بالی ووڈ

ساحر لدھیانوی: محبت، انسانیت اور انقلاب کی آواز آج بھی زندہ ہے

ساحر لدھیانوی کی شاعری میں محبت، جدائی، غربت، ناانصافی اور انسانیت کا درد نمایاں ہے۔ ان کے انقلابی کلام اور فلمی نغموں کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے، جو انہیں نسلوں کا محبوب شاعر بناتی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

اردو ادب کے ممتاز شاعر، ترقی پسند ادیب اور ہندوستانی فلمی دنیا کے نامور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کی شاعری آج بھی کئی نسلوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ ان کے کلام میں محبت، جدائی، انسانی دکھ، سماجی ناانصافی، غربت، جنگ، امن اور انسان کی عزت و وقار جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔ انہوں نے عشق و محبت کو محض ذاتی جذبات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماج کی حقیقتوں اور انسانی زندگی کے مسائل سے بھی جوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شعری مجموعے اور فلمی نغمے آج بھی قارئین اور سامعین میں مقبول ہیں۔

ساحر لدھیانوی کے نام کی مناسبت سے ان کی شاعری میں ایک ایسا سحر موجود تھا جو لوگوں کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتا تھا۔ ان کے کلام کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کے اشعار اور نغمے لوگوں کی زبان پر ہیں۔ نقاد ان کی شاعری کو جس ادبی زمرے میں بھی رکھیں، ان کی تخلیقی اہمیت اور عوامی مقبولیت سے انکار ممکن نہیں۔ انہوں نے ایسے فلمی نغمے تخلیق کیے جو ادبی معیار پر پورے اترنے کے ساتھ عوام کے جذبات کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔

ساحر لدھیانوی کا اصل نام عبدالحئی تھا۔ وہ 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن اور نوجوانی مشکلات میں گزری۔ 1937 میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا، لیکن وہاں سے نکال دیے گئے۔ بعد ازاں دیال سنگھ کالج میں تعلیم حاصل کی، تاہم وہاں بھی انہیں کالج چھوڑنا پڑا۔ ان کی زندگی کے یہ تجربات اور محرومیاں بعد میں ان کی شاعری میں مختلف صورتوں میں منعکس ہوئیں۔

ساحر کا شعری مجموعہ ’’تلخیاں‘‘ طالب علمی کے زمانے ہی میں شائع ہوا اور اس نے ادبی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔ اس مجموعے میں رومانوی جذبات، انقلابی فکر اور سماجی شعور کا خوب صورت امتزاج ملتا ہے۔ اس کی نظم ’’تاج محل‘‘ نے محبت کی روایتی علامت کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا۔ ساحر نے تاج محل کی تعمیر کے پیچھے شاہی دولت اور عام انسانوں کی محرومیوں کے تضاد کو نمایاں کرتے ہوئے محبت کے تصور پر سوال اٹھایا۔

ان کی نظم کا بنیادی خیال یہ تھا کہ دنیا میں محبت کرنے والے بے شمار لوگ گزرے ہیں، لیکن تاریخ میں صرف ایک شہنشاہ کی تعمیر کردہ عمارت کو محبت کی عظیم نشانی بنا کر پیش کیا گیا۔ ساحر نے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ دولت کے بل پر تعمیر ہونے والی عمارتوں کے مقابلے میں عام انسانوں کے جذبات اور محبت بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں۔

ساحر کی نظم ’’تاج محل‘‘ کے جواب میں نامور نغمہ نگار شکیل بدایونی نے فلم ’’لیڈر‘‘ کے لیے ایک گیت لکھا، جس میں تاج محل کو محبت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس گیت کے بول ’’اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل، ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے‘‘ آج بھی مقبول ہیں۔ یہ مثال واضح کرتی ہے کہ ایک ہی موضوع کو مختلف زاویوں سے دیکھا اور پیش کیا جا سکتا ہے۔ ساحر نے جہاں شاہی عظمت کے پیچھے چھپی سماجی ناہمواریوں کی طرف توجہ دلائی، وہیں شکیل بدایونی نے محبت کی روایتی تعبیر کو اپنے گیت میں جگہ دی۔

ساحر لدھیانوی کی ترقی پسند فکر ان کے فلمی نغموں میں بھی نمایاں رہی۔ انہیں گرودت، بی آر چوپڑا اور یش چوپڑا جیسے فلم سازوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ان میں سے بعض فلم سازوں کے اپنے ترقی پسندانہ رجحانات بھی ساحر کی فکری ترجیحات سے ہم آہنگ تھے۔ اس طرح انہیں اپنے خیالات کو وسیع عوامی حلقوں تک پہنچانے کا موقع ملا۔

ان کا یہ پیغام آج بھی انسان دوستی کی بہترین مثال ہے:

’’تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا

انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا‘‘

ان مصرعوں میں مذہبی شناخت سے بالاتر ہو کر انسانیت کو بنیادی اہمیت دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ساحر کی شاعری کی یہی خوبی انہیں محض ایک رومانوی شاعر کے بجائے ایک حساس سماجی اور انقلابی شاعر کا مقام عطا کرتی ہے۔

ان کی شاعری میں غربت، بھوک، افلاس، غلامی، طبقاتی تقسیم اور انسانی محرومیوں کا ذکر بھی بار بار ملتا ہے۔ وہ ذاتی غم سے آگے بڑھ کر اجتماعی دکھ کو اپنی تخلیقات کا موضوع بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک شاعر کی ذمہ داری صرف اپنے جذبات بیان کرنا نہیں بلکہ اپنے عہد کے مسائل کو محسوس کرنا اور ان پر آواز اٹھانا بھی ہے۔ اسی لیے ان کے کلام میں محبت کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف اور انسانی وقار کی جستجو بھی دکھائی دیتی ہے۔

ساحر کی شاعری کی ایک بڑی خوبی اس کی سادہ اور عام فہم زبان ہے۔ وہ مشکل الفاظ اور پیچیدہ تراکیب کے بجائے روزمرہ زبان میں گہرے جذبات بیان کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی نظم ’’ردِعمل‘‘ کے یہ اشعار ان کے منفرد احساس کی عکاسی کرتے ہیں:

’’چند کلیاں نشاط کی چن کر

مدتوں محوِ یاس رہتا ہوں

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں‘‘

اسی طرح ان کے یہ اشعار انسانی تعلقات کی پیچیدگی اور زندگی کے تلخ تجربات کو بیان کرتے ہیں:

’’تعارف روگ بن جائے تو اس کو بھولنا بہتر

تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن

اسے اک خوب صورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا‘‘

ان اشعار میں جذبات کی گہرائی، تجربے کی پختگی اور زندگی کی حقیقتوں کو قبول کرنے کا حوصلہ نمایاں ہے۔ یہی خصوصیات ان کے کلام کو وقت کی قید سے آزاد کرتی ہیں۔

ساحر لدھیانوی نے اپنی زندگی میں محبت، محرومی اور سماجی ناانصافی کے مختلف رنگ دیکھے۔ ان کا سفر لدھیانہ سے شروع ہوا اور وہ 25 اکتوبر 1980 کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ وہیں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔