بالی ووڈ

سونو کے ٹیٹو کی سویٹی: بے کار اور پھوہڑ کامیڈی

اسی موضوع پر بنائی گئی ان کی دوسری فلم ’پیار کا پنچ نامہ-2‘ بھی باکس آفس پر نہیں چل پائی تھی اور ’سونو کے ٹیٹو کی سویٹی‘ تو قطعی ناقابل برداشت ہے۔

بشکریہ سوشل میڈیا
بشکریہ سوشل میڈیا فلم ’سونو کے ٹیٹو کی سویٹی‘ کا پوسٹر

کیا زندگی صرف مرد اور عورت کے درمیان چل رہی رسہ کشی کا نام ہے جس سے فلم کے ہدایت کار لو رنجن (نام پر غور فرمائیں) نکلنا نہیں چاہتے ؟ یا اسنانی رشتے صرف دوستوں اور جنسی تعلقات کے درمیان چل رہی جد و جہد تک ہی سمٹے ہوتے ہیں؟ فلم ’پیار کا پنچ نامہ‘سے شہرت حاصل کرنے والے فلم ہدایت کار لو رنجن کی تازہ فلم بھی لڑکیوں کی کھنچائی کرنے کے اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ اسی موضوع پر بنائی گئی ان کی دوسری فلم ’پیار کا پنچ نامہ-2‘ بھی باکس آفس پر نہیں چل پائی تھی اور ’سونو کے ٹیٹو کی سویٹی‘ تو قطعی ناقابل برداشت ہے۔

فلم کو دیکھ کر یہ شبہ ہونے لگتا ہے کہ کہیں ڈائریکٹر خواتین سے نفرت تو نہیں کرتے۔ ان کی پہلی فلم ’پیار کا پنچ نامہ ‘ کو کے کر ایک لمبے اور الجھے ہوئے نام کی فلم تک وہ خواتین کے کمزور ارادوں، ان کے مطلبی ہونے اور مردوں کو قابو میں رکھنے کی مبینہ عادت کا زور شور سے ڈھنڈورہ پیٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ (لیکن معاف کیجئے کیا یہی سب عادتیں مردوں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ہیں؟)

Published: 25 Feb 2018, 6:24 PM IST

ہاں، لیکن ایک بات کی تو ڈائریکٹر میں کچھ سمجھ پیدا ہوئی ہے۔ اپنی پہلی فلم میں وہ گرل فرینڈ کی خامیاں شمار کر رہے تھے (کہ جنسی تعلقات کے علاوہ کس طرح وہ اپنے بوائے فرینڈ کی زندگی دوزخ بنا دیتی ہیں) اور اس فلم میں وہ شادی کی بات کر رہے ہیں (جس میں جنسی تعلقات بے حد ضروری ہوتے ہیں!) یعنی سیکس سے علیحدہ یا اس کے ساتھ ہی مرد اور خاتون کے درمیان کوئی تعلق یا کوئی بندھن ہو سکتا ہے اور مردوں کی بالا دستی والسے سماج میں خواتین ان کے استحصال کے نت نئے طریقہ نکلاتی رہتی ہیں۔ (کاش دنیا اور سماج کو اتنی آسانی سے سمجھا جا سکتا!)

کہانی سیدھی سی ہے۔ سونو اور ٹیٹو بہت قریبی دوست ہیں۔ سمجھ لیجیے دیوں کے بیچ دانت کاٹی روٹی کا تعلق ہے۔ ٹیٹو امیر اور بگڑیل لڑکا ہے جسے ہر خوبصورت نظر آنے والے لڑکی سے عشق ہو جاتا ہے۔ سونو ’ہوشیار ‘اور محتاط ہے جو ٹیٹو کو ان دھوکہ باز لڑکیوں کے جال سے نجات دلاتا ہے جو اسے اپنے عشق میں (یعنی جنسی تعلقات ) میں باندھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ آخر کار ٹیٹو کی زندگی میں آتی ہے سویٹی۔ جو خوبصورت ہے، ہاٹ ہے اور ’مہذب‘ بھی۔ (بھلا ایسا حسین اتفاق آج کہاں ملتا ہے)۔ لیکن سونو کو اس لڑکی کی سادگی پر شک ہوتا ہے ۔ اور ایک روایتی عشق کے درمیان سویٹی ظاہر بھی کر دیتی ہے کہ وہ اتنی بھی شریف نہیں ہے۔ بس یہیں سے’بھائی‘ اور ’ہونے والی دہلن‘ کے بیچ جدوجہد کا آغاز ہو جاتا ہے۔ سویٹی چیلنج کرتی ہے کہ ’لڑکی اور دوستی کے بیچ جیت لڑکی کی ہوتی ہے!‘ اور پوری فلم اس ڈائیلاگ کو غلط ثابت کرنے کے سونو کے مشن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

بیچ بیچ میں کچھ نازیبا ڈائیلاگز ہیں، کچھ مزاحیہ مناظر ہیں (جو زیادہ تر سیکس سے وابستہ لطیفوں اور نازیبا مذاق پر ہی مبنی ہیں)، جو بے شک ہنساتے ہیں۔ یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ آلوک ناتھ آخر کار اپنی مہذب شبیہ سے کنارہ کر کے ایک مزاحیہ دادا کے کردادر میں رونما ہوئے ہیں ۔ لیکن ان کا کردار بھی سیکس اور سیکس پر مبنی جملوں کے ارد گرد ہی گردش کرتا ہوا اور خاتون مخالف ہی نظر آتا ہے۔ سونو اورسویٹی کے بیچ کی یہ کھینچ تان جنسی رسہ کشی زیادہ محسوس ہوتی ہے جو آخر کار ناظرین کے لئے ناخوشگوار احساس بن کر انجام کو پہنچتی ہے۔

خواتین کو محض ایک جنسی آبجیکٹ اور ایک چیز کی طرح دکھانے اور پیش کرنے کا رواج ہندوستانی سنیما میں شاید نہیں بات نہیں ہے۔ لیکن لو رنجن کی فلمیں اسے بیہودہ اور لاؤڈ بنا دیتی ہیں۔ اور وہ اس سے ابرے نہیں ہیں شاید اس لئے کہ ان کی فلموں کو کمرشیل کامیابی نہیں ملی۔ پھر بھی آج کے ماحول میں جہاں ’شادی میں ضرور آنا‘، ’بریلی کی برفی‘ اور ’پیڈ مین ‘ جیسی فلموں کو کمرشیل کامیابی حاصل ہوئی اور سماج میں میں مثبت پیغام بھی گیا کیوں کہ ان میں کاتون کو محض ایک سیکس آبجیکٹ نہیں بلکہ ایک شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ سیکسسٹ کامیڈی کو اپنا کاص اسٹائیل بنا لینا نہ تو دیر تک چل پائے گا اور نہ ہی اسے طویل مدتی واہوہی حاصل ہو سکتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری کو یہ احساس ہو کہ تعلقات میں سیکس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جس پر ہنسا اور ہنسایا جا سکتا ہے کیوں کہ اس دور میں مثبت فلمیں بن بھی رہی جہیں اور کامیاب بھی ہو رہی ہیں۔ حالانکہ ناظرین کا ایک طبقہ (خاص طور پر نوجوان لڑکے)موجود ہے جو اس فلم کے غیر سنجیدہ اور بیہودہ مذاق کا مزہ لیگا لیکن یہ فلم آخر کار ایک بے کار اور پھوہڑ کامیڈی بھر ہے، اس کے سوائے کچھ بھی نہیں۔

Published: 25 Feb 2018, 6:24 PM IST

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 25 Feb 2018, 6:24 PM IST