور اس طرح مانگ بڑھتی لیکن اس نے صنعت کاروں کو فائدہ پہنچانا شروع کردیا ہے۔ بجٹ میں کیپٹل گینس پر زیادہ سرچارج کا اعلان کیا گیا تھا جسے حکومت نے واپس لیلیا ہے اور ا س سے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کو فائدہ ہوگا۔ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ دورے سے پہلے کیا گیا ہے جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو اپنی طرف راغب کرنا ہے۔
Published: 20 Sep 2019, 9:10 PM IST
بیان میں کہاگیا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی صورت حال رو ز بہ روز بدتر ہوتی جارہی ہے لیکن لوگوں کی قوت خرید بڑھانے کے بجائے حکومت سرمایہ کاری پر زور دے رہی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی70ہزار کروڑ روپے ریئل اسٹیٹ اورایکسپورٹ سیکٹر پر خرچ کردئے ہیں۔ پولٹ بیورو نے کہا کہ کارپویٹ اور فرقہ پرست طاقتوں نے عوام کا دکھ درد مٹانے کے بجائے ان کی تکلیف بڑھا دی ہے۔
Published: 20 Sep 2019, 9:10 PM IST
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 20 Sep 2019, 9:10 PM IST