
ہندوستانی سنیما، تھیٹر اور رقص کی عظیم شخصیت زہرہ سہگل ان فنکاروں میں شامل تھیں جنہوں نے صرف اپنی اداکاری ہی سے نہیں بلکہ اپنی بے مثال توانائی، خوش مزاجی اور زندگی سے محبت کے جذبے سے بھی لاکھوں دل جیتے۔ آج یعنی 10 جولائی کو ان کی برسی ہے۔ وہ تقریباً 7 دہائیوں تک فلم، تھیٹر، ٹیلی ویژن اور رقص کی دنیا میں سرگرم رہیں اور اپنی آخری عمر تک اسی جوش و خروش کے ساتھ کام کرتی رہیں جس نے انہیں ایک منفرد شناخت عطا کی۔
زہرہ سہگل 27 اپریل 1912 کو اتر پردیش کے سہارنپور میں پیدا ہوئیں۔ بچپن ہی سے ان کی شخصیت دوسروں سے مختلف تھی۔ ایک سال کی عمر میں ان کی بائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی، تاہم علاج کے بعد وہ دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو گئیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم لڑکوں کے اسکول میں ہوئی، جس کی وجہ سے ان کے مزاج میں بے تکلفی، خود اعتمادی اور جرات نمایاں تھی۔ وہ درختوں پر چڑھنے اور لڑکوں جیسی شرارتیں کرنے میں بھی پیش پیش رہتی تھیں۔
گریجویشن مکمل کرنے کے بعد انہوں نے رقص کو اپنا پیشہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ جرمنی میں مشہور رقاص اودے شنکر کا رقص دیکھنے کے بعد وہ ان کے الموڑہ ڈانس سینٹر سے وابستہ ہو گئیں۔ یہی فیصلہ ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ 1935 میں انہوں نے اودے شنکر کے رقص کے گروپ کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور جاپان، مصر، یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ہندوستانی ثقافت کی نمائندگی کی۔ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث معروف ادیب خواجہ احمد عباس نے انہیں ’ہندوستان کی اساڈورا ڈنکن‘ قرار دیا تھا۔
زہرہ سہگل نے 1942 میں سائنس داں، مصور اور رقاص کملیشور سہگل سے شادی کی۔ اس کے بعد انہوں نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ 1946 میں آئی خواجہ احمد عباس کی فلم ’دھرتی کے لال‘ ان کی پہلی فلم تھی، جس نے انہیں فلمی دنیا میں متعارف کرایا۔ اسی برس انہوں نے ’نیچا نگر‘ میں بھی کام کیا، جو بعد میں عالمی سطح پر بھی سراہی گئی۔
1950 میں چیتن آنند کی فلم ’افسر‘ میں دیو آنند کے ساتھ ان کی اداکاری کو خاصی پذیرائی ملی۔ اگرچہ فلم تجارتی لحاظ سے کامیاب نہ ہو سکی، لیکن زہرہ سہگل کی فطری اداکاری نے ناقدین اور ناظرین دونوں کو متاثر کیا۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے بطور کوریوگرافر بھی خدمات انجام دیں اور رقص کی تربیت و پیشکش میں نمایاں کردار ادا کیا۔
زہرہ سہگل صرف فلموں تک محدود نہیں رہیں بلکہ تھیٹر سے بھی ان کا گہرا تعلق رہا۔ وہ تقریباً 14 برس تک پرتھوی تھیٹر سے وابستہ رہیں اور انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن (اپٹا) کے ساتھ بھی سرگرم رہیں۔ ان کی اس ہمہ جہت خدمات نے انہیں ہندوستان کے نمایاں فنکاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔
1962 میں وہ لندن منتقل ہو گئیں، جہاں انہوں نے بی بی سی سمیت مختلف اداروں کے لیے کام کیا۔ بی بی سی کا سیریل ’پڑوسی‘ اور بعد میں ’دی جیول اِن دی کراؤن‘ میں لیڈی چٹرجی کا کردار ان کے کیریئر کے یادگار کرداروں میں شمار ہوتا ہے۔ مقبول برطانوی سیریل ’تندوری نائٹس‘ نے بھی انہیں بین الاقوامی سطح پر مزید شہرت دلائی۔ تقریباً 25 برس بعد وہ دوبارہ ہندوستان واپس آئیں اور ایک بار پھر فلموں اور ٹیلی ویژن میں سرگرم ہو گئیں۔
نئی صدی میں بھی زہرہ سہگل کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے ’دل سے‘، ’دل سے دل دے چکے صنم‘، ’ویر زارا‘، ’چینی کم‘ اور ’سانوریا‘ جیسی کامیاب فلموں میں اپنی یادگار اداکاری سے نئی نسل کو بھی اپنا مداح بنا لیا۔ فلم ’چینی کم‘ میں انہوں نے امیتابھ بچن کی والدہ کا کردار نبھایا، جسے بے حد سراہا گیا۔ 2012 میں جب انہوں نے اپنی عمر کی ایک صدی مکمل کی تو امیتابھ بچن نے انہیں ’سو سال کی بچی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی توانائی نوجوانوں کے لیے بھی حیرت کا باعث ہے۔
فن کے میدان میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے انہیں 1998 میں پدم شری، 2002 میں پدم بھوشن اور 2010 میں پدم وبھوشن سے نوازا۔ 1997 میں ان کی خود نوشت ‘اسٹیجس‘ (Stages) بھی شائع ہوئی، جس میں انہوں نے اپنی فنی اور ذاتی زندگی کے دلچسپ تجربات قلم بند کیے۔
زہرہ سہگل ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ لمبی اور خوشگوار زندگی کا راز مسلسل متحرک رہنے میں پوشیدہ ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ انسان جیسے ہی غیر فعال ہو جاتا ہے، اس کی زندگی کی تازگی بھی ختم ہونے لگتی ہے۔ یہی فلسفہ انہوں نے پوری زندگی اپنایا اور اپنی آخری سانس تک متحرک رہیں۔
زہرہ سہگل 10 جولائی 2014 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، لیکن ان کی مسکراہٹ، زندگی سے محبت، فن سے لگن اور لازوال کردار آج بھی ہندوستانی سنیما اور تھیٹر کی تاریخ میں روشن باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ عمر کبھی بھی تخلیقی صلاحیتوں اور جذبے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔