صنعت و حرفت

تیل کی قیمتوں کا کھیل: دعووں کے پیچھے چھپی حقیقت اور عوام پر بڑھتا بوجھ...گردیپ سنگھ سپل

حکومت نے تیل سے بھاری آمدنی حاصل کی، مگر عوام کو ریلیف نہیں ملا۔ آیل بانڈ، سڑکوں اور ڈی بی ٹی کے دعوے اعداد و شمار میں کمزور نظر آتے ہیں، جبکہ قرض میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث جہاں دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، وہیں ہندوستان میں پٹرول پمپوں پر قیمتیں توقع کے برعکس کافی حد تک مستحکم دکھائی دیتی ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت نے اسے اپنی عوام دوست پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے خوب تشہیر کی ہے لیکن حقیقت میں یہ اقدامات گزشتہ ایک دہائی سے جاری مالی استحصال اور منافع خوری کے سلسلے میں محض ایک عارضی وقفہ معلوم ہوتے ہیں۔

مودی حکومت کے تقریباً دس سالہ دور اقتدار کو اگر مالیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ سرکاری خزانے کے لیے غیر معمولی فائدے کا باعث رہا ہے۔ اس عرصے میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کئی بار انتہائی کم سطح تک گر گئیں، حتیٰ کہ ایک موقع پر یہ 30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔ ایسے مواقع پر ہندوستانی عوام کو امید تھی کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی اسی تناسب سے کم ہوں گی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ حکومت نے اس فرق کو خاموشی سے اپنے خزانے میں شامل کر لیا اور عوام کو اس کا فائدہ منتقل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

Published: undefined

جب بھی حکومت نے وضاحت پیش کی، تو تین روایتی دلائل سامنے رکھے گئے: یو پی اے دور کے آیل بانڈز کی ادائیگی، سڑکوں کی تعمیر پر خرچ، اور غریبوں کو براہ راست مالی مدد (ڈی بی ٹی)۔ تاہم، سرکاری اعداد و شمار خود ان دعوؤں کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔

دعویٰ نمبر 1: ’ہم یو پی اے کے آیل بانڈز ادا کر رہے تھے‘

منموہن سنگھ کی قیادت میں یو پی اے حکومت نے تقریباً 1.6 لاکھ کروڑ روپے کے آیل بانڈز جاری کیے تھے، جن کا مقصد تیل کمپنیوں کو سبسڈی کے بدلے معاوضہ دینا تھا۔ بی جے پی نے ان بانڈز کو اپنی وضاحت کا بنیادی نکتہ بنایا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں مودی حکومت نے پٹرولیم ٹیکس کی مد میں 44 لاکھ کروڑ روپے سے زائد جمع کیے، جبکہ آیل بانڈز کی کل ادائیگی (اصل اور سود سمیت) تقریباً 3.3 لاکھ کروڑ روپے رہی، یعنی مجموعی ٹیکس آمدنی کا صرف سات فیصد۔ دوسرے لفظوں میں، ہر ایک روپے کی ادائیگی کے مقابلے میں حکومت نے تیرہ روپے کمائے۔

Published: undefined

دعویٰ نمبر 2: ’پیسہ سڑکوں کی تعمیر میں لگا‘

یہ حقیقت ہے کہ مودی دور میں شاہراہوں کی لمبائی میں اضافہ ہوا ہے، اور حکومت اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے پیچھے مالیاتی پیچیدگیاں بھی موجود ہیں۔

مارچ 2024 تک، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا پر 3.35 لاکھ کروڑ روپے کا قرض تھا، جو آیل بانڈز سے کہیں زیادہ ہے۔ مزید برآں، ان سڑکوں کو انویسٹمنٹ ٹرسٹ (InvIT) کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ مستقبل کے ٹول محصولات کو قرض کی ادائیگی اور سرمایہ کاروں کے منافع کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

سڑک ٹرانسپورٹ کے وزیر نتن گڈکری کے مطابق، ٹول آمدنی 50,000 کروڑ سے بڑھ کر 1.45 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کی امید ہے۔ 2025-26 میں یہ پہلے ہی 73,000 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سڑکیں قرض لے کر بنائی جاتی ہیں، پھر ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مستقبل میں گروی رکھ دیا جاتا ہے، جبکہ عوام سے کہا جاتا ہے کہ ایندھن پر ٹیکس اسی مقصد کے لیے لیا جا رہا ہے—جبکہ وہی عوام ٹول بھی ادا کرتے ہیں۔

دعویٰ نمبر 3: ’پیسہ غریبوں تک پہنچا‘

حکومت ڈی بی ٹی کے تحت 50 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی تقسیم کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن اس کا تفصیلی جائزہ لینے پر تصویر مختلف نظر آتی ہے۔

2013-14 میں مجموعی سبسڈی بجٹ کا 16.3 فیصد تھی، جو 2025-26 میں کم ہو کر 13.06 فیصد رہ گئی۔ موجودہ سبسڈی کا 91 فیصد حصہ خوراک، کھاد، رہائش اور ایل پی جی پر خرچ ہوتا ہے—یہ تمام اسکیمیں پہلے سے موجود تھیں۔

سب سے زیادہ کمی پٹرولیم سبسڈی میں آئی، جو 5.1 فیصد سے گھٹ کر صرف 0.24 فیصد رہ گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت نے نئی فلاحی اسکیموں میں اضافہ نہیں کیا بلکہ موجودہ پروگراموں کو نئے ناموں کے ساتھ جاری رکھا۔

مزید یہ کہ ڈی بی ٹی کے تحت دکھائے گئے “افادیت کے فوائد” کا آزادانہ آڈٹ نہیں ہوا، جس سے ان دعوؤں کی شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں۔

Published: undefined

چھپا ہوا قرض

مئی 2014 میں جب مودی حکومت اقتدار میں آئی، تو ملک کا مجموعی قرض تقریباً 55 لاکھ کروڑ روپے تھا۔ مارچ 2026 تک یہ بڑھ کر 197 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا، اور اندازہ ہے کہ مارچ 2027 تک 218.63 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔

یعنی ایک دہائی میں تقریباً 150 لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا، جو گزشتہ کئی دہائیوں کے مجموعی قرض سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ آج ہندوستان ہر سال تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے صرف سود کی ادائیگی میں خرچ کرتا ہے، جبکہ فی شہری اوسط قرض 1.5 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

Published: undefined

اس کے علاوہ کئی سرکاری اداروں جیسے انڈین ریلوے فنانس کارپوریشن، پاور فنانس کارپوریشن اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی آف بجٹ ذمہ داریاں بھی ہیں، جو 20 سے 25 لاکھ کروڑ روپے تک ہو سکتی ہیں، مگر یہ سرکاری حسابات میں واضح طور پر شامل نہیں۔

اگر یو پی اے دور کے 1.6 لاکھ کروڑ روپے کے آیل بانڈز کو مستقبل پر بوجھ قرار دیا جاتا ہے، تو موجودہ دور میں بڑھنے والے 150 لاکھ کروڑ روپے کے قرض کو کس طرح دیکھا جائے؟ یہ قرض غریبوں کی مدد کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے معاشی ماڈل کو چلانے کے لیے لیا گیا ہے، جو عوام سے وسائل حاصل کرتا ہے، سرکاری اثاثوں کو گروی رکھتا ہے اور اسے ترقی کا نام دیتا ہے۔

(گردیپ سنگھ سپل کانگریس ورکنگ کمیٹی کے مستقل مدعو رکن ہیں)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined