بالی ووڈ

کیفی اعظمی: شاعری اور نغمہ نگاری کے ذریعے سماجی شعور کو آواز دینے والا فنکار

کیفی اعظمی اردو شاعری اور فلمی نغمہ نگاری کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے سماجی ناانصافی، طبقاتی جدوجہد اور انسان دوستی کو اپنے فن کا مرکز بنایا اور ترقی پسند فکر کو عوام تک پہنچایا

<div class="paragraphs"><p>کیفی اعظمی / سوشل میڈیا</p></div>

کیفی اعظمی / سوشل میڈیا

 

اردو ادب اور ہندوستانی فلمی موسیقی کے لیے چودہ جنوری ایک اہم دن ہے، کیونکہ اس روز اردو کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار اور ترقی پسند تحریک کے نمایاں ستون کیفی اعظمی کی پیدائش ہوئی۔ کیفی اعظمی نے شاعری اور فلمی نغموں کے ذریعے سماجی ناانصافی، طبقاتی جدوجہد، انسان دوستی اور محبت جیسے موضوعات کو غیر معمولی حساسیت اور سادگی کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا فن محض جمالیاتی اظہار نہیں تھا بلکہ ایک با شعور سماجی موقف بھی تھا، جو عوامی مسائل سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔

کیفی اعظمی کی پیدائش 14 جنوری 1919 کو اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے مجواں گاؤں میں ہوئی۔ ان کا اصل نام اطہر حسین رضوی تھا۔ ان کے والد سید فتح حسین رضوی نانپارہ کے قریب نواب قزلباش کے تعلقہ نواب گنج میں تحصیل دار تھے اور بعد میں بہرائچ شہر کے محلہ قاضی پورہ میں مقیم رہے۔ اسی وجہ سے کیفی اعظمی کے بچپن کے کئی برس بہرائچ میں گزرے۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرے، اسی مقصد کے تحت کیفی کا داخلہ لکھنؤ کے معروف مدرسے ’’سلطان المدارس‘‘ میں کرا دیا گیا۔

Published: undefined

کیفی اعظمی نے کم عمری ہی میں شاعری کا آغاز کر دیا تھا۔ محض 11 برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا اور مشاعروں میں شرکت بھی کرنے لگے۔ ابتدا میں اکثر لوگوں، حتیٰ کہ ان کے والد کو بھی یہ شبہ رہتا تھا کہ وہ اپنے بڑے بھائی کی غزلیں پڑھتے ہیں۔ ایک مرتبہ والد نے ان کا امتحان لینے کے لیے ایک مصرعہ طرح دیا اور اس پر غزل کہنے کو کہا۔ کیفی نے اس چیلنج کو قبول کیا اور پوری غزل لکھ ڈالی۔ یہ غزل بعد میں بے حد مقبول ہوئی اور مشہور گلوکارہ بیگم اختر نے اسے اپنی آواز دی۔ اس غزل کا مطلع تھا:

اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے

ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے

کیفی اعظمی مشاعروں میں نظمیں پڑھنے کے بے حد شوقین تھے۔ اس شوق کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ ڈانٹ بھی سننی پڑی۔ ایسے مواقع پر وہ روتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس جاتے اور کہتے، ’’اماں، دیکھنا ایک دن میں بہت بڑا شاعر بن کر دکھاؤں گا۔‘‘ یہ جملہ ان کے اندر چھپے ہوئے عزم اور خود اعتمادی کی واضح علامت تھا۔

Published: undefined

تعلیم کے دوران مدرسے کے غیر منظم حالات نے کیفی اعظمی کو بے چین کر دیا۔ انہوں نے وہاں طلبا یونین قائم کی اور طلبا کو ہڑتال پر جانے کی اپیل کی۔ یہ ہڑتال تقریباً ڈیڑھ برس تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں مدرسہ انتظامیہ کے لیے کیفی اعظمی ایک مشکل بن گئے۔ بالآخر ہڑتال کے خاتمے کے بعد انہیں مدرسے سے نکال دیا گیا۔ اگرچہ یہ واقعہ ان کے لیے ایک دھچکا تھا، لیکن اسی کے ساتھ ان کی شخصیت میں قیادت اور مزاحمت کے عناصر مزید واضح ہو گئے۔

اس ہڑتال کے دوران کئی ترقی پسند مصنفین کیفی اعظمی کی قیادت اور فکر سے متاثر ہوئے۔ انہیں کیفی میں ایک ابھرتا ہوا شاعر دکھائی دیا۔ ان لوگوں نے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کی بلکہ ہر ممکن تعاون کی پیشکش بھی کی۔ اسی مرحلے پر ایک طالب علم رہنما اطہر حسین نے ایک شاعر کے طور پر ’’کیفی اعظمی‘‘ کی شکل اختیار کی۔

Published: undefined

سال 1942 میں انہیں اردو اور فارسی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لکھنؤ اور الہ آباد بھیجا گیا، لیکن اسی دوران انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکنیت اختیار کر لی اور ایک سرگرم کارکن کے طور پر کام شروع کیا۔ وہ ’’بھارت چھوڑو تحریک‘‘ میں بھی شامل رہے۔ اس سیاسی وابستگی نے ان کی شاعری کو مزید نظریاتی گہرائی عطا کی۔

مشاعروں میں ان کی شرکت مسلسل جاری رہی۔ 1947 میں ایک مشاعرے کے سلسلے میں وہ حیدرآباد پہنچے، جہاں ان کی ملاقات شوکت سے ہوئی۔ یہ ملاقات جلد ہی رشتۂ ازدواج میں بدل گئی۔ آزادی کے بعد ان کے والد اور بھائی پاکستان چلے گئے، لیکن کیفی اعظمی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور اپنی شناخت اسی سرزمین سے جوڑے رکھی۔

Published: undefined

شادی کے بعد اخراجات میں اضافہ ہوا تو کیفی اعظمی نے ایک اردو اخبار کے لیے لکھنا شروع کیا، جہاں انہیں 150 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی۔ ان کی پہلی نظم ’سرفراز‘ لکھنؤ میں شائع ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے روزنامہ اخبار کے لیے مزاحیہ اور طنزیہ شاعری بھی لکھی۔ مالی ضروریات کے پیش نظر انہوں نے فلموں کے لیے نغمے لکھنے کا فیصلہ کیا۔

فلمی دنیا میں بھی کیفی اعظمی نے یادگار خدمات انجام دیں۔ انہوں نے سب سے پہلے شاہد لطیف کی فلم ’بزدل‘ کے لیے دو نغمے لکھے، جن کے عوض انہیں ایک ہزار روپے ملے۔ 1959 میں فلم ’کاغذ کے پھول‘ کے لیے لکھا گیا نغمہ ’وقت نے کیا کیا حسیں ستم‘ آج بھی کلاسیکی حیثیت رکھتا ہے۔ 1965 میں فلم ’حقیقت‘ کے نغمے، خصوصاً ’کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو‘ نے انہیں عروج کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

Published: undefined

کیفی اعظمی نے فلم ’گرم ہوا‘ کی کہانی، مکالمے اور اسکرین پلے تحریر کیے، جس پر انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فلم ’ہیر رانجھا‘ کے منظوم مکالمے ہوں یا شیام بینیگل کی فلم ’منتھن‘ کی اسکرپٹ، ہر جگہ ان کا فکری اور تخلیقی وقار نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری میں عوامی مسائل، محنت کش طبقے کی آواز اور عورت کی خود مختاری نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ ان کے اہم شعری مجموعوں میں ’جھنکار‘، ’آخرِ شب‘، ’سرمایہ‘، ’میری آواز سنو‘ اور ’آوارہ سجدے‘ شامل ہیں۔

زندگی کے آخری برسوں میں، تقریباً 75 برس کی عمر کے بعد، کیفی اعظمی نے اپنے آبائی گاؤں مجواں میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ شاعری اور نغمہ نگاری کے ذریعے نسلوں کو متاثر کرنے والا یہ عظیم فنکار 10 مئی 2002 کو اس دنیا سے رخصت ہوا، مگر اس کا تخلیقی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔

(ان پٹ: یو این آئی)

Published: undefined