
عظیم گلوکار مکیش / سوشل میڈیا
ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں چند آوازیں ایسی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی تاثیر برقرار رکھتی ہیں۔ ایسی ہی ایک لازوال آواز مکیش کی تھی، جنہیں درد بھرے نغموں کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے۔ ان کے گیت آج بھی سامعین کے دلوں میں اسی طرح زندہ ہیں، جیسے نصف صدی قبل تھے۔ ان کی آواز میں ایسا درد، سادگی اور خلوص تھا کہ ہر سننے والا اسے اپنے جذبات کی ترجمانی محسوس کرتا تھا۔
22 جولائی 1923 کو دہلی کے ایک متوسط پنجابی خاندان میں پیدا ہونے والے مکیش چندر ماتھر نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ برصغیر کے عظیم ترین پلے بیک گلوکاروں میں شمار کیے جائیں گے۔ ان کا خواب ایک کامیاب اداکار بننے کا تھا، لیکن قسمت نے ان کے لیے گلوکاری کا وہ راستہ منتخب کیا جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
مکیش نے دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد دہلی پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت اختیار کی، لیکن موسیقی سے لگاؤ انہیں فلمی دنیا کی جانب کھینچ لایا۔ گلوکار اور اداکار کندن لال سہگل کے وہ بے حد مداح تھے اور ان ہی کی طرح گلوکاری اور اداکاری دونوں میدانوں میں نام کمانا چاہتے تھے۔
ان کی زندگی کا اہم موڑ اس وقت آیا جب معروف اداکار موتی لال نے ایک خاندانی تقریب میں ان کی آواز سنی اور انہیں بمبئی لے آئے۔ یہاں انہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی اور فلمی دنیا میں اپنی قسمت آزمائی شروع کی۔ ابتدا میں انہیں بطور اداکار چند فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا، لیکن ان کی فلمیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
سال 1945 میں فلم ’پہلی نظر‘ کے گیت ’دل جلتا ہے تو جلنے دے‘ نے انہیں پہلی بڑی شناخت عطا کی۔ اس گیت کو سن کر کئی لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ اسے کندن لال سہگل نے گایا ہے۔ خود سہگل نے بھی مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ انہیں یاد نہیں کہ انہوں نے یہ گیت کب گایا۔ اس واقعے نے مکیش کی صلاحیتوں کو پوری فلمی صنعت کے سامنے نمایاں کر دیا۔
ابتدائی دنوں میں مکیش کی گلوکاری پر سہگل کا گہرا اثر تھا، لیکن موسیقار نوشاد کی رہنمائی میں انہوں نے اپنا منفرد انداز اختیار کیا۔ فلم ’انداز‘ کے بعد ان کی آواز نے ایک نئی پہچان حاصل کی اور وہ ہندوستانی فلمی موسیقی کے اہم ترین ستونوں میں شمار ہونے لگے۔
مکیش کے فلمی سفر کا ایک اہم باب راج کپور کے ساتھ ان کی رفاقت ہے۔ راج کپور اور مکیش کی جوڑی نے فلمی تاریخ کو کئی لازوال نغمے دیے۔ راج کپور پر فلمائے گئے بیشتر یادگار گیت مکیش کی آواز ہی میں ریکارڈ کیے گئے۔ یہی وجہ تھی کہ مکیش کے انتقال کے بعد راج کپور نے کہا تھا، ’میری تو آواز ہی چلی گئی، کیونکہ مکیش میری آواز تھے۔‘
مکیش نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر میں دو سو سے زائد فلموں کے لیے گیت گائے۔ ان کے نغموں نے متعدد فلموں کو ایسی زندگی بخشی کہ آج بھی ان فلموں کا ذکر ان کے گیتوں کے بغیر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ ’سنگم‘، ’ملن‘، ’پہچان‘، ’شور‘، ’روٹی کپڑا اور مکان‘، ’کبھی کبھی‘، ’تیسری قسم‘، ’آنند‘ اور ’آوارہ‘ جیسی فلمیں اس کی روشن مثال ہیں۔
ان کے چند لازوال گیتوں میں ’دوست دوست نہ رہا‘، ’جانے کہاں گئے وہ دن‘، ’کسی کی مسکراہٹوں پہ ہو نثار‘، ’میں نے تیرے لیے ہی سات رنگ کے سپنے چنے‘، ’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘، ’میں پل دو پل کا شاعر ہوں‘، ’سجن رے جھوٹ مت بولو‘ اور ’میرا جوتا ہے جاپانی‘ آج بھی موسیقی کے شائقین کی پسندیدہ فہرست میں شامل ہیں۔
اگرچہ مکیش کو درد بھرے گیتوں کے لیے سب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے، لیکن انہوں نے محبت، خوشی، فلسفے اور روحانیت کے جذبات کو بھی اپنی آواز کے ذریعے بے مثال انداز میں پیش کیا۔ یہی ان کی فنی عظمت تھی کہ وہ ہر کیفیت کو سامعین کے دل تک پہنچانے کا ہنر رکھتے تھے۔
مکیش صرف ایک عظیم فنکار ہی نہیں بلکہ انتہائی حساس اور انسان دوست شخصیت کے مالک بھی تھے۔ ایک مرتبہ ایک بیمار لڑکی نے خواہش ظاہر کی کہ اگر مکیش اسے کوئی گانا سنا دیں تو شاید وہ بہتر محسوس کرے۔ اطلاع ملتے ہی مکیش اسپتال پہنچ گئے، اسے گانا سنایا اور کوئی معاوضہ لینے سے انکار کر دیا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ جتنی خوشی اس لڑکی کو انہیں دیکھ کر ہوئی، اس سے کہیں زیادہ خوشی انہیں وہاں آ کر محسوس ہوئی۔
اپنے شاندار کیریئر کے دوران مکیش کو چار مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ فلم ’رجنی گندھا‘ کے گیت ’کئی بار یوں بھی دیکھا ہے‘ کے لیے انہیں قومی ایوارڈ بھی ملا۔ وہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے مرد پلے بیک گلوکار بھی تھے۔
سال 1976 میں راج کپور کی فلم ’ستیم شیوم سندرم‘ کے گیت ’چنچل، نرمَل، شیتل، کومل‘ کی ریکارڈنگ مکمل کرنے کے بعد وہ امریکہ میں ایک کنسرٹ کے سلسلے میں گئے، جہاں 27 اگست 1976 کو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال نے موسیقی کی دنیا میں ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے آج تک پُر نہیں کیا جا سکا۔
مکیش آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی آواز وقت کی سرحدوں سے آزاد ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نغمے آج بھی نئی نسل کے کانوں میں رس گھولتے ہیں اور پرانی نسل کے دلوں کو ماضی کی حسین یادوں سے جوڑ دیتے ہیں۔ درد کے اس بادشاہ نے اپنی آواز سے نہ صرف بے شمار گیتوں کو امر کیا بلکہ کئی فلموں کو بھی لازوال بنا دیا۔
(ان پٹ: یو این آئی)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔