بالی ووڈ

مکیش: خوبصورت نغموں کا بادشاہ، جس کی آواز میں دوسروں کا درد بھی بولتا تھا

مکیش نے درد بھرے نغموں سے شہرت پائی، مگر ان کی اصل پہچان حساس اور انسان دوست شخصیت بھی تھی۔ ایک بیمار بچی کی خواہش پوری کرنے اسپتال پہنچنا ان کے نرم دل ہونے کی خوبصورت مثال ہے

<div class="paragraphs"><p>عظیم گلوکار مکیش / سوشل میڈیا</p></div>

عظیم گلوکار مکیش / سوشل میڈیا

 

مکیش کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ایسی آواز ابھرتی ہے جس میں اداسی، تنہائی، محبت اور زندگی کی شکست و ریخت سب ایک ساتھ محسوس ہوتی ہیں۔ تین دہائیوں پر محیط اپنے مختصر مگر شاندار فلمی سفر میں انہوں نے سیکڑوں گیت گائے اور اپنی منفرد آواز سے ہندوستانی فلمی موسیقی میں ایک ایسا مقام بنایا جو آج بھی برقرار ہے۔ لیکن مکیش کی شخصیت کا ایک پہلو ان کی گائیکی سے بھی زیادہ دل کو چھوتا ہے: وہ صرف پردے کے کرداروں کا درد نہیں گاتے تھے، بلکہ حقیقی زندگی میں بھی دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے والے انتہائی حساس اور انسان دوست انسان تھے۔

27 اگست 1976 کو دنیا سے رخصت ہونے والے مکیش چند ماتھر کی پیدائش 22 جولائی 1923 کو دہلی میں ہوئی۔ ان کے والد لالہ زورآور چند ماتھر انجینئر تھے اور چاہتے تھے کہ بیٹا بھی ایک محفوظ پیشہ اختیار کرے، لیکن مکیش کے دل میں موسیقی اور اداکاری کی دنیا آباد تھی۔ وہ عظیم گلوکار و اداکار کندن لال سہگل کے بڑے مداح تھے اور انہی کی طرح گلوکاری کے ساتھ اداکاری کا خواب دیکھتے تھے۔

دسویں جماعت کے بعد مکیش نے تعلیم ترک کی اور دہلی کے محکمہ تعمیرات میں اسسٹنٹ سرویئر کی ملازمت اختیار کر لی۔ تاہم قسمت نے ان کے لیے کچھ اور طے کر رکھا تھا۔ ایک خاندانی شادی میں مکیش کو گاتے ہوئے ان کے دور کے رشتے دار اور معروف اداکار موتی لال نے سنا۔ وہ ان کی آواز سے اس قدر متاثر ہوئے کہ 1940 میں مکیش کو بمبئی لے آئے اور پنڈت جگن ناتھ پرساد سے موسیقی کی تربیت کا انتظام کیا۔

مکیش نے گلوکاری کے ساتھ اداکاری میں قسمت آزمانے کی اپنی خواہش بھی پوری کرنے کی کوشش کی۔ 1940 کی فلم ’نردوش‘ میں انہیں اداکاری کے ساتھ گانے کا موقع ملا۔ اس فلم میں انہوں نے ’دل ہی بجھا ہوا ہو تو‘ گایا، مگر فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ ’دکھ سکھ‘ اور ’آداب عرض‘ سمیت چند دیگر فلموں میں بھی اداکاری کے باوجود وہ اپنی شناخت قائم نہ کرسکے۔

موتی لال نے پھر انہیں موسیقار انل وشواس سے ملوایا۔ 1945 میں فلم ’پہلی نظر‘ کے لیے مکیش نے انل وشواس کی موسیقی میں ’دل جلتا ہے تو جلنے دے‘ گایا۔ یہ گیت ان کے ابتدائی کیریئر کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ مکیش نے اسے کے ایل سہگل کے انداز میں گایا تھا۔ روایت ہے کہ سہگل نے یہ گیت سن کر کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے یہ گیت کب ریکارڈ کیا تھا۔ مکیش کی صلاحیت سے متاثر ہوکر انہوں نے انہیں اپنا جانشین بھی قرار دیا۔

ابتدائی دور میں سہگل کی گائیکی کا اثر مکیش پر نمایاں تھا، لیکن 1948 کی فلم ’انداز‘ کے بعد انہوں نے اپنی گائیکی کا الگ اور منفرد انداز اختیار کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب مکیش کی آواز محض سہگل کی نقل سے نکل کر اپنی شناخت بننے لگی۔ اداکاری کا خواب تاہم ان کے دل میں موجود رہا۔ 1953 کی ’معشوق‘ اور 1956 کی ’انوراگ‘ جیسی فلموں کی ناکامی کے بعد انہوں نے بالآخر اپنی تمام توجہ پلے بیک گائیکی پر مرکوز کر دی۔ 1958 کی فلم ’یہودی‘ کے گیت ’یہ میرا دیوانہ پن ہے‘ نے ان کی مقبولیت کو نئی بلندی دی اور پھر مکیش نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

راج کپور کی آواز کے طور پر بھی مکیش کی ایک الگ شناخت قائم ہوئی۔ ’آوارہ‘، ’شری 420‘ اور بعد کی متعدد فلموں میں ان کی آواز نے راج کپور کے کرداروں کے جذبات کو ایسی شدت دی کہ دونوں کا نام ایک دوسرے سے جڑ گیا۔ راج کپور نے مکیش کی وفات کی خبر سن کر جو جملہ کہا، وہ اس تعلق کی گہرائی بیان کرتا ہے: ’’مکیش کے جانے سے میری آواز اور روح، دونوں چلی گئیں۔‘‘

مکیش نے 200 سے زیادہ فلموں کے لیے گیت گائے اور انہیں چار مرتبہ فلم فیئر کے بہترین گلوکار کا ایوارڈ ملا۔ 1974 میں ’رجنی گندھا‘ کے گیت ’کئی بار یوں بھی دیکھا ہے‘ پر انہیں قومی فلم ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

لیکن مکیش کو صرف ایوارڈز اور مقبول گیتوں سے یاد کرنا ان کی شخصیت کو محدود کر دینا ہوگا۔ ان کی انسان دوستی کا ایک واقعہ آج بھی ان کے نرم دل ہونے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک بیمار لڑکی کی خواہش تھی کہ اگر مکیش اس کے لیے گانا گا کر سنائیں تو شاید وہ بہتر محسوس کرے۔ گھر والوں کو یقین تھا کہ اتنے بڑے گلوکار کے پاس اس کے لیے وقت کہاں ہوگا، مگر جب مکیش کو اس کی بیماری کا علم ہوا تو وہ فوراً اسپتال پہنچ گئے۔ انہوں نے لڑکی کے لیے گانا گایا اور اس کے بدلے ایک پیسہ بھی قبول نہیں کیا۔

لڑکی کے چہرے پر خوشی دیکھ کر مکیش نے کہا کہ وہ جتنی خوشی اسے اپنے آنے سے دے سکے، اس سے کہیں زیادہ خوشی خود انہیں وہاں آ کر ملی ہے۔

شاید یہی مکیش کی آواز کا اصل راز بھی تھا۔ وہ صرف درد کو گاتے نہیں تھے، اسے محسوس کرتے تھے۔ اسی لیے ان کے گیتوں کی اداسی مصنوعی محسوس نہیں ہوتی۔ ان کی آواز میں ایک ایسے انسان کا دل دھڑکتا تھا جو دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھتا تھا۔ 27 اگست 1976 کو امریکہ میں ایک کنسرٹ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا، مگر ان کی آواز آج بھی زندہ ہے اور شاید اس لیے کہ اس میں صرف موسیقی نہیں، انسان کا درد اور انسان کے لیے محبت بھی شامل تھی۔

(ان پٹ: یو این آئی)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔